پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کیش یا چیک کے ذریعے ادا کرنے کا عمل مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اب تنخواہیں صرف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ہی دی جائیں گی۔
محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یکم ستمبر 2025 سے صوبے بھر کے تمام سرکاری ملازمین کو تنخواہ براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد مالی شفافیت کو یقینی بنانا اور نقد یا چیک کے ذریعے ادائیگی کے ذریعے ہونے والی کسی بھی قسم کی بدعنوانی اور تاخیر کو روکنا ہے۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری ادارے، محکمے اور دفاتر اب ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی نقد یا چیک کی صورت میں نہیں کریں گے۔ ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس یا بینک آف پنجاب جیسے بائیومیٹرک پلیٹ فارمز کے ذریعے ہو گی تاکہ تنخواہوں کی فراہمی میں آسانی اور تیزی ہو۔
مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے فوری طور پر اس حکم پر عمل درآمد کریں اور جو ملازمین ابھی تک اپنے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم نہیں کر سکے، وہ جلد از جلد بینک اکاؤنٹ کی معلومات متعلقہ حکام کو فراہم کریں تاکہ ان کی تنخواہیں وقت پر منتقل کی جا سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم سرکاری مالی معاملات میں شفافیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، اور ملازمین کو اپنی تنخواہیں بروقت اور محفوظ طریقے سے مل سکیں گی۔























