ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی کی حیرت انگیز اور ناقابل یقین کہانی : جیوے پاکستان کی زبانی

بلاشبہ وہ ایک ذہین قابل اور بااصول انسان ہیں اور ان کا پورا کیریئر شاندار کامیابیوں سے بھرا پڑا ہے لیکن ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ان کی تقریریں انتہائی ڈرامائی انداز میں عمل میں آئی تھی اور تین گورنر اور دو وزرائے اعلی کے درمیان سیاسی تنازعات اختلافات ذاتی پسند ناپسند اور قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر قانونی اقدامات کیے جارہے تھے ایسے ماحول میں میرٹ پر ان کی تقرری کا عمل میں آنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا ۔سرچ کمیٹی نے میرٹ لسٹ میں انہیں ٹاپ دی لسٹ قرار دیا تھا لیکن کبھی ایک سیاسی جماعت اور کبھی دوسری جماعت ان کے خلاف ہو جاتی تھی کبھی ایک طاقتور شخصیت ان کی حمایت کرتی تو دوسری ناراض ہوجاتی یہ سلسلہ کافی عرصے تک چلتا رہا اور ڈاؤ یونیورسٹی کو بیس مہینے تک اپنے مستقل وائس چانسلر کی تقرری کا انتظار کرنا پڑا اس دوران پروفیسر مسعود حمید اور پروفیسر عمر فاروق اور پروفیسر مسرور اور پروفیسر خاور جمالی اور دیگر شخصیات کے درمیان ڈاؤ یونیورسٹی ایک فٹبال بن چکی تھی ۔ایک موقع ایسا آیا تھا کہ عدالت میں یہ معاملہ کیا اور عدالتی احکامات کے باوجود حکومت آئیں بائیں شائیں کر رہی تھی تب سعید قریشی کے خیر خواہ بھی صورتحال سے مایوس نظر آتے تھے ۔
کہا جاتا ہے کہ بعض لوگ قسمت کے دھنی ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بے شمار مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا اور مقابلہ کرنے کے بعد کامیابی حاصل کر پاتے ہیں وہ مشکلات سے گھبراتے نہیں اور رکاوٹوں سے پریشان نہیں ہوتے بلکہ مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرتے ہیں پھر خود کی دیوی ان پر مہربان ہو جاتی ہے کامیابی ہر مرحلے پر ان کے قدم چومتی ہے اور وہ دنیا کی نظروں میں بہت کامیاب اور خوش قسمت نظر آتے ہیں لیکن ان پر کیا بیت چکی ہوتی ہے یہ وہی جانتے ہیں یا ان کے ہم راز جانتے ہیں ۔

پروفیسر سعید قریشی کا شمار مشکلات کا سامنا کرنے اور رکاوٹوں کو عبور کرنے والے کامیاب لوگوں کی فہرست میں کیا جا سکتا ہے انہیں ڈاؤ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے سے روکنے کی بہت کوشش کی گئی ان کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی گئی بلکہ یہ کہا جائے کہ ان کے خلاف سازشیں کی گئیں تو غلط نہ ہوگا سرچ کمیٹی کی فہرست میں ٹاپ پوزیشن پر ان کا نام ہونے کے باوجود ان کو اس عہدے سے محروم رکھا گیا اور اس بات کی پوری کوشش کی گئی کہ انہیں یہ ادا نہ مل سکے پروفیسر مسعود حمید دو مرتبہ وائس چانسلر کے عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد تیسری مدت پر غیر قانونی طور پر براجمان تھے انہیں اس وقت کے طاقتور گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی پشت پناہی حاصل تھی معاملہ عدالت میں گیا اور قانون کے مطابق نئی اور مستقل تقرری کے لئے حکومت کو ہدایات جاری ہوئی قانون کے مطابق کوئی بھی شخص کسی بھی یونیورسٹی میں صرف دو مرتبہ ہی وائس چانسلر کے عہدے پر خدمات انجام دے سکتا ہے پھر خلاف قانون نوشاد شیخ کا نام سامنے لایا گیا ۔ایک موقع پر وزیر اعلی نے سعید قریشی کا نام دینے کے بعد واپس لے لیا اور ان کی جگہ پروفیسر عمر فاروق کا نام پیش کر دیا لیکن تیسرے گورنر نے میرٹ پر فیصلہ کیا اور وہ تیسرے گورنر تھے محمد زبیر ۔
ان سے پہلے یہ معاملہ جسٹس سعید الزماں صدیقی کے پاس گیا لیکن وہ علیل ہوگئے اور انتقال فرما گئے ۔

 

معاملہ عدالت میں تھا بار بار حکومت کو ہدایت کی جارہی تھی کہ وائس چانسلر مستقل بنیادوں پر لگایا جائے کراچی یونیورسٹی سندھ یونیورسٹی اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر مستقل بنیاد پر لگانے کے واضح احکامات جاری کیے گئے تھے کراچی اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کی تقرری عمل میں لائے جانے کے باوجود ڈاؤیونیورسٹی کا معاملہ لٹکایا جاتا رہا کبھی وزیراعلی کے سیکرٹری برائے یونیورسٹیز بورڈ عدالت میں پیش نہیں ہوتے تھے کبھی کہا جاتا تھا کہ وزیراعلیٰ اس سے میں گورنر سے ملاقات کریں گے کبھی کہا جاتا تھا کہ شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں سے وزیراعلی خود انٹرویو کریں گے غرض یہ کہ ہر طریقے سے معاملے کو لٹکانے اور وقت ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اس سارے معاملے میں 20 مہینے کا وقت گزر گیا ڈاؤ یونیورسٹی کو اپنے مستقل وائس چانسلر کے حصول میں بیس مہینے انتظار کرنا پڑا اور بالآخر گورنر محمد زبیر نے میرٹ پر فیصلہ کیا اور پروفیسر سعید قریشی ہیں اس کے اصل حقدار نکلے یونیورسٹی کی تاریخ میں وہ پہلے وائس چانسلر بنے جن کی تقریریں خاصتا میرٹ پر عمل میں آئی۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے مخلص اور خیر خواہ حلقوں میں پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی کی تقرری کا خیرمقدم کیا گیا جبکہ مفاد پرست عناصر کے منہ لٹک گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سعید قریشی ایک بااصول آباد کردار انسان ہے اور وہ یونیورسٹی میں مفاد پرستوں کی دال نہیں گلنے دیں گے اور اب یونیورسٹی کو اصولوں پر چلایا جائے گا اور وقت نے ثابت کیا کہ سعید قریشی ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر سامنے آئے ۔
مخالفین ان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے اور آج بھی وہ کوئی موقع جانے نہیں دیتے لیکن اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے مخالفین ہر محاذ پر ناکام ہوئے اور پروفیسر سعید قریشی عزت اور احترام کے ساتھ کامیابیاں حاصل کرتے جا رہے ہیں ۔

کچھ عرصہ قبل جب علاج کی غرض سے پروفیسر سعید قریشی بیرون ملک گئے تو مخالفین نے یہ افواہیں بھی پھیلائیں کے نیب نے ان کی فائل کھول دی ہے جب وہ ایم ایس تھے تب کے معاملات کی انکوائری شروع ہوگئی ہے اور اب سعید قریشی پاکستان واپس نہیں آئیں گے ۔لیکن مخالفین کی یہ سازش اور منفی پروپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا اور سعید قریشی آپریشن کرانے کے بعد لندن سے کراچی واپس آگئے اور فرائض سنبھال لیے ۔
سعید قریشی دراصل ایک بااصول اور منفرد طبیعت کے مالک ہیں دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے اپنے کارڈز کے ساتھ مخلص ہیں اور آنے والی نسلوں کی بہتری اور بھلائی کے کاموں پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ۔
دردمند اور خوف خدا رکھنے والے انسان ہیں تو کی اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرکے قلبی سکون محسوس کرتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ انتہائی ذہین قابل اور محنتی انسان ہیں بنیادی طور پر سادہ طبیعت کے خوشبو لیباس خوش گفتار اور خوش مزاج شخصیت کے مالک ہیں بے شمار لوگوں کے لیے وہ ایک مسیحا ہیں اور لوگ ان کی بے پناہ عزت اور احترام کرتے ہیں کچھ لوگوں کے لیے وہ انتہائی مغرور اور خود غرض انسان ہیں خالہ کے حقیقت اس کے برعکس سے وہ انتہائی باذوق اور مخلص انسان ہیں اداروں کو کامیابی سے چلانے کے لیے ڈسپلن ضروری ہوتا ہے اسی لیے وہ ڈسپلن کو فالو کرتے ہیں اور اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتے ان کی سخت گیر طبیعت اور قواعد اور ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو بعض لوگ ان کی عادت کا غلط تاثر دیتے ہیں اور انہیں خود غرض اور مغرور کہتے ہیں ۔لیکن جو لوگ سعید قریشی کو آج سے نہیں بلکہ کئی برس سے جانتے ہیں وہ وہی دیتے ہیں مخلص انسان ہے ۔پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی انتظامیہ اپنی اور اپنے قارئین کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی کوئی کامیابیوں پر انہیں مبارکباد پیش کرتی ہے اور مستقبل میں ان کی مزید نیک نامی عزت احترام اور کامیابیوں کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہے ۔








اپنا تبصرہ بھیجیں