پاکستان میں گذشتہ برس دس لاکھ افراد بے روزگار ہوئے جبکہ رواں سال مزید 12 لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے۔

پاکستان میں گذشتہ برس دس لاکھ افراد بے روزگار ہوئے جبکہ رواں سال مزید 12 لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے۔ معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں بتایا ہے کہ رواں سال اصل شرح پیداوار (جی ڈی پی گروتھ) ایک اعشاریہ دو فیصد تک رہے گی۔

حفیظ پاشا نے کہا کہ حکومت نے عالمی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدہ کرنے سے قبل سٹیٹ بنک سے 12 سو ارب روپے کا ایڈوانس قرضہ لے لیا تھا کیونکہ معاہدے میں یہ شق شامل تھی کہ حکومت اپنے مرکزی بنک سے قرض نہیں لے گی۔

’موجودہ حکومت نے تین ہزار ارب روپے کا قرض سٹیٹ بنک لیا ہے اور اس سال بجٹ کا خسارہ چار ہزار ارب روپے ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال حکومت جی ڈی پی گروتھ کی شرح تین اعشاریہ تین بتائی جو درست نہیں بلکہ درحقیقت صرف 1.9 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی۔

’تین ہزار دو سو ارب روپے اس سال صرف قرضے کے سود کی مد میں ادا کرنے پڑیں گے۔‘

معاشی امور کے ماہر اور تجزیہ کار قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ جب تک غیر ترقیاتی اخراجات اور فوج کا بجٹ کم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک معاشی ترقی یا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا خواب ہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں کتوں اور بلیوں کی خوارک باہر سے ڈالرز میں درآمد کی جاتی ہے جبکہ انسانوں کے بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔ ان درآمدات پر مکمل پابندی لگائی جائے۔‘

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ انڈسٹری چھ فیصد نیچے جا رہی ہے کیونکہ گذشتہ سال پیداوار کم ہوئی جبکہ زراعت کی شعبے میں پہلے ہی منفی شرح پیداوار ہے۔ ’گذشتہ برس دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے اور رواں سال مزید 12 لاکھ افراد کا روزگار نہیں رہے گا کیونکہ انڈسٹری اور زراعت کی وجہ سے دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔‘

قیصر بنگالی کے مطابق سوئٹرز لینڈ کے چاکلیٹ کی درآمد اور ہر 40 کلومیٹر پر بنی فوجیوں چھاؤنیوں کو بند کرنا ہوگا تاکہ ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو سکے۔ ’یہ چھاؤنیاں انگریز نے افغانستان میں جنگ لڑنے کے لیے بنائی تھیں، اب کوئی جنگ نہیں ہو رہی۔ اور جنگ لڑنے کے لیے بھی پہلے معیشت بہتر کرنا ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کی بحریہ موجود ہے تو آرمی کو کوسٹ گارڈز اور میری ٹائم سکیورٹی کیوں چلانا پڑ رہی ہیں؟ ’بحری فوج سمندر کی حفاظت کر سکتی ہے اس لیے کوسٹ گارڈز اور میری ٹائم سکیورٹی غیر ضروری اور غیر دفاعی اخراجات ہیں
Pakistan24.tv-report

اپنا تبصرہ بھیجیں