سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کیخلاف پولیس کو اہم شواہد مل گئے

سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کیخلاف پولیس کو اہم شواہد مل گئے۔ تفصیلات کے مطابق جمشید دستی پر آئل ٹینکر روک کر ڈکیتی اور تیل چوری کرنے کے الزامات عائد کردیئے گئے ، نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے جمشید دستی سے متعلق اہم انکشافات کئے ہیں۔ پولیس نے جمشید دستی کے قریبی دوستوں کو گرفتار کر لیا اور نہ معلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
جن میں چیئر مین یونین کونسل ملک اجمل کالرواور ملک عابد مکانی سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ آئل ٹینکر روک کر ڈکیتی اور تیل چوری کیس میں ایک پولیس اہلکار بھی گرفتار کیا گیا جو سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی سیکیورٹی پر مامور رہ چکا ہے۔ پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ جمشید دستی سے رابطے کی کوشش کی جاری ہے تاہم ان کا فون بھی بند ہے۔ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جار رہے ہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ واضح رہے اس سے قبل بھی پولیس نے سابق رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کے گھر پر چھاپہ مارا ۔پولیس نے چھاپے کے دوران جمشید دستی کے رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا جب کہ اُنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ۔ جب کہ جمشید دستی کا موقف ہے کہ پولیس نے گھر میں گھس کر شدید توڑ پھوڑ کی اور گھر میں موجود خواتین سے بدتمیزی بھی کی۔
پولیس نے بتایا کہ جمشید دستی کے بھانجے اور رشتہ دار کو حراست میں لیا ہے۔ جمشید دستی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکت کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سابق رکن اسمبلی جمشید دستی نے مولانا کے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم جعلی حکومت کے خلاف نکلے ہیں۔ جمشید دستی کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کی حکومت اب ڈوبنے والی ہے۔ سٹیبلشمنٹ نے جعلی حکومت تشکیل دی اور حقیقی سیاستدانوں کو پیچھے کیا۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کا ہر صورت میں ساتھ دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کی جعلی حکومت نامنظور ہے.جمشید دستی نے اعلان کیا تھا کہ عمران خان کی طرح دھرنے کے دوران شادی کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں