یورپ کے مختلف ملکوں سمیت برطانیہ ان دنوں شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں ہیں، غیرمعمولی درجہ حرارت نے معمولات زندگی کو متاثر کر دیا ہے اور حکام کو فوری حفاظتی اقدامات کرنا پڑ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور کئی یورپی ریاستوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر جا چکا ہے، جس کے باعث عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور کئی علاقوں میں اسکول عارضی طور پر بند کیے جا رہے ہیں۔ اسپین اور پرتگال میں تو پارہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے، جو خطرناک حد تک زیادہ ہے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گرمی کا زور اتنا بڑھا کہ درجہ حرارت 42 ڈگری کو چھو گیا، جس کے بعد حکام نے مشہور ایفل ٹاور کو شہریوں اور سیاحوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے اور غیر ضروری سرگرمیوں سے دور رہنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔
برطانیہ میں ہیٹ ویو کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔ لندن میں درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا جبکہ ہیتھرو ایئرپورٹ پر 33.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے اور عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دھوپ سے بچیں اور زیادہ پانی پئیں۔ اس دوران ومبلڈن میں بھی ریکارڈ گرمی پڑی، جہاں درجہ حرارت 32.9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ لندن کے چڑیا گھروں میں جانوروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے برف کے بلاک رکھے جا رہے ہیں جبکہ ملک کے 16 علاقوں میں شدید گرمی کی وارننگ جاری ہے اور ہیٹ ہیلتھ الرٹ کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
ادھر اٹلی، اسپین، پرتگال اور یونان میں شدید گرمی کے باعث کئی اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور کچھ علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ حکومت نے متاثرہ افراد کے لیے ہیلپ لائنز اور کولنگ سینٹرز قائم کر دیے ہیں جبکہ شہریوں کو گھروں میں رہنے اور بلا ضرورت باہر نہ نکلنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے اور آنے والے وقت میں ایسے موسم مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کی سرگرمیوں کے باعث موسم کے انتہاؤں تک جانے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔
Ask ChatGPT























