ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ یہ زمین بورڈ آف ریونیو کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ زمین کس محکمے کی ہے یہ بعد کی بات ہے،

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ یہ زمین بورڈ آف ریونیو کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ زمین کس محکمے کی ہے یہ بعد کی بات ہے، آپ نے کس طرح زمین الاٹ کی وہ طریقہ کار غلط تھا، کیا کسی اور ملک میں آپ کو اس طرح زمین مل سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری زمین کو لیز کرنے کا طریقہ کار ہوتا ہے، 2ایکڑ زمین دینے کا تمام عمل غیر قانونی ہے۔اس موقع پر عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ یہ زمین 2010ء میں ہارٹی کلچر کے لئے دی گئی تھی،اور آپکے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ زمین آپ کو دی گئی ہے۔اس موقع پر عدالت نے الہ دین پارک سے متصل اراضی کی منتقلی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی لیز بھی منسوخ کردی

اپنا تبصرہ بھیجیں