پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے حالیہ انٹرویو میں بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی فنکاروں اور اکاؤنٹس پر عائد پابندیوں کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ماہرہ خان نے کہا کہ سرحد کے آر پار فنکار محبت اور امن کا پیغام لے کر آتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہر سیاسی یا فوجی کشیدگی کا پہلا نشانہ یہی بنتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی اقدام کو ’سیاسی کھیل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فنکاروں پر پابندیاں لگانا دراصل اس ذریعہ کو بند کرنا ہے جو دو قوموں کو قریب لا سکتا ہے۔
انٹرویو کے دوران سوال کے جواب میں ماہرہ خان نے کہا، ’’میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ مداح مداح ہوتے ہیں، محبت کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوتی، لیکن فن کو سیاست کا ایندھن بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’جنگ یا کشیدگی ہو تو سب سے پہلے فنکار ہی کیوں قربان ہوتے ہیں؟ وہ لوگ جو محبت اور میل جول کی زبان بولتے ہیں، ان پر قدغن کیوں؟‘‘
ماہرہ کا کہنا تھا کہ فنون لطیفہ معاشروں کو جوڑنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں لیکن سیاسی فیصلے سب سے پہلے اسی پل کو توڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ دوریاں مزید بڑھتی ہیں۔
اداکارہ نے آخر میں زور دیا کہ فن کو سیاست کا ہتھیار بنانے کے بجائے سرحد پار میل جول بڑھانے میں استعمال کیا جانا چاہیے کیونکہ یہی اصل راستہ ہے جو نفرت کی دیواریں گرا سکتا ہے۔























