فلم زندگی تماشہ تنازعات کے آئینے میں

نامور اداکاروہدایت کار سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم “#زندگی #تماشہ” آج کل ایک متنازع فلم بنی ہوئی ہے. سنسر بورڈ سے پاس ہونے کے بعد بھی فلم کی ریلیز کو روکا جا رہا ہے. اور اس سلسلے میں فلم سے وابستہ لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں. کہ وہ اس کی ریلیز کو روکیں. جس کے لیے سرمد کھوسٹ نے وزیراعظم صاحب، صدر پاکستان اور دیگر اعلیٰ شخصیات کو ایک خط بھی لکھا اور کہا کہ ان کی مدد کی جائے۔۔۔

یوں تو ماضی میں بھی اچھی اور موضوعاتی فلموں اور ڈراموں کو متنازع بناتا جایا رہا لیکن اس مووی کا تجزیہ کرنے کے لیئے ہم زیادہ پیچھے نہیں جائیں گی بس کچھ سال پیچھے جانا پڑے گا جب فلم : مالک “ریلیز ہونی تھی تو شروعات کرتے ہیں چند سال پہلے ریلیز ہونے والی فلم “مالک ” سے۔۔۔اس فلم کو ریلیز ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔۔فلم میکر کی جان الگ خطرے میں پڑ گئی تھی۔ اس وقت بھی مجھے تجسس ہوا تھا کہ ایسا کیا ہے فلم میں ؟؟ میں ہمیشہ تجسس میں ہی بہت ساری کتابیں پڑھ ڈالتی ہوں اور اسی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچھ فلمیں اور ڈرامے بھی دیکھ لیتی ہوں ، خیر بات ہو رہی تھی فلم “مالک” کی جب دیکھا تو بخوبی اندازہ ہوگیا کہ جس طبقے کا اصل چہرہ سامنے لایا گیا ان کے مفاد پر زد تو پڑنی تھی۔۔
سیاست کا مکروہ چہرہ پوری بہادری اور دلیری سے عوام کو کھول کر دکھا دیا گیا۔۔۔
یہ صرف ہمارے ملک کا مسئلہ نہیں۔ہمسایہ ملک انڈیا میں بھی کئی فلموں پر احتجاج کرکے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔” پی کے” فلم کو ہی دیکھ لیں۔۔۔ان کے مخصوص مذہبی طبقے نے جتنا مرضی احتجاج کر لیا لیکن فلم ریلیز ہو کے رہی اور نا صرف عمل کرنے کو بہترین میسج دیا گیا بلکہ ٹھیک ٹھاک بزنس بھی کیا۔۔

آج کے دور میں پاور فل امپیکٹ رکھنے والا سورس اگر ہے تو یہی الیکٹرانک میڈیا ہے ۔۔ایسے میں کچھ مہذب اور تعمیری سوچ رکھنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔۔اور اس پلیٹ فارم کے زریعے ان برائیوں کے خلاف جہاد کرتے ہیں ۔۔جو معاشرے میں ایسی رچ بس گئی ہیں کہ ہمیں ان کی گہرائی کا اندازہ ہی نہیں ہوپاتا۔

کرپٹ مافیاز چاہے کسی بھی شعبے میں ہوں ان کو بے نقاب کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کا پورا نیٹ ورک ہوتا ہے جو پوری قوت لگا کر ان لوگوں کو روکتا ہے ۔ تاکہ ان کے بنائے ہوئے نیک و پارسا بت عوام کے سامنے پاش پاش نا ہوں ۔

“#زندگی #تماشہ “#کھوسٹ #فلم “کہانی کی ٹون پر بنی بڑی شائستہ فلم ہے اور یہ فلم ہمارے معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والےتلخ واقعات پر مبنی ہے،ایسی فلمیں بننی چاہیئں تاکہ اس طرح کی فلموں کے ذریعے ہمارے معاشرے تک ایک میسج جائے اور شعور ملے۔۔۔ فلم #منٹو کے بعد #زندگی #تماشہ اوراس کے بعد #کملی فلم سب #کھوسٹ #فلم کے بینرز تلے بنی ہیں ۔۔۔۔#زندگی #تماشہ کو چوبیس جنوری کو ریلیز ہوناتھا لیکن کچھ نام نہاد طبقے کی وجہ سے اس کو فی الحال روک دیا گیا۔۔۔۔
درحقیقت المیہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں لٹریسی ریٹ کم ہے ۔۔مسئلہ یہ ہے کہ تقریبا چالیس سے پینتالیس فیصد نا خواندہ عوام ان کرپٹ مافیاز کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔۔۔اسی عوام کو استعمال کرکے اپنی مرضی کے فیصلے کروانا ان کے لیے چنداں مشکل نہیں ہے۔۔۔ عوام کا اندھا اعتماد اور سپورٹ ان کو حاصل ہوتی ہے۔۔
ایسا ہی ایک نام “#سرمد #کھوسٹ” ۔۔ایک بہترین اداکار ، اور ہدایت کار ہے۔۔ اب ایک مافیا کو بے نقاب کرنے کی جراءت اس بندے نے کی ہے۔۔۔
زندگی تماشہ نامی فلم میں ان مولویوں کو سامنے لایا گیا جنہوں نے مذہب کے علم بردار ہوکر مذہب سے کھلواڑ کیا۔۔وہ جو چائلڈ ریپ میں ملوث رہے۔۔جنہوں نے تفرقے بازی کو ہوا دی۔۔نفرت کے فتوے دئیے۔۔۔کافر کافر کا ورد بانٹا۔۔سادہ لوح لوگوں کے جذبات بھڑکا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ۔۔
خدا گواہ ہے جتنا مشکل اور ناسمجھ میں آنے والا اس طبقے نے مذہب کو بنا کر پیش کیا ہے اتنا پیچیدہ مذہب کبھی تھا ہی نہیں۔اور جتنا انہوں نے مذہب کو نقصان پہنچایا اور کسی نے نہیں پہنچایا۔

خدارا حقیقی علماء کرام اور ان نام نہاد مولویوں میں فرق کرنا سیکھیں۔۔۔

اب کیونکہ #سرمد #کھوسٹ اس طبقے کا اصل چہرہ عوام کو دکھانا چاہ رہے ہیں تو ان سے کہاں برداشت ہونا تھا؟؟
انہوں نے وہی مذہبی کارڈ کھیلنا شروع کردیا جس سے عوام کا اشتعال عروج پر پہنچ جاتا ہے۔۔۔#سرمد #کھوسٹ کو بھی اسی دباو کا سامنا ہے ۔۔ وہی پریشر جو اس سے پہلے سچ کو سامنے لانے والوں کو دیکھنا پڑا ۔
اگر ماضی میں بھی زرا جھانک کر بنی فلموں پر غور کر لیں ، ہم تو دیکھتے ہیں

#میں امب چوپن لئ گئ باغ وچ پھڑی گئ،،
#نیڑے آہ آہ آہ ظالما ویے
#منجی دے وچ ڈانگ پھیردا.
#آدھی رات چیکاں مارے میرا گورا پنڈا…..
#نمبوواں دا جواڑ اسی سانب سانب رکھیا……
#اترا گجر. #ارائیں دا کھڑاک. #جٹی دا ویر.
#ہمایوں بدمعاش. وحشی #حسینہ.. #ببلو بادشاہ…. #وحشی گجر…..
جب ہم یوٹیوب پر لالی وڈ سرچ کریں تو یہ وہ حسین تحفے ہیں جو ہماری نظر سے گزرتے ہیں. موسیقی سے لے کر فلم تک اور پھر اس سے آگے سٹیج تک دنیا جہان کا گند خرافات فحاشی (ایسا گلیمر جو بیلو دی بیلٹ ہو) اور ایسے بیہودہ موضوعات جن کو سوچ کر بے غیرت انسان بھی شرمانے لگے کوئی غیرت مند تو دور کی بات…
مجھے تو نہیں یاد کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کس پنجابی عورت کو کھیت میں کھلے گلے اور بڑے چاک والی قمیض پہن کر ایک سریئے کی طرح اکڑے ہوئے بندے کے آگے پیچھے ناچتے دیکھا ہو اور وہ بھی صرف اس لیے کہ چن ماہی آگ بڑی لگی اے منجی پا کے بجھا دے کتھے….
نہ پوری زندگی میں ایسا کوئی انسان دیکھا جس کے آگے پیچھے لڑکی ناچ رہی ہو اور وہ اپنے ایمان کے اس افضل درجے پر فائز ہو کہ اس کو مڑ کر دیکھے تک نہ….
ایک گوری چٹی دودھ ورگی مٹیار ایک ریچھ جیسے ہیرو نما جانور کے ارد گرد جھوم جھوم کر طواف کر کر کے ترلے ڈالتی ہے اور جناب ٹس سے مس نہیں ہوتے…..
کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ایک ہیرو پانچ سو پچاسی میگزینز اپنے جسم پر خالی کروا دینے کے بعد تک بھی بس اس لیے زندہ رہے ولن سے بہن کا دوپٹہ واپس لا سکے یا ماں کی دی قسم کے مطابق ولن کی پشت میں گولیاں مار سکے…..

پریہ لالی ووڈ کے وہ مشہور ٹاپکس ہیں وہ مشہور کہانیاں ہیں جن کو سینما گھروں کی زینت بنا کر بڑے فخر سے پیش کیا جاتا ہے….

یہاں کسی کو بھی اس بات سے مسئلہ ہی نہیں ہے کہ سینما یا فلم کے ذریعے کس قسم کا گھٹیا پن دکھایا جاتا رہا ہے….
پر جیسے ہی کوئی ایسا موضوع عکس بند کیا جاتا ہے جس سے کسی خیر کی امید ہو یا یہ حیثیت رکھتا ہو کہ اس سماج کی پرتوں میں کچھ ہلچل ہو سکتی ہے یا کچھ ڈھکے چھپے حقائق منظر عام پر لائے جا سکتے ہیں تو اہل جبہ و دستار سے لے کر اہل طبل و علم کے کان کسی باولے سگ کی طرح کھڑے ہو جاتے ہیں…. یہ دور دور تک ناک کے نتھنوں سے سونگھ سونگھ کر پتہ لگاتے ہیں کہ کہیں سے کوئی حقیقی تبدیلی یا تغیر کی مہک تو نہیں اٹھ رہی…. اور یہ بات یقینی بناتے ہیں کہ وہ خوشبو اس گلے سڑے سماج پر حاوی نہ ہو سکے…

دوسری جانب جس طبقے کو ہم حساس اور فنکار کہتے ہیں ان کی بہت بڑی اکثریت انہیں طبل و علم کے وارثوں کی غلام ہے. آئی ایس پی آر سے وظیفے لینے والے یہ لوگ اخلاقی طور پر بہت ہی کمزور ہیں. یہ اتنی جرات نہیں رکھتے کہ ایسی کسی کاروائی پر ایک پرزور احتجاج ریکارڈ کروا سکیں….. یا اپنے وجود کی طاقت کو سمجھ سکیں اس کو استعمال کر سکیں….

فنکار فن کی نمائش اور اظہار چاہتا ہے داد چاہتا ہے… لیکن کس قیمت پر؟ خود کو بیچ دینا بہتر ہے کیا؟ صدارتی ایوارڈ مل گیا تو تا حیات غلام…..

فنانس بھی ایک بہت بڑا فیکٹر ہے….. یہ فنکار جن کو فن سے ریلیٹڈ ایکیڈمیز بنانی چاہییں. اپنا فن آگے بانٹنا چاہیے ان کی اکثریت اپنے فن سے پیسہ کما کما کر یا تو حاجی بن جاتی ہے یا پھر پارلرز برانڈز اور پلازے کھڑے کر کے اسی دوڑ میں شامل ہو جاتی ہے. جس سے ان کی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے…

تاہم جدید دنیا میں اور بھی بہت راستے ہیں.
#سرمد #کھوسٹ اور ان جیسے بہت سے فنون و لطیفہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جدت سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا….. نیٹفلکس ایک بہت بڑا میڈین ہے اور اس پر پاکستانی فلم کے لیے بہت خلا موجود ہے…… اور اگر مسئلہ فنانس کا ہو تو پاکستان میں اتنے بھی سینماز نہیں جن سے اربوں کا بزنس ہو سکے…… جتنا یہاں سے کما سکتے ہیں اتنا سا تو نیٹفلکس سے بھی کمایا جا سکتا ہے… کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے..جو چیز بنی ہے وہ بنا سنسر لوگوں تک پہنچنی چاہیے.. یہ اس ٹیم کا فرض ہے کہ اس کو ناظرین تک پہنچایا جائے اور ناظرین یہ حق رکھتے ہیں کہ اسے دیکھ سکیں…. لوگ دیکھنا چاہتے ہیں…. نئے موضوعات نئ فلمز نئے انداز کے سکرپٹس اور سٹوریز لوگوں میں مقبول ہوتی ہیں …

باقی اصل حقیقت یہی ہے کہ جب تک فن سرمائے کے تسلط میں ہے وہ کھل کر اپنا اظہار نہیں کر سکتا. اس موضوع پر بحث پھر کبھی سہی….

لیکن ایک بات صاف ہے کہ اس ملک کے ملاوں کو اور افسر شاہی کو فوج کو اور حکومت کو ولگیرٹی اور فحاشی جیسے عوامل سے کوئی مسئلہ نہیں….. عورت کے جسم کو پورا ننگا کر کے بارش میں نہلا کر واہیات سے واہیات گانا بھی سینما کی زینت بن سکتا ہے…. ان کا اصل مسئلہ عوامی شعور کا جاگنا ہے. ان کا مسلہ ایسا موضوع ہے جو اس سماج کے چہرے پر سے مشرقیت اور روایات کا میک اپ کھرچ کر اس کا مکروہ چہرہ سماج کو دکھا سکے تا کہ وہ اپنا چہرہ سدھارنے کی کوشش کر سکیں….
اگر اس عوام کو “میرے پاس تم” ہو جیسا واہیات ڈارامہ چربہ ڈرامہ ٹی وی سے ہٹا کر آخری اقساط کو سنیما گھروں کی زینت بنایا جا سکتا ہے تو ایک اصل فلم جو معاشرے کے اصل چہروں کو بے نقاب کرتی ہے اور معاشرے کے اصل مسائل کو زیر بحث لا سکتی ہے کیوں نہیں دکھائی جا سکتی ؟؟
تو گزارش یہ ہے کہ سنی سنائی بات کو پھیلانے کی بجاے ایک بار یہ فلم دیکھیں ضرور۔۔۔یہ ہمیں سچ اور جھوٹ کی پہچان کرانے میں معاون ثابت ہوگی۔۔۔
بہرحال ہماری حکومت بھی ہر معاملے میں ہی کم فہم ثابت ہوئی۔۔جب سنسر بورڈ نے اسے اوکے کر دیا تھا ۔۔تو ٹانگ اڑانے کی ضرورت کیا تھی؟؟ کیا آپ نے سنسر بورڈ میں الو کے پٹھے بٹھاے ہوئے ہیں؟؟؟ کیا وہ سب پاگل اور احمق تھے؟؟؟ اور فردوس عاشق اعوان ان سے زیادہ سمجھدار تھیں؟؟؟ ایک بار فلم سینما میں آنے دیں ۔۔تاکہ عوام دیکھے اور خود فیصلہ کریں۔۔
بہت شکریہ
( از قلم :- فرح ناز راجہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں