برطانیہ میں فضائی آلودگی دمے کے مریضوں کے لیے خطرہ بن گئی

برطانیہ میں فضائی آلودگی کے باعث دمے اور سانس کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رائل کالج آف فزیشنز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر ہفتے تقریباً 500 اموات کی وجہ یہی آلودگی ہے، جس سے نیشنل ہیلتھ سسٹم پر سالانہ اربوں پاؤنڈ کا بوجھ پڑ رہا ہے۔
برطانیہ میں دمے کے مریضوں کی تعداد 54 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ درجنوں مریض دمے کے شدید دوروں کے باعث اسپتال پہنچتے ہیں۔ 2020 میں صرف انگلینڈ اور ویلز میں دمے سے 1335 اموات ریکارڈ ہوئیں، جن میں اکثریت بزرگ شہریوں کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی بھرمار، صنعتی سرگرمیاں اور زراعت میں استعمال ہونے والی کیمیکلز اس مسئلے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ لندن سمیت مختلف شہروں میں ماہرین اور شہری حکومت کو ماحول دوست اقدامات اور پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ گاڑیوں کی تعداد اور تیل کا استعمال کم ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے تو سانس کی بیماریاں مزید بڑھ سکتی ہیں اور صحت عامہ کا بحران سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔