سندھ ہائیکورٹ نے جامی کو حمید ہارون کیخلاف ہتک آمیز بیانات سے روک دیا

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے فلمساز جمشید محمود المعروف جامی کو ڈان کے چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او) حمید ہارون کے خلاف ہتک آمیز بیانات دینے سے روک دیا۔
جسٹس آغا فیصل پر مشتمل ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے مدعا علیہ (جامی) کو 12 فروری کے لیے نوٹس جاری کیا اور حکم دیا کہ اس عرصے میں وہ مدعی کے خلاف کسی بھی قسم کا ہتک آمیز بیان دینے سے روک دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ حمید ہارون نے 29 جنوری کو اپنے وکیل کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک ہتک عزت کا کیس دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جامی کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور مدعا علیہ کے لیے حکم امتناع مانگا تھا۔بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ مدعا علیہ (جامی) نے میڈیا میں ایک جعلی مہم چلائی جس میں الزام لگایا گیا کہ انہیں 13 برس قبل ریپ کیا گیا تھا جس وقت ان کی عمر شاید 34 برس تھی۔
وکیل کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں اس وقت یا اس کے بعد بھی قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے میں اس حوالے سے کوئی شکایت نہیں کی گئی۔
وکیل نے مزید کہا کہ جس وقت جامی نے مبینہ ریپ کا براہِ راست الزام حمید ہارون پر نہیں لگایا تھا اس وقت بھی حمید ہارون کے خلاف اور جامی کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔حمید ہارون نے مدعا علیہ سے ایک ارب ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ ’یہ رقم کسی فلاحی ادارے یا (آزادی صحافت سمیت) کسی نیک مقصد کے لیے جو عدالت مناسب سمجھے اور جو شرائط عدالت طے کرے ان کی بنیاد پر استعمال کی جائے گی‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں جامی اس الزام کے ساتھ سامنے آئے تھے کہ 13 برس قبل انہیں ایک ’میڈیا ٹائیکون‘ نے ریپ کیا، بعدازاں 28 دسمبر کو انہوں نے اپنے مبینہ ریپسٹ کے طور پر ڈان کے سی ای او کا نام لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں