کراچی کے قدیم سرکاری مکانات کے مسئلے کی حقیقت، کہ جس پر پاکستان کی وفاق و صوبائ حکومتیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان نہ تو سنجیدگی

پاکستان کوارٹرز کی حقیقت

جسارت سنڈے میگزین (اقتباس)
محمد نعیم خان (منقول و متبدل)

کراچی کے قدیم سرکاری مکانات کے مسئلے کی حقیقت، کہ جس پر پاکستان کی وفاق و صوبائ حکومتیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان نہ تو سنجیدگی سے دھیان دے رہی ہیں اور نہ ہی میڈیا عوام الناس کو اس حوالے سے کوئ حقیقی آگاہی دے رہا ہے۔ جبکہ اصل معاملے کی گتھی کچھ اس طرح الجھی یا یوں کہیے کہ بڑوں کے بڑے مالی مفادات کی وجہ سے کچھ ایسے الجھائ گئ ہے۔

حقیقت میں یہ زمینیں قیام پاکستان سے بہت پہلے متمول ہندوؤں کی ملکیت تھیں، جسے 1915 میں 80 سال کی لیز پر مالکانہ حقوق کے ساتھ انہیں دی گئیں تھیں۔ 1947 میں تقسیم کے بعد ہندو یہاں سے چلے گئے اور اس طرح 1948 میں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی مرضی سے 10 سال کی عارضی شیلٹر بستیاں یہاں بسائی گئی اور اس وقت کے سرکاری ملازمین کے خدمات کے اعتراف میں یہ جگہیں رہائش کے لئے انکے حوالے کی گئیں اور سرکاری کوارٹرز آباد کئے گئے۔

ایف سی ایریا 45 ایکڑ، پاکستان کوارٹرز، جہانگیر کوارٹرز اور کلیٹن کوارٹرز کا رقبہ 36 ایکڑ اور پٹیل پاڑہ میں 12 ایکڑ اراضی وغیرہ کو ملا کر کراچی میں کل 200 ایکڑ زمین پر سرکاری کوارٹرز بنائے گئے تھے۔

یہ زمینیں چونکہ متروکہ املاک تھیں لہذا کسی ڈپارٹمنٹ یا ادارے کا اس پر کلیم نہیں تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسی زمین جس پر کوئی بھی حق ملکیت نہ ہو، وہ اسی کی ملکیت قرار پاتی ہے جو اس پر رہتا ہو۔ چناچہ ان پر ملکیت کا حق ان میں آباد لوگوں کا ہی بنتا ہے۔

1995 میں ان زمینوں کی لیز کی مدت ختم ہوگئی اور اسکی تجدید کے نوٹس جاری کر دئیے گئے، مگر کوئی بھی ہندو تجدید کروانے نہیں آیا۔ یہاں کے رہنے والوں نے عدالت کو درخواست داخل کرائی کہ ہمیں اس کی ملکیت دی جائے۔ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں نوٹیفیکشن کے ذریعے گزٹ جاری کیا تھا۔ کہ یہ زمین یہاں کے رہنے والوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ دی جائے گی اور اسطرح اس بارے میں فیصلہ ہوا کہ اس کو کچی آبادیوں کی وزارت کے حوالے کرکے 10 روپے فی گز کے حساب سے زمین وہاں کے رہائشیوں کو الاٹ کر دی جائے۔

مگر اس وقت سے آج تک اس حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے تاکہ اس زمین کو اربوں روپے حاصل کر کے انٹرنیشنل مافیہ کے حوالے کر دیا جائے۔

ہماری اطلاعات کے مطابق انیل مسرت نامی انٹرنیشل بلڈر اور آغا خان گروپ ان قیمتی زمینوں کو خریدنے کے خواہشمند ہیں اور کروڑوں روپے عمران خان کی انتخابی مہم اور میڈیا کیمپین کی مد میں ایڈوانس خرچ کر چکے ہیں۔

خاکم بدہن آگے آگے دیکھئیے کیا ہوتا ہے، ہمیں معلوم ہوا کہ لیاری کی قدیم بستی اور لائینز ایریا کے مکانات بھی انٹرنیشنل بلڈرز مافیہ کی نظروں میں ہیں۔

اس مسئلے کو عام کچی بستی یا قبضہ شدہ زمین کے معاملے سے ہٹ کر دیکھنا چاہئے۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ اس میں رہنے والے سرکاری زمین یا کسی اور کی ملکیت کی زمین پر قابض ہو کر نہیں بیٹھے بلکہ یہ جگہ تو متروکہ املاک کے ضمرے میں آتی ہے۔

بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اس وقت کے سرکاری ملازمین کو، جو ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے، سرکاری خدمات کے اعتراف میں یہ جگہ رہائش کے لئے دی تھی لہذا یہ قبضہ نہیں اور متروکہ املاک پر حکومت سندھ یا پاکستان کا دعویٰ بھی نہیں لہذا اصول تو یہ کہتا ھے کہ ان رہائشیوں کو معقول رقم کے عوض مستقل طور پر لیز کر کے اس مسئلے کو انصاف کیساتھ حل کیا جائے۔ بصورت دیگر خاکم بدہن پاکستان کے حقیقی بانیوں کے ساتھ اتنی بڑی اجتماعی زیادتی کہیں قدرت کی ناراضگی کا سبب نہ بن جائے۔

افسوس اور صد افسوس ہوتا ہے تو اس بات پر کہ بات بات پر قائداعظم کی رٹ لگانے والوں اور قائداعظم کی تصویر لگانے والوں کو جب قائداعظم کے نام پر بھی حق و صداقت کا ساتھ دینا پڑے تو ایک باطل سا سناٹا چھا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں