لاہور ہائی کورٹ نے رمضان شوگر ملز کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی جبکہ آمدن سےزائداثاثہ جات کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت11فروری تک ملتوی کردی۔

لاہور ہائی کورٹ میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ، وکیل امجد پرویز نے بتایا 9 سے 10کلو میٹر طویل نالا بنایا گیا، یہ نالہ وہاں کی آبادی کوسہولت کیلئےبنایاگیاتھا، ریفرنس میں الزام ہےیہ رمضان شوگرمل کیلئےبنایاگیا، حمزہ شہباز مل کے سی ای او تھے۔

وکیل حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ دستاویزی ثبوت پیش کئےگئے اس میں کوئی الزام نہیں آتا ، رمضان شوگرمل کیس میں شہبازشریف کی ضمانت منظورہوچکی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا حمزہ شہباز رمضان شوگر مل کے سی ای او ہیں ، جس پر عدالت نے استفسار کیا رمضان شوگر ملز میں کتنے ڈائریکٹرہیں تو نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ رمضان شوگر ملز کے 7 ڈائریکٹر ہیں تاہم نیب پراسیکیوٹر رمضان شوگرملز کے ڈائریکٹرزکے نام نہ بتا سکے۔

عدالت نے کہا لگتا ہے آپ نے فائل کو ہاتھ ہی نہیں لگایا ، عدالت جوپوچھتی ہے آپ کےپاس جواب نہیں ہوتا ، یہ بتائیں شہباز شریف کی ضمانت کیخلاف اپیل واپس کیوں لی ، بتائیں شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے یا حمزہ شہباز۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے نیب پراسیکیوٹرسے استفسار کیا آپ بتائیں آپ کا کیس کیا ہے ، جو فنڈز استعمال کئےگئے کیااس میں کوئی شرط تھی، یہ بتائیں کیس کی تفتیش کس نے کی ، تفتیش کےلیول پرآپ سب کوپرائیڈ آف پرفارمنس ملنا چاہیے۔

رمضان شوگر ملز کیس میں عدالت نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی اور آمدن سےزائداثاثہ جات کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت11فروری تک ملتوی کردی۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا :یہاں 10ہزار بندہ بھی آجائے تو ہمیں پرواہ نہیں، ضمانت جس کی بنتی ہے اسے دیں گے، ہم اپنےرب کو جواب دہ ہیں ، کیا آپ سمجھتے ہیں عدالتیں بےخبرہیں ، جس طرح آپ نےتفتیش کی ،کیاکام ایسےہوتاہے۔

خیال رہے حمزہ شہبازآمدن سےزائداثاثہ جات کیس میں گرفتارہیں ، انھوں نے آمدن سےزائداثاثہ جات کیس میں درخواست ضمانت دائرکررکھی ہے، دوسرےکیس میں ضمانت تک حمزہ شہباز کی رہائی ممکن نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں