بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو پیش کی گئی چائے کی پہلی سالگرہ کا چرچہ

ایک طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف جارحانہ لب و لہجہ اختیار کیا ہے جس کا پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بھرپور جواب دیا ہے اور بھارتی وزیراعظم کا دہشت گردی سے بھرپور چہرہ پوری دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جبکہ پاکستان کے آرمی چیف نے بھی بھارت کو چپ کرا دیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی پاکستان میں گرفتاری کے بعد اسے پیش کی گئی چائے کی پہلی سالگرہ کا چرچا ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت دلچسپ تبصرے جاری ہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی سیاستدانوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ مزید کسی حماقت سے گریز کریں ورنہ اس مرتبہ چائے نہیں کچھ اور ملے گا ۔

مودی کی پاکستان پر حملے کی کوشش آخری غلطی ہوگی، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان کو 10 روز میں فتح کرنے کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کی پاکستان کو فتح کرنے کی کوشش اس کی آخری غلطی ہوگی۔

آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد کیے گئے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘میں آج میر پور ایک خاص وجہ سے آیا ہوں، مقبوضہ کشمیر میں ہمارے 80 لاکھ بہنیں، بچے، بزرگ اور نوجوان جس مشکل ترین امتحان سے گزر رہے ہیں، آج کے جلسے کا مقصد ان کو پیغام دینا ہے کہ سارا پاکستان مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے مقبول عمل مشکل وقت میں صبر کرنا ہے اور میں کشمیر کی عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کے لیے اچھا وقت آنے والا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نریندر مودی نے 6 ماہ قبل تکبر میں حماقت کی اور اُس کی اِس غلطی کی وجہ سے میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ کشمیر اب جلد آزاد ہوگا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘5 اگست سے قبل دنیا کشمیر کو بھول چکی تھی، کوئی کشمیر کا نام ہی نہیں لیتا تھا تاہم گزشتہ 6 ماہ میں کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر آگیا ہے’۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘بھارت نے دنیا سے ہمیشہ کہا ہے کہ کشمیر، پاکستان اور ان کا اندرونی مسئلہ ہے اور جب ہم بات کرتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی بات نہ کرو آزاد کشمیر کی بات کرو جبکہ پاکستان کے اسلامی ممالک میں دوست بھی کشمیر کی بات نہیں کرتے تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مودی نے نفرت پھیلا کر اور خود کو چوکیدار بتاتے ہوئے بالاکوٹ میں ہمارے درخت شہید کرکے دہشت گرد مارنے اور ہمارے 2 جہاز گرانے کا دعویٰ کرکے انتخابات کو بھاری اکثریت سے جیتا، جس کے بعد اس نے تکبر میں 5 اگست کا قدم اٹھایا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے پر امن رہنے کا فیصلہ کیا اور ان کے بڑی موچھوں والے پائلٹ (ابھی نندن) کو واپس کردیا لیکن پھر بھی نریندر مودی ساری انتخابی مہم میں پاکستان کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی نے اپنے انتخابی مہم نفرت پر چلائی اور نفرت پر ووٹ لینے والا ہمیشہ تباہ و برباد ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ ایک منصوبہ انسان بناتا ہے اور ایک اللہ بناتا ہے اور کامیاب خدا کا منصوبہ ہی کامیاب ہوتا ہے اور مودی کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 6 مہینے میں 3 مرتبہ کشمیر، اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیر بحث آیا ہے اور یہ 1965 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے جبکہ یورپی پارلیمنٹ نے بھارت کے کشمیری عوام پر مظالم کا اعتراف کرتے ہوئے بھارت سے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ‘میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کا سفیر بنوں گا، میں یہاں وزیر اعظم پاکستان نہیں کشمیر کا سفیر بن کر کھڑا ہوں’۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘5 اگست کے بعد میں نے جس بھی دنیا کے لیڈر سے بات کی انہیں کشمیر کے مسئلے سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے آج دنیا کشمیر کے حالات کے بارے میں جان چکی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مقبوضہ کشمیر کے لوگوں میں دہشت پھیلا کر انہیں مجبور کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے، آج دنیا کا یہی مطالبہ ہے کشمیر کو لاک ڈاؤن سے نکالو’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر میں زیادہ دیر تک اب یہ کرفیو جاری نہیں رہ سکتا اور جس دن یہ کرفیو اٹھایا گیا ایک انسانوں کا سمندر نکلے گا اور آزادی کی آواز آئے گی جس کے بعد مودی کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہے گا’۔
نریندر مودی کے 10 روز میں پاکستان کو فتح کرنے کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ‘نریندر مودی کا پاکستان کو فتح کرنے کے بیان سے لگتا ہے کہ اس نے دنیا کی تاریخ نہیں پڑھی، اس کی ڈگری جعلی تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ جو تکبر بھرا بیان مودی نے دیا، میں اسے بتانا چاہوں گا کہ دنیا کی طاقتور فوج کے جنرلز نے بھی کہا تھا کہ چند ہفتوں میں افغانستان فتح کرلیں گے، آج انہیں 19 سال ہوگئے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مودی اس قوم کو للکار رہا ہے جو شہادت سے کبھی نہیں گھبراتی اور اگر اس نے یہ غلطی کی تو یہاں رہنے والے 20 کروڑ پاکستانی اپنی آخری سانس تک لڑیں گے’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘پاکستان کی فوج نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ہے بڑی بڑی فوجیں اس سے زیادہ وسائل کے ساتھ بھی ایسا نہیں کرسکتیں، مودی غلط فہمی میں نہ رہنا یہ تمہاری آخری غلطی ہوگی’۔

انہوں نے کشمیر کی 80 لاکھ عوام کو پیغام دیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی عوام دعاگو ہیں کہ اللہ آپ کو ہمت دے اور جب بھی کشمیریوں کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے’۔

آخر میں انہوں نے کشمیر اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی ظلم اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں، بھارت کا ظلم کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول سے نہیں روک سکتا۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد کامیابیوں سے ہمکنار ہو کر رہے گی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں جیو اسٹریٹجک صورتحال، ملک کی سیکیورٹی اور سرحدوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی قیادت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات غیرذمہ دارانہ اور خطے کے لیے نقصان دہ ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نظم و ضبط اور امن کی افواج ہیں، کسی بھی مہم جوئی کو ناکام بنانے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی مہم جوئی کو ناکام بنائیں گے خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی ظلم اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں، بھارت کا ظلم کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول سے نہیں روک سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کے ذریعہ دے رکھا ہے، مشکلات کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد کامیابیوں سے ہمکنار ہوکر رہے گی۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں آپریشن ردالفساد کی پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی اور کہا گیا کہ آپریشن ردالفساد نے ملک کو مثبت اور امن و سلامتی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں