انڈر 19 ورلڈکپ میں ٹیم پاکستان کیسے جیت سکتی تھی؟

جنو بی افریقا میں منعقدہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ سیمی فائنل میں بھارتی ٹیم نے آسان مقابلے کے بعد پاکستان کو پوچیف اسٹروم میں 10وکٹ کی شکست سے دوچار کیا۔

اس پر چئیر مین پی سی بی احسان مانی نے اس ناکامی پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بیٹنگ اور بولنگ کے شعبے میں ہم سے بہتر کھیل پیش کیا، کیونکہ چئیرمین نے برملا اس بات کو تسلیم کیا کہ گراس روٹ لیول پر ہم سے بہتر کام کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ چئیر مین بورڈ کیوں گراس روٹ لیول پر بہتر نتائج حاصل نہیں کر پا رہے؟ کیا انھیں بھی وزیراعظم پاکستان کی طرح اس تناظر میں کسی مافیا کا سامنا ہے؟ اس کا جواب ہے ’بالکل نہیں‘، کیونکہ چئیر مین پی سی بی اگر شکست کی تحقیقات کریں تو حقائق سامنے آجائیں گے، البتہ شاید وہ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں، ورنہ انڈر 19 ٹیم کی ناکامی کسی حیرانی کی خبر نہیں۔

آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ میں معاملات ٹیم سلیکشن سے شروع ہوئے، جہاں دائیں ہاتھ کے بیٹس مین محمد شہزاد اور عرفان خان بناء انڈر 19 ٹورنامنٹ کھیلے، پاکستان ٹیم میں منتخب ہوگئے۔

میانوالی سے تعلق رکھنے والے عرفان خان پر تو کچھ خاص نظر کرم لگتی ہے۔ جنھوں نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف ناقابل شکست 38 رنز اسکور کیے، البتہ بھارت کے خلاف سیمی فائنل اور زمبابوے کے خلاف گروپ میچ میں بطور بیٹسمین کھیلنے والے عرفان کو نمبر7 پر کھلا کر ان کی سلیکشن کی شفافیت مشکوک بنائی گئی۔

کچھ ایسا ہی معاملہ محمد شہزاد کے کیس میں بھی دکھائی دیا، جو انڈر 16 تین روزہ ٹورنامنٹ کھیل کر ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل ہوگئے، دلچسپ امر یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے بیٹسمین محمد شہزاد انڈر 16 ٹورنامنٹ کے تین بہترین بیٹسمینوں میں بھی شامل نہیں تھے۔

بنگلہ دیش انڈر 16 کے خلاف 2 میچو ں میں وہ 72 رنز بنا سکے تھے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، ورلڈکپ میں محمد شہزاد کو انڈر 19 ون ڈے ٹورنامنٹ کے بہترین بیٹسمین محمد ہریرہ پر ترجیح دے کر گروپ میچ کھلانے کا ناکام تجربہ کیا گیا، اور جب افغانستان کے خلاف کوارٹر فائنل میں شہزاد کو ڈراپ کر کے ہریرہ کو موقع دیا گیا، تو ہریرہ نے 76 گیندوں پر 64 رنز بنا کر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

ٹیسٹ فاسٹ بولر سلیم جعفر کی سربراہی میں کام کر نے والی جونئیر سلیکشن کمیٹی جس کے اراکین وجاہت اللّٰہ واسطی، توفیق عمر اور راؤ افتخار انجم تھے، ٹیم منتخب کرتے ہوئے انھوں نے ڈومیسٹک انڈر19 کے بہترین کھلاڑیوں ثاقب جمیل، محمد طٰحٰہ، صائم ایوب، محمد باسط اور عبداللّٰہ فصیح کو نظر انداز کر کے جو کام شروع کیا، اسے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈکپ کے دوران کوچ اعجاز احمد نے مزید آگے بڑھایا۔

اسکاٹ لینڈ کے خلاف ورلڈکپ کے پہلے میچ میں 12 رنز کے عوض 5 وکٹ کی کارکردگی دکھانے والے دائیں ہاتھ کے تیز بولر محمد وسیم کو صرف 2 میچ کھلا کر ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا، دوسری جانب ٹیم مینجمنٹ آل راؤنڈر قاسم اکرم اور فہد منیر پر انحصار کرتی رہی، جو سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں 10 وکٹ کی ناکامی کی ایک اہم وجہ بھی تھی۔

بائیں ہاتھ کے اسپنر عامر علی جنھوں نے ورلڈ کپ کے 5 میچو ں میں 4 وکٹیں حاصل کیں، کوچ اعجاز احمد نے انھیں ڈراپ کر کے ڈومیسٹک انڈر 19 کے بہترین بولر اور بائیں ہاتھ کے اسپنر عارش علی خان کو کھلانے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔

دوسری طرف سیمی فائنل میں کوچ کی منصوبہ بندی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، ٹاس جیت کر بیٹنگ کے لیے قدرے مشکل حالات میں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ اور پھر نمبر تین پر مستند بیٹسمینوں کی موجودگی میں آوٹ آف فارم فہد منیر کو بھیجنا، حیران کن فیصلہ تھا۔

بھارت کے خلاف 16 گیندیں کھیل کر صفر پر آوٹ ہونے والے فہد کوارٹر فائنل میں نمبر چار پر افغانستان کے خلاف 18 گیندوں پر صرف 2 رنز بنا سکے تھے، تجربے کار حیدر علی اور کپتان روحیل نذیر جس طرح سیمی فائنل میں نصف سینچریاں بنا کر پویلین لوٹے، سوال یہ ہے کہ ڈریسنگ روم سے انھیں اننگز لمبی کرنے اور کریز پر رکنے جیسی ہدایات کیا نہیں موصول ہوئیں؟

اگر واقعی ایسا تھا تو حیدر علی 56 اور روحیل نذیر 62 رنز کی اننگز کھیل کر شارٹ کھیلتے ہوئے اپنی وکٹیں نہ گنواتے؟ آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے دوران قومی ٹیم کی کوچنگ کے فرائض انجام دینے والے کوچ اعجاز احمد پاکستان کے لیے 60 ٹیسٹ اور 250 ون ڈے کھیل چکے ہیں۔

البتہ دوسری جانب یہ بھی حیقیت ہے کہ 1992ء ورلڈ کپ کے فاتح کپتان عمران خان کی ٹیم کے بیٹسمین اعجاز احمد 7 میچ کھیل کر صرف 14رنز بنا سکے تھے، دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے سربراہ سلیم جعفر 1987ء ورلڈکپ میں عمران خان کی سربراہی میں سیمی فائنل میں آسڑیلیا کے ہاتھوں شکست کے اہم محرک تھے۔

انہوں نے آخری اوور میں 17 رنز دیے، اور پاکستان کی فائنل میں نہ جا نے کی وجہ بھی یہی 17 رنز بنے، حالات اور واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے، بحیثیت مجموعی سلیکشن کا طریقہ کار آئی سی سی انڈر 19 ورلڈکپ میں ٹیم پاکستان کی ناکامی کا اصل محرک دکھائی دیتا ہے۔

تاہم چئیر مین پی سی بی احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان اس حوالے سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتے، حالانکہ انڈر 19 ٹیم کس بھی ملک کی مستقبل کی اساس سمجھی جاتی ہے، تاہم محسوس ہوتا ہے کہ بورڈ کے اعلیٰ حکام اس اہم بات سے لاعلم ہیں، اگر ایسا ہوتا، تو ماضی میں چیئرمین اور وسیم خان کے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے واحد پاکستانی بیٹسمین یونس خان سے مذاکرات ناکام نہ ہوتے۔

انڈر 19 ٹیم کی شکست ان مذاکرات کی ناکامی کی ایک جھلک ہے، بات سیدھی سی ہے، یونس خان کو اگر انڈر 19 ٹیم کی باگ ڈور دی جاتی، تو سلیکشن کے معاملے میں یوں بے قاعدگیوں کی صدا نہ بلند نہ ہوتی، اصولوں کی بات کرنے والے یونس خان یوں ٹیم کے انتخاب میں بنیادی غلطیاں نہ کرتے، جو اعجاز احمد کی جانب سے منظر عام پر آئیں۔

یونس خان آجاتے، تو شکست کی ذمہ داری بھی لیتے، جوابدہ ہوتے، البتہ ہوسکتا ہے، یہ ساری باتیں، اور انڈر 19 سطح پر ساری ذمہ داریاں شاید چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان کی ترجیحات میں شامل نہیں، ورنہ آج یہ باتیں زبان زد عام نہ ہوتیں۔

جب سے چئیرمین پی سی بی کی مسند احسان مانی نے سنبھالی ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی ورلڈ کپ، ٹی 20 ایشیا کپ میں ناکام ہوئی، تو انڈر 19 ٹیم ایشیا کپ کے بعد اب ورلڈکپ میں بھی خالی ہاتھ لوٹی ہے، احسان مانی اور وسیم خان کی پالیسیوں کا اگر یہی حال رہا، تو پاکستان کرکٹ کے مشکل دن یوں ختم ہوتے مشکل ہی دکھائی دیتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں