بھارتی مصنف جاوید اختر کا تازہ بیان نیا تنازعہ کھڑا کر گیا

بھارت کے مشہور لکھاری اور شاعر جاوید اختر ایک بار پھر اپنے متنازعہ بیان کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ ایک تقریب کے دوران دیے گئے ان کے ریمارکس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں جاوید اختر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’جنت میں میرے پسندیدہ پھل موجود نہیں، مجھے کیلا اور امرود بہت پسند ہیں لیکن وہ جنت میں نہیں ملیں گے، شاید یہ پھل جہنم میں ہوں اسی لیے میں کبھی جنت جانے کی خواہش نہیں رکھتا۔‘‘

جاوید اختر کی اس بات پر انٹرنیٹ صارفین نے شدید ردِ عمل دیا۔ کسی نے ان کے بیان کو سراسر بے عقلی قرار دیا تو کسی نے لکھا کہ ’’چند لوگوں کو ہنسانے کے چکر میں اس شخص نے اپنی آخرت خراب کرلی۔‘‘ ایک صارف نے طنزیہ کہا کہ ’’آپ جنت کے قابل ہیں ہی نہیں اس لیے آپ کو ہدایت بھی نصیب نہیں ہوگی۔‘‘

یہ پہلی بار نہیں کہ جاوید اختر نے اس طرح کا متنازعہ بیان دیا ہو۔ وہ پاکستان کے خلاف بھی اکثر اشتعال انگیز بیانات دیتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے کہا تھا کہ ’’اگر مجھے جہنم یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو میں جہنم میں جانا پسند کروں گا۔‘‘

جاوید اختر نے ایک موقع پر ممبئی میں مسلمانوں کو گھر نہ دیے جانے کے معاملے کو بھی پاکستان سے جوڑ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ شبانہ اعظمی کو برسوں پہلے ممبئی میں مکان خریدنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔ جاوید اختر کے مطابق ان ہندووں نے، جنہوں نے گھر دینے سے انکار کیا، وہ سندھ سے ہجرت کرکے بھارت آئے تھے اور انہوں نے تقسیمِ ہند کے دوران مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ سے آنے والے ان ہندووں کو پاکستان میں اپنی جائیدادیں اور گھر چھوڑنے پڑے تھے اور بھارت آ کر انہوں نے اپنی محنت سے سب کچھ دوبارہ بنایا۔ لیکن جب مسلمانوں نے ان سے گھر خریدنے کی کوشش کی تو انہوں نے بدلے کی آگ میں انہیں گھر دینے سے انکار کر دیا۔ جاوید اختر کا کہنا ہے کہ ممبئی میں ہندووں کا مسلمانوں کو مکان نہ دینا دراصل پاکستان کے مسلمانوں کی زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔