دنیا بھر میں مکھیوں اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

دنیا بھر میں مکھیوں اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
بھنبھناتے ہوئے کیڑے مکوڑے جب کاٹتے ہیں یا کھانے میں گر جاتے ہیں تو یقیناً آپ کو غصہ آتا ہو گا۔ لیکن انھیں مارنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ
یہ کیڑے مکوڑے خوراک کی پیداوار اور ایکو سسٹم کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایکو سسٹم کا مطلب ہے وہ نظام جس کے تحت جانوروں، پودوں اور بیکٹریا سمیت تمام جانداروں کی زندگیوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہوتا ہے۔
لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی سینیئر کیوریٹر ڈاکٹر ایریکا میک السٹر کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم دنیا سے تمام کیڑے مکوڑے نکال دیں تو ہم بھی مر جائیں گے۔‘
’ہم ہلاک ہو جائیں گے‘
کیڑے مکوڑے حیاتیاتی ڈھانچوں کو توڑتے ہیں جس سے ان کے گلنے سڑنے اور تحلیل ہونے کے عمل میں تیزی آتی ہے۔ اس طرح مٹی کو تازگی ملتی ہے۔
ڈاکٹر میک السٹر نے کہا کہ ’ذرا سوچیے اگر ہمارے پاس فضلے کے خاتمے کے لیے کیڑے مکوڑے نہ ہوں، تو ماحول کتنا ناخوشگوار ہو گا۔ حشرات الارض کے بغیر ہم فضلے اور مرے ہوئے جانوروں کے تالاب میں تیریں گے۔‘
کیڑے مکوڑے پرندوں، چمگادڑوں اور دودھ پلانے والے چھوٹے جانوروں کو بھی خوراک مہیا کرتے ہیں۔
سڈنی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فرانسسکو سانچیز بایو کا کہنا ہے کہ ’تقریباً 60 فیصد جانوروں کی زندگیوں کا دارومدار کیڑے مکوڑوں پر ہے اس لیے پرندوں، چمگادڑوں، مینڈکوں اور تازہ پانی کی مچھلیوں کی متعدد اقسام غائب ہو رہی ہیں۔ ’نیوٹرینٹ ری سائکلنگ یا مختلف غذائی اجزاء کے غذا کی فطری پیداوار میں دوبارہ شامل ہونے کے عمل کا انحصار بڑی حد تک ایسے کروڑوں کیڑے مکوڑوں پر ہے جو زمین کے اندر اور پانی میں رہتے ہیں۔
خوراک کا ایک قیمتی ذریعہ اور ایکو سسٹم کے لیے فائدہ مند ہونے کے علاوہ کیڑے مکوڑے ایک اور اہم کام بھی انجام دیتے ہیں جو غذا پیدا کرنے میں بہت اہم ہے۔ یہ کام ہے پولینیشن۔
ایک تحقیق کے مطابق کیڑے مکوڑے انسانوں کو پولینیشن جیسی مفت سروس فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے انسانوں کو 350 ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر سانچیز بایو کا کہنا ہے کہ ’پھولوں والے زیادہ تر پودوں اور ہماری فصلوں کے 75 فیصد پودوں کے لیے کیڑے مکوڑوں کے ذریعے ہونے والی پولینیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
پولینیشن وہ عمل ہے جس میں کیڑے مکوڑوں کے ذریعے پودوں کے بیج ایک پھول سے دوسرے پھول تک پہنچتے ہیں اور نئے پھول وجود میں آتے ہیں۔
لیکن اِس سب کے باوجود ہم کیڑے مکوڑوں کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔
مثال کے طور پر چاکلیٹ کا پودا جس کی پیداوار بڑھانے میں 17 اقسام کے کیڑے مکوڑے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اِن میں تقریباً 15 قسم کے کاٹنے والے کیڑے، بہت چھوٹی چیونٹیاں اور موتھ شامل ہیں۔
ہمیں اب یہ معلوم ہو چکا ہے کہ کئی ممالک میں شہد کی جنگلی مکھیوں سمیت کئی اقسام کے کیڑوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
کیڑے مکوڑوں کی کئی مشہور اقسام جیسے مونارک تتلیوں کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔ یہ تتلیاں جنگلی پھولوں کی افزائش کے لیے ضروری ہیں۔
لیکن ہم اِس مسئلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور خطرہ یہ ہے کہ کہیں زیادہ دیر نہ ہو جائے۔
امریکہ کے سمتھسونیئن انسٹیٹیوٹ کے مطابق دنیا بھر کے کیڑے مکوڑوں کا مجموعی وزن انسانوں کے مجموعی وزن سے 17 گنا زیادہ ہے۔
انسٹیٹوٹ کے اندازے کے مطابق کسی بھی ایک وقت میں دنیا میں کیڑے مکوڑوں کی تعداد 10 کوینٹیلین ہو سکتی ہے۔ امریکہ میں ایک کوینٹیلین کا مطلب ایک ارب ہوتا ہے۔
لیکن تحقیق کاروں کے درمیان کیڑے مکوڑوں کی اقسام کی صحیح تعداد پر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق یہ دو سے 30 ملین تک ہو سکتی ہے۔
کیڑے مکوڑوں کی بڑی تعداد اور ان کا تنوع بھی انھیں معدومی کے خطرے سے نہیں بچا پا رہا۔ یہاں تک کے ایسے کیڑے بھی ختم ہو رہے ہیں جنھیں ابھی تک دریافت ہی نہیں کیا جا سکا ہے۔
ڈاکٹر میک ایلسٹر بتاتے ہیں ’سنہ 1930 اور سنہ 1940 میں دریافت ہونے والے کئی کیڑوں کی مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ ان کے علاقے بہت عرصہ پہلے تباہ کیے جا چکے ہیں۔
فروری سنہ 2019 میں بایولوجیکل کنزرویشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کافی اندوہناک منظر کشی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی، برطانیہ اور پورٹو ریکو میں کیڑے مکوڑوں کی تعداد ہر سال دو عشاریہ پانچ فیصد کم ہو رہی ہے۔ اِن تین ممالک میں گزشتہ 30 برسوں سے کیڑے مکوڑوں کی تعداد کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر سانچیز بایو کہتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں جہاں تحقیق کی جا رہی ہے وہاں کیڑوں کی تقریباً 41 فیصد اقسام کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سنہ 2017 میں ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جرمنی میں گزشتہ 30 برسوں میں اڑنے والے کیڑوں کی تعداد میں 75 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ کمی اُن 60 علاقوں میں دیکھنے میں آئی جہاں کیڑوں پر تحقیق کی جا رہی تھی۔
کیریبین جزیرے پورٹو ریکو میں ایک امریکی تحقیق کار نے دریافت کیا کہ وہاں گزشتہ چالیس برسوں میں کیڑوں کی تعداد میں 98 فیصد کمی آئی ہے۔ اِس صورتحال کا مطلب ہے کہ کئی اقسام کا مکمل خاتمہ۔
ڈاکٹر سانچیز بایو کے مطابق اگر موجودہ صورتحال کو تبدیل نہ کیا گیا تو ایک صدی کے اندر کیڑوں کی مختلف اقسام کی ایک بڑی تعداد مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
کیڑے مکوڑے جن علاقوں میں رہتے ہیں وہاں بڑے پیمانے پر کاشتکاری کو اِن کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
اِس کے علاوہ کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال اور عالمی درجۂ حرارت جیسی وجوہات بھی کیڑے مکوڑوں کی تعداد میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔
بری خبر یہ ہے کہ لال بیگوں جیسے کیڑے معدومی کے شکار کیڑوں کی جگہ لے لیں گے کیونکہ انھوں نے اپنے اندر ادویات کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کر لی ہے۔
یونیورسٹی آف سسکس کے پروفیسر ڈیو گولسن کا کہنا ہے کہ گرم ماحول کی وجہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے کیڑوں کی آبادی میں خوب اضافہ ہو گا کیونکہ ان کے ایسے تمام دشمن، جن کی بچے پیدا کرنے کی رفتار کم ہوتی ہے، ختم ہو جائیں گے۔
’یہ بہت ممکن ہے کہ ہمیں ہر طرف کچھ مخصوص کیڑے وباء کی طرح نظر آئیں اور وہ خوبصورت اور شاندار کیڑے مکوڑے جنھیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اگردگرد موجود ہیں، مثلاً شہد کی مکھیاں اور تتلیاں وغیرہ سب ختم ہو جائیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ اِس صورتحال کی بہتری کے لیے اقدادمات کیے جائیں۔
ڈاکٹر سانچیز بایو ان اقدامات کے بارے میں بتاتے ہیں ’ایسے علاقے بحال کیے جائیں جہاں دور دور تک درخت، پودے اور پھول ہوں، بازاروں سے خطرناک قسم کی کیڑے مار ادویات ختم کر دی جائیں اور کاربن میں کمی کرنے والی پالسیوں پر عمل درآمد جیسے اقدامت سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ انفرادی طور پر اگر لوگ آرگینک خوراک کی طرف مائل ہو جائیں تو اِس سے بھی کیڑے مکوڑوں کی قسمت بدلنے میں مدد ملے گی۔
’اِس طرح کاشتکاروں کو اپنے کھیتوں میں کیڑے مار ادویات کم استعمال کرنے کی ترغیب ملے گی اور ماحول میں ان زہریلی ادویات کا اثر کم ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں