یوم یکجہتی کشمیر پر پیس ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام ” محصور کشمیر اور ہماری زمہ داری” کے عنوان سے ایک فکر انگیز نشست رکھی گئی۔

یوم یکجہتی کشمیر پر پیس ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام ” محصور کشمیر اور ہماری زمہ داری” کے عنوان سے ایک فکر انگیز نشست رکھی گئی۔ پیس ریسرچ سنٹر کے صدر نشین سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان ہیں۔ ڈاکٹر مجاہد منصوری اس کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں صدارت کے لئے ایک علامتی کرسی ” کشمیری عوام” کے نام سے رکھی گئ۔ یعنی اس پروگرام کی صدارت کشمیری عوام نے کی۔ اس پروگرام کے میزبان سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے کہا کہ یہ پروگرام کشمیریوں کے لئے ہے لہذا اس میں اہمیت کشمیر کاز کو ہی دی جائے گی۔ نہ کہ کسی شخصیت کو۔ ہمارے لئے یہ بات بہت حوصلہ افزاء اور سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کے لئےلا ئق تحسین بھی کہ انہوں نے اپنا اردو میں خطاب کرنے کا وعدہ برقرار رکھا۔ تمام مقررین نے اردو میں خطاب کیا۔۔ماسوائے مٹھی بھر مقررین کے ۔۔اور جنہوں نے اردو میں خطاب کیا۔لوگوں نے ان کو بہت توجہ اور انہماک سے سنا۔ محترم قیوم نظامی qayyum nizami جو پاکستان قومی زبان تحریک کے رہنما بھی ہیں ان کی پرجوش تقریر نے محفل میں سماں باندھ دیا۔ ڈاکٹر مجاھد منصوری’ سلمان عابد’ حبیب اکرم’ سلمان غنی ‘ خورشید محمود قصوری’ احمد بلال صوفی نے اردو میں خطاب کیا۔ ہمیں حیرت اور افسوس اسوقت ہوا۔ جب کشمیری رہنما کی اہلیہ محترمہ مشال ملک صاحبہ نے کشمیریوں کے احساسات کی ترجمانی زبان غیر ‘ انگریزی میں کی۔ کشمیریوں یوم کشمیر پوری دنیامیں اردو میں منایا ہیں۔ کشمیریوں کےرہنما اور عوام اپنے مسائل کی طرف دنیا کی توجہ اردو’ میں دلوا رہے ہیں۔ ہم نے اس پر کھڑے ہوکر محترمہ کی توجہ دلائی ” محترمہ آپ نے بے شک بہت اچھی تقریر کی۔ لیکن بہتر ہوتا کہ اپ اس تقریر کو کشمیریوں کی زبان میں بیان کرتی۔ کیونکہ کشمیری عوام اور رہنما پوری دنیا میں اپنی اردو میں جنگ لڑ رہے ہیں۔۔مقبوضہ اور ازاد کشمیر کی سرکاری زبان اردو ہے۔ وہ اپنے تمام جلسے ‘ جلوس ‘ احتجاج نعرے اردو میں لگا رہے ہیں۔ برطانوی نژاد’ کشمیر ی افضل خان نے تو انگریزی کے “جد امجد” برطانوی پارلیمنٹ کا حلف بھی اردو میں لیا ہے” پروگرام کے میزبان کہنے لگے کہ یہ پروگرام پوری دنیامیں دیکھا جارہاہے اس لئے انگریزی میں تقریر ضروری تھی۔۔ہم نے کہا کہ کہ بیرونی دنیا تو کشمیر کی یکجہتی کے اس پروگرام کا مذاق اڑائے گی۔ کہ اس سامعین اور مقررین پاکستانی ہیں لیکن زبان غلاموں کی۔ ہم نے کہا کہ مودی سرکار ہر جگہ ھندی میں بات کر رہاہے۔۔اس کی بات پوری دنیا تک پہنچ رہی ہے ”
پروگرام کے اختتام پر ہم نے ایک سابق معمر سفیر جو غلامی کے خمیر گندھے ہوئے تھے۔جب ہم نے ان سے کہا کہ اگر اپ اردو میں اپنی تقریر کرتے تو بہت موثر ہوتی۔ ہمیں انکا جواب سن کر حیرت ہوئی وہ بہت رعونت سے فرمانے لگے “اپ مجھے جتنا مرضی کہیں میں اردو میں تقریر نہیں کرونگا”
ہم نے ان سے کہا کہ آپ انگریزی وہاں بولے جہاں اس کی ضرورت ہے۔کیا فرانس’ ترکی’ ایران’ جرمنی’ اسرائیل’ جاپان’ چین’ کوریا’ کے صدور کیا اپ کی انگریزی سنیں گے۔؟ ”
اسکا تو وہ جواب نہ دے سکے۔ لیکن وہاں پر ایک ایرانی خاتون ہماری گفتگو سن رہی تھیں ۔ وہ محترمہ میرے مؤقف کی تائید کر نے لگیں “اپ کی بات بالکل درست ہے۔۔بیرونی دنیا میں ہمیشہ اپنی قومی زبان میں مخاطب ہونا چاہئے۔اپنی زبان میں مخاطب ہونے ہی سے دنیا میں عزت ملتی ہے۔”
مجھے خوشی ہوئی کہ اس خاتون نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں ہم سےبات کی.
معزز اہل وطن! اگر اپ کے سامنے کوئی بھی انگریزی میں خطاب کرکے توہین عدالت کا ارتکاب کرتا ہے تو دراصل مجرم وہ ہے ۔ اپ نہیں۔اپ اس کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف آواز بلند کریں۔ اب تو وزیراعظم صاحب نےبھی کہہ دیا ہے ” بائس کڑوڑ عوام سے انگریزی میں خطاب کرنا ان کی توہین ہے”
ہم نے وہاں تمام شرکاء کو پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے “نفاذ اردو کاررواں” سہ پہر چاربجے مسجد شہداء تا اسمبلی ہال مال روڈ لاھور میں شرکت کی دعوت دی۔۔
کشمیریوں کی یکجہتی کے لئے یہ بہت باوقار’ خوب صورت’ فکر انگیز پروگرام تھا۔ اتنا خوبصورت پروگرام پیش کرنے پر ہم پروگرام کے میزبان سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ اور استادوں کے استاد ڈاکٹر مجاھد منصوری کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ہمیں اتنی فکر انگیز مقررین کے خطاب سے فیضیاب ہوئے کاموقع ملا! جامعہ پنجاب کے شعبہ صحافت کے سربراہ ڈاکٹر شفیق جالندھری’ پنجاب یونیورسٹی کے سابق ڈین پروفیسر حارث’ محترم مجید غنی ‘ پروفیسر جاوید چوہدری جیسی باشعور’ باوقار ‘ قومی سوچ کی حامل شخصیات اس پروگرام کے سامعین تھے۔یہ وہ شخصیات ہیں جو اپنی ذات میں خود ایک ادارہ ہیں۔ پروفیسر جاوید چوہدری جو وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے مشیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کوششوں سے ڈاکٹر یاسمین راشد اب ہر تقریب کی کارروائی اردو میں کرواتی ہیں۔ ان کے زیر انتظام تمام مراسلت میں اردو ہورہی ہے۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ داکٹر یاسمین راشد نے ہم سے نفاذ اردو کے حوالے سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کیا۔۔ہم چاہیں گے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد اب وزیر اعظم سے قومی زبان میں یکساں نصاب سازی پر عملدرآمد کروانے کے لئے بھی اپنا بھرپورا کردار ادا کریں۔ تو یہ ان کی قوم کے لئے بہت عظیم خدمت ہوگی۔ جامعہ پنجاب کے سابق ڈین سینئیر سائنسدان’ ماہرتعلیم پروفیسر حارث نے کہا کہ اگر پاکستان میں تعلیم اور بالخصوص سائنس میں ترقی کرنی ہے تو ہر سطح پر ذریعہ تعلیم اپنی قومی زبان میں کرنا ہوگا۔اس کے بغیر پاکستان کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا!
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

اپنا تبصرہ بھیجیں