جو سیاسی انجینئیرنگ اور ووٹ کی غلط گنتی سے حکومت بنائی جاتی ہے اس کو تو ہٹانا جنگی مشق کے دوران کسی سرحدی نہر پر عارضی پل بنانے سے زیادہ مشکل نہیں

عہد بے وفا
قومی حکومت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے گذشتہ انتخابات میں آئین اور ملک سے غداری کرتے ہوئے عوام کا ووٹ چوری کیا۔ ان نیم تعلیم یافتہ سازشیوں کے نزدیک ووٹ کی طاقت سے منتخب ہوئی حکومت قومی نہیں ہوتی۔ اور جو سیاسی انجینئیرنگ اور ووٹ کی غلط گنتی سے حکومت بنائی جاتی ہے اس کو تو ہٹانا جنگی مشق کے دوران کسی سرحدی نہر پر عارضی پل بنانے سے زیادہ مشکل نہیں۔ ہم ابھی تک زندہ قوم ہیں اور شاید یہی ہماری بدقسمتی ہے۔ ہم وہ بد عہد لوگ ہیں جو زمین کے ٹکڑے پر جان قربان کرنے کو وفا اور سرزمین پاکستان کے آئین اور اس کے تحت اٹھائے جانے والے حلف کو کاغذ کا ایک ٹکڑا سمجھتے ہیں۔ ایسی سوچ اور فکری سطح کے حامل لوگ جب اپنے ہی پیدا کردہ ملک کے معاشی اور سیاسی مسائل کے حل کے لئیے “قومی حکومت” کی تجویز دیں تو اسے کیا کہا جائے؟

قومی حکومت کی تجویز میں پوشیدہ چند آئین کے غداروں کے مذموم مقاصد ہیں- تمام بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت بنانے کا مطلب ایسے ہی چند غداروں کو ووٹ کی مقتل گاہ سے فرار کا محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے- دوسرا مقصد مستقبل کے غداروں کو جمہوریت کے گردوارہ میں داخلے و مستقل رہائش واسطے خصوصی کاریڈور فراہم کرنا ہے-قومی و صوبائی اسمبلییوں کےھزاروں اراکین کی نگرانی اور انکی صفیں سیدھی کروانا انتہائی فضول اور تھکا دینے والا کام تھا- قومی حکومت میں قومی و صوبائی کابینہ کے چند گھوڑوں پر کاٹھی ڈال لی تو نیچے والے خچر اور گدھے ویسے ہی قطار نہیں توڑیں گے۔

تمام سیاسی جماعتوں کی ملغوبہ حکومت اس سیاسی انجینئیرنگ کا تسلسل اور عروج ہو گی جو گزشتہ انتخابات سے پہلے شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے- اس سیاسی انجینئیرنگ کے جو ہولناک نتائج عوام کے سامنے آ چکے ہیں “بکسہ چور” اس پر شرمندہ ہونے کی بجائے اب قومی حکومت کی پڑیا بیچ رہے ہیں- بظاہر پڑیا بک بھی رہی ہے- نیاز مند نیازی میزائل کے ناکام تجربے کے بعد ایک نئے تجربے کے لئیے قوم سے وقت اور وسائل کا تقاضا کیا جا رہا ہے- یہ تجربات وہ لوگ کر رہے ہیں جو اس سائنس کی الف بے ج سے بھی واقف نہیں- مگر آئین اور قانون کے غدار ان لوگوں کا مقصد کبھی بھی شفافیت اور بہتر طرز حکومت نہیں رہا- ۷۳ سال سے اس ملک کے وسائل اور اقتدار پر کبھی بلواسطہ اور کبھی بلاواسطہ قابض رہنے والے یہ چند غدار آمر اپنی کرپشن اور ناکامیوں پر جواب طلبی سے بچنے کے لئیے نت نئے ڈرامے اور عوام کے ووٹ چوری کرتے رہے ہیں- اب نیا ڈرامہ قومی حکومت کے نام سے شروع کیا جا رہا ہے- عہد وفا کے نعرے مارتے ان لوگوں نے ہر بار اپنا عہد توڑا- ان سے تو اچھے وہ سیاستدان ہیں جو اپنے اوپر کئیے گئے ظلم کو بھلا کر پرانے مالک کی خوشبو محسوس کر کے دم ہلا کر اپنا عہد وفا تازہ کرتے رہتے ہیں-

المیہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے آج تک کسی عوامی، سیاسی اور منتخب حکومت یا انکے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا وہ لوگ اب قومی حکومت کی تجویز لے کر چلے ہیں- جس ملک کے سیاستدان، سیاسی جماعتیں، ادارے اور قوم یرغمال ہوں انکی قومی حکومت کتنی قومی ہو گی؟ قومی حکومت کی تجویز دراصل اعتراف گناہ ہے جو گذشتہ الیکشنوں میں سرزد ہوا- یہ اقبال جرم ہے کہ گذشتہ حکومت عوام کے ووٹ کی طاقت سے نہیں بوٹ کی طاقت سے آئی ہے اور اسی لئیے ناکام ہے۔ عمران خان کی حکومت اسی گناہ و جرم کا نتیجہ ہے۔ مگر عمران خان جیسے لیڈر کے لئیے شاید گناہ اور جرم کوئی معنی نہیں رکھتے۔ عوام کی وفادار شریک حیات بننے کی بجائے یہ لوگ خود کو دلھن ایک رات کی کے کردار میں دیکھتے ہیں- اگر خان صاحب حقیقی عوامی مینڈیٹ کے امین ہوتے تو کسی ادارے کی کیا مجال تھی کہ وہ انکی حکومت کو تبدیل کرنے کے لئیے اپنے ٹاؤٹ سیاستدانوں کو قومی حکومت سے متعلق نئے ڈرامے “عہد بے وفا” میں کاسٹ کر پاتا- خود بھی ایسی ہی غدارانہ سازشوں کے نتیجے میں اقتدار حاصل کرنے والا عمران خان کس منہ سے یہ سب کچھ روک پائے گا-

تو جناب گزشتہ انتخابات میں سرزد ہونے والے گناہ کے کفارے کے لئیے ایک اور گناہ کی نیت کی جا رہی ہے- اور وہ یہ ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی بجائے ساری سیاسی جماعتوں کا ایک دستہ بنا کر اسے سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گذارا جائے- اور پھر حوالدار اینکروں کے ذریعے اس قومی حکومت میں شامل سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے خلاف دئیے گئے ٹی وی بیانات چلا کر عوام کو بتایا جائے کہ سیاستدان منافق ہیں اور جمہوریت ایک ڈھکوسلہ- اسکے بعد جب علاقہ ممنوعہ کے باہر کی عوام معاشی طور پر ادھ موہ ہو کر سڑکوں پر گرنا شروع ہو جائے تو آواز آئے ”میرے عزیز ہموطنو-“

اس تمام صورت حال کا حل ایک ہی ہے- ملک میں فوری انتخابات کرائیں جائیں- یہ کیسے ہو گا ؟ اسکا جواب بار حال ہمیں آئین میں ہی تلاش کرنا ہے- مگر شاید فوری انتخابات سے وہ لوگ خوفزدہ ہیں جنھیں نئی منتخب حکومت میں غداری کے نئے مقدمات قائم ہونے کا خدشہ ہے- مگر کیا ووٹ کی عزت کے ٹھیکیدار فوری انتخابات کی صورت میں “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگانے کے لئیے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو اپنی کمان کی چھڑی کسی ایسے ساتھی کے حوالے کریں جس کی ریڑھ کی ہڈی سلامت ہو، جس کی قربانیاں ہوں، جس کا سیاسی قد ہو، جس کا عہد وفا آزمودہ ہو، جو میدان میں ہو اور جو حالات حاظرہ پر اخبارات و ٹی وی چینلوں کے ذریعے نظر تو رکھتا ہو- پیروں اور پیرنیوں کی سیاست کو عوام آج بھی بھگت رہے ہیں اور وہ مزید کسی درویشانہ یا پیرانہ سیاسی قیادت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

by-Matiullah-jan

اپنا تبصرہ بھیجیں