پنجاب میں پری مون سون کا نیا سلسلہ شروع

پنجاب میں پری مون سون کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث محکمہ موسمیات نے آئندہ پانچ روز کے لیے بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی ہے۔ لاہور سمیت پورے صوبے میں وقفے وقفے سے ہلکی اور شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔
لاہور میں گزشتہ روز ہونے والی بارش نے نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کیا بلکہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا، جس سے آمدورفت میں دشواری پیش آئی۔ بلدیہ عظمی لاہور نے ترقیاتی منصوبے 30 جون تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے جبکہ واسا نے 31 جولائی تک اپنے منصوبے مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 جون کے دوران پنجاب میں بارشوں کی وجہ سے 21 افراد جان بحق اور 57 زخمی ہوئے ہیں۔ طوفانی بارشوں نے لیسکو کے 220 کے وی کے دو گرڈ اسٹیشن بند کر دیے جس سے لاہور کے کئی علاقوں میں بجلی معطل رہی۔ تیز ہواﺅں کے طوفان نے کئی مقامات پر درخت اور دیواریں بھی گرا دیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں مری، لاہور، شیخوپورہ، اٹک اور گوجرانوالہ سمیت دیگر علاقوں میں بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں 27 گھر متاثر اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں بچے، خواتین اور مرد شامل ہیں، زیادہ اموات کمزور مکانات اور گرنے والی چھتوں کی وجہ سے ہوئیں۔
آسمانی بجلی گرنے اور بجلی کے کرنٹ لگنے کے واقعات میں بھی کئی افراد جان سے گئے، جن میں منڈی بہاوالدین اور گوجرانوالہ کے علاقے شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے حکومتی ہدایات کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب کے تمام دریاﺅں میں پانی کا بہاﺅ نارمل سطح پر ہے اور سیلابی خطرے سے نمٹنے کے لیے پی ڈی ایم اے نے مکمل انتظامات کیے ہیں۔ لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ حکام کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی دوران سندھ میں مون سون کی پہلی بارش کے دوران مختلف حادثات میں 13 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے ہیں۔ کراچی میں بجلی کے کرنٹ لگنے سمیت دیگر حادثات میں 8 افراد جان سے گئے، جبکہ تھرپارکر، بدین، حیدرآباد، عمرکوٹ اور خیرپور میں بھی اموات رپورٹ ہوئیں۔ بارش کے دوران 54 مویشی بھی ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تعداد تھرپارکر اور میرپور خاص کی ہے۔