شدید گرمی انسانی جانوں کے لیے خطرہ: ڈبلیو ایم او کی وارننگ

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شمالی نصف کرے کے کئی علاقوں میں ابتدائی موسمِ گرما کی شدید گرمی مستقبل میں خطرناک موسمی تغیرات کی نشاندہی کر رہی ہے۔

یورپ سمیت کئی خطوں میں ان دنوں دن اور رات دونوں اوقات میں شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے۔ تین دن پہلے اسپین کے قومی موسمیاتی محکمے نے جنوبی علاقے ال گریناڈو میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔
بارسلونا شہر میں ہفتے کے روز سڑکوں کی صفائی کرنے والی ایک کارکن شدید گرمی برداشت نہ کر سکی اور جان کی بازی ہار گئی۔ اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے جبکہ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شدید گرمی کے دوران بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی ترجمان کلیئر نولیس نے کہا کہ گرمی ہر شخص کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق دوپہر کے وقت پانی کے بغیر باہر نکلنے، بھاگنے یا سائیکل چلانے سے صحت کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یورپ میں درجہ حرارت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ شمالی افریقہ سے گرم ہواؤں کا آنا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے شدید موسمی حالات، جن میں غیر معمولی حدت بھی شامل ہے، پہلے سے زیادہ ہونے لگے ہیں۔ بحیرہ روم میں سطحِ سمندر کا درجہ حرارت بڑھنے سے ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔
کلیئر نولیس نے کہا کہ کوئلہ اور دیگر معدنی ایندھن کے استعمال سے عالمی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے آئندہ بھی گرمی کی شدید لہریں دیکھنے کو ملیں گی۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عوام کو سخت موسم سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا جبکہ قدرتی آفات سے بروقت خبردار کرنے والے سسٹم کو بھی مضبوط بنانا ہو گا۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق، مغربی اور جنوب مغربی یورپ کے کئی حصوں میں جون کے دوران دن اور رات دونوں وقت غیر معمولی طور پر درجہ حرارت زیادہ رہا۔
رپورٹس کے مطابق آنے والے برسوں میں یورپ میں گرمی کی شدت اور دورانیہ دونوں بڑھیں گے اور 2050 تک براعظم کی نصف آبادی شدید گرمی سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔

کلیئر نولیس کے مطابق اس بار یورپ میں جولائی کی ابتدا ہی میں شدید گرمی کا سامنا ہے جبکہ عموماً اس درجہ حرارت میں کچھ دیر سے اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں قومی موسمیاتی اداروں کی جانب سے بر وقت الرٹ جاری کرنا اور صحت کے تحفظ کی حکمت عملی تیار کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
ڈبلیو ایم او شدید موسم کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کر کے لوگوں کی صحت اور جان بچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی سطح پر مشاورت کی جاتی ہے تاکہ خطرے سے دوچار علاقوں میں بروقت اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔