یہ پارلیمنٹ!

جانتا ہوں اور الحمدللّٰہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ موجودہ اسمبلی کس طرح منتخب ہوئی ہے اوریہ کس قماش کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے اس لئے اس کی کارروائی دیکھنے کاکبھی اشتیاق نہیں رہا لیکن چونکہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کشمیر کے اہم مسئلے پر بحث ہوگی جبکہ مجھے کسی بات کے سلسلے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے بھی ملنا تھا۔
اس لئے پیر کی شام دل پر پتھر رکھ کر پارلیمنٹ ہائوس چلا گیا۔ حسب روایت سینیٹ کا اجلاس چار بجے وقت پر شروع ہوا جبکہ قومی اسمبلی کا حسب روایت لیٹ تھا۔ اس لئے میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے انتظار میں پہلے سینیٹ کی کارروائی دیکھنے بیٹھ گیا۔ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہاں کشمیر پر بات ہورہی ہے ، بلوچستان پر ، گلگت بلتستان پر اور نہ پشاور اور ٹانک میں دھرنا دینے والے قبائلیوں کے مسائل پر ۔
مہنگائی زیربحث تھی، بیروزگاری، آٹے کا بحران اور نہ چینی کی قیمتیں ۔وہاں ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل زیربحث تھا۔ یہ بل پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے ایسے سینیٹرز نے پیش کیا تھا جو خود کروڑپتی اور ارب پتی ہیں۔
عجیب تماشہ یہ تھا کہ مذکورہ بل کا محرک بھی پی ٹی آئی کا سینیٹرتھا اور بطور جماعت مخالفت بھی پی ٹی آئی کررہی تھی۔ اسی طرح مسلم لیگ(ن) کے ارب پتی سینیٹر سردار یعقوب ناصر محرکین میں شامل تھے جبکہ بطور جماعت مسلم لیگ(ن) نے مخالفت بھی کی۔ میرے لئے سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ بل کی سپورٹ کرنے والے زیادہ تر سینیٹرز پختون تھے اور وہ بھی قبائلی ۔
بل کےبنیادی محرکین پی ٹی آئی سے تعلق رکھنےو الے قبائلی سینیٹر سجادطوری اور مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے شمیم آفریدی تھے جبکہ حمایت میں بھرپور ڈیسک پی ٹی آئی ہی کے مرزا آفریدی اور ایوب آفریدی بجا رہے تھے۔
حیرت انگیز طور پر ان ارب پتی قبائلیوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ آج جب یہ خبر پشاور اور ٹانک کی سخت سردی میں کئی روز سے دھرنا دینے والے بے گھر اور مفلوک الحال قبائلیوں تک پہنچے گی تو ان کے احساسات کیا ہوں گے ۔ میرا دکھ اس لئے بھی گہرا تھا کہ ان کی اکثریت سے میرا ذاتی تعلق بھی ہے اور دل پر پتھر رکھ کر مجھے ضمیر کی آواز پر یہ تنقید کرنی پڑ رہی ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے شمیم آفریدی کے پاس اتنی دولت ہے کہ جب میاں نواز شریف اسلام آباد آتے ہیں تو ان کے بیٹے عباس آفریدی کے فارم ہائوس میں ٹھہرتے ہیں ۔ اسی طرح مرزا آفریدی اور ایوب آفریدی بھی الحمدللّٰہ ارب پتی اور عمران خان کے قریبی ساتھی اور فنانسرجاوید آفریدی(ہائرگروپ) کے قریبی عزیز ہیں لیکن اس بدحالی کے دور میں بھی وہ اپنی تنخواہیں بڑھانا چاہتے ہیں۔
حیران کن طور پر محمود خان اچکزئی کے سینیٹ میں نمائندے سینیٹر عثمان کاکڑ نے بھی تنخواہوں میں اضافے کی بھرپور حمایت کی اور اس لہر میں میڈیا والوں پر بھی خوب برسے۔ کہنے لگے کہ وہ ٹی وی اینکرز بھی ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر تنقید کررہے ہیں جو خود لاکھوں روپے تنخواہ لے رہے ہیں ۔
نہ جانے اتنے سمجھدار انسان کے ذہن میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ میڈیا اینکرز کو تنخواہیں سرکار کے خزانے سے نہیں بلکہ ٹی وی مالکان کی جیب سے ملتی ہیں جبکہ ممبران پارلیمنٹ قوم کے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں۔
اسی طرح ٹی وی اینکرز کبھی اس دعوے کے ساتھ نوکری کا آغاز نہیں کرتا کہ میں قوم کے لئے رول ماڈل بنوں گا جبکہ سیاستدان اس دعوے کے ساتھ میدان میں آتا ہے ۔ تاہم پھر بھی اگر کوئی ممبر پارلیمنٹ چاہے تو خوشی سے سیاست چھوڑ کر کسی ٹی وی چینل میں اینکر بن سکتا ہے اور پھر اگر وہ اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر ٹی وی مالک سے لاکھوں میں تنخواہ لے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔
یہ ممبران پارلیمنٹ دلیل یہ دے رہے تھے کہ چونکہ ججز ، جرنیلوں اور بیوروکریٹ کی تنخواہیں زیادہ ہیں اس لئے ان کی بھی بڑھنی چاہئیں۔ اب اگر ان کی اور عام آدمی کی تنخواہوں میں بہت فرق ہے تو ان کی تنخواہوں میں توازن لانے کا اختیار ٹی وی اینکرز نہیں بلکہ ان پارلیمنٹرین کے پاس ہے ۔
ہمت کرکے وہ توازن لے آئیں۔ تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ میڈیا اور عوام کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے بطور جماعت اس بل کی حمایت نہیں کی۔ پی ٹی آئی کے قائدایوان سینیٹر شبلی فراز، پیپلز پارٹی کی سینیٹرشیری رحمان، مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر راجہ ظفرالحق، جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق اورجے یو آئی کے عبدالغفور حیدری کی مخالفت کی وجہ سے یہ بل پاس نہ ہوسکا اور یوں سینیٹ بطور ادارہ مہنگائی کے سیلاب میں ڈوبے ہوئے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کا مرتکب نہ ہوا۔
سینیٹ سے نکل کر میں قومی اسمبلی کا اجلاس دیکھنے پہنچا ۔ تب اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کررہے تھے جبکہ اسپیکر اسد قیصر اپنے چیمبر میں کشمیر سے زیادہ کسی اہم ایشو ڈسکس کررہےتھے۔
میں قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں پہنچا تو زلفوں میں تازہ تازہ تیل لگائے امور کشمیر کے وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور، مونچھوں کو تائو دے کر کشمیر پر پالیسی بیان دینے کے لئے کھڑے ہوئے لیکن کشمیر سے ان پارلیمنٹیرین کی دلچسپی کا یہ عالم ہے یا پھر شاید علی امین کو اس قدر غیرسنجیدہ لیا جارہا تھا کہ اس وقت اسمبلی میں صرف پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے چند ممبران پارلیمنٹ یا پھر پی ٹی آئی کے چند غیرمعروف ممبران موجود تھے ۔
میں نے گنتی کی تو پی ٹی آئی کے پونے دو سو ممبران میں سے صرف اکیس اس وقت ایوان میں موجود تھے ۔ مسلم لیگ(ن) کا کوئی ممبر نظر نہیں آیا ۔ میں نے ذہن پر بہت زور دیا لیکن سمجھ نہیں سکا کہ ہمارے پیارے علی امین گنڈاپور کشمیر پر کیا پالیسی بیان کررہے ہیں کیونکہ ان کی تقریر میں کشمیر کا تذکرہ کم اور عمران خان کا زیادہ تھا۔
میں نے اپنے اوپر بہت جبر کیا کہ پورا خطاب سن سکوں لیکن اللّٰہ گواہ ہے کہ برداشت نہ کرسکا اور پریس گیلری میں ساتھ بیٹھے دوستوں سےا جازت لے کر نکل آیا۔
واپس جاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ نہ جانے آج جب پختون اور قبائلی سینیٹ کی کارروائی سے آگاہ ہوں گے تو وہ کیا سوچیں گے اور جب مقبوضہ کشمیر کی جیل میں محصور مظلوم کشمیریوں تک یہ خبر پہنچے گی کہ ان کے ایشو میں پاکستانی پارلیمنٹ کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی ؟
بار بار دل میں خیال آرہا ہے کہ میں بھی اس پارلیمنٹ پر وہ چیز بھیجوں جو عمران خان گزشتہ پارلیمنٹ پر بار بار بھیجا کرتے لیکن پھر یہ سوچ کر رک جاتا ہوں کہ خان صاحب تو لاڈلے تھے اور ان کی کسی حرکت کا برا نہیں منایا جاتا جبکہ میں تو عام پاکستانی ہوں ۔
اگر خان صاحب کے نقش قدم پر چلا تو کہیں نازک مزاج پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح نہ ہوجائے۔ اس لئے کالم یہیں پر ختم کرتا ہوں۔
saleem-safi-jang

اپنا تبصرہ بھیجیں