بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں پچھلے کئی دنوں سے جاری موسلادھار بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ مسلسل بارش، بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کے باعث اب تک کم از کم 63 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ریاستی حکومت نے 7 جولائی تک شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے تمام اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ منڈی ضلع اور اس کے اردگرد کے کئی علاقے شدید بارش اور زمین کھسکنے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے افسر ڈی سی رانا کے مطابق اب تک بارشوں سے 400 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ریکارڈ ہو چکا ہے جبکہ اصل مالی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
شدید بارشوں سے ریاست کا دارالحکومت شملہ بھی متاثر ہے۔ شملہ کی رہائشی طالبہ تنوجا ٹھاکر نے بھارتی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بارش اتنی تیز ہے کہ کلاس رومز تک پانی بھر گیا ہے اور اساتذہ نے طلبہ کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔
موسمیات کے محکمے نے پیش گوئی کی ہے کہ مزید بارشیں ہوں گی جس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث کئی شاہراہیں بند ہیں، بجلی اور پانی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ریاست بھر میں اب تک 500 سے زیادہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں، درجنوں پل بہہ گئے ہیں اور سینکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ کئی علاقوں میں پینے کے پانی اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جسے انسانی بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
منڈی ضلع میں سب سے زیادہ 17 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، کانگڑا میں 13، چمبا میں چھ اور شملہ میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ دیگر اضلاع سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ صرف منڈی سے کم از کم 40 افراد کے لاپتہ ہونے کی خبر ہے۔
آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں مقامی ندیوں میں خوفناک طغیانی، مکانات کا بہہ جانا اور دیہات کی بربادی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں لوگ پہاڑی ملبے سے نکل کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ سب کچھ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے اثرات کا نتیجہ ہے جس سے ہماچل پردیش بھی محفوظ نہیں رہا۔























