ریلوے اور بس سروسز کے کرایوں میں اضافہ، پیٹرولیم مہنگائی کا اثر

پاکستان ریلوے نے ایکسپریس اور مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں 2 فیصد اضافہ کر دیا ہے اور اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ اضافہ 4 جولائی سے نافذ العمل ہوگا اور تمام مسافر، شٹل، اور سیلونز گاڑیوں پر لاگو ہوگا۔ 2 فیصد کرایہ اضافے کا اطلاق ایڈوانس بکنگ پر بھی ہوگا۔ ڈیزل کی مہنگائی کی وجہ سے ریلوے کو ماہانہ 10 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ ریلوے نے ایک ماہ کے اندر دوسری بار کرایوں میں اضافہ کیا ہے، جس میں 18 جون کو مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں 3 فیصد اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں 4 فیصد اضافہ شامل ہے۔

اسی طرح، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹر سٹی بس سروسز کے کرایے بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔ مختلف انٹر سٹی بس کے مسافروں نے کرایوں میں اضافے پر اپنی شکایت کا اظہار کیا ہے۔ ایک مسافر نے بتایا کہ صادق آباد کا کرایہ پہلے 2000 روپے تھا جو اب 2300 روپے ہو گیا ہے، جبکہ ایک اور مسافر کا کہنا تھا کہ میرپورخاص سے واپسی کا کرایہ 2500 روپے سے بڑھ کر 3000 روپے ہو گیا ہے۔

دوسری جانب، ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑا ہے اور کرایے بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے کیونکہ انہیں اپنے تمام اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، رکشے اور آن لائن ٹیکسی سروسز کے کرایے بھی بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔