پاکستان پیپلز پارٹی کے تحت یوم یکجہتی کشمیر پر جلسہ سے فریال تالپور، نثار کھوڑو، چوہدری لطیف اکبر اور دیگر رہنماؤں کا خطاب

کراچی  :  پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو مہنگائی اور معاشی بدحالی کا تحفہ دینے والی حکومت بتائے کہ کشمیریوں کو کس جرم کی سزا دی ہے۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لیے ایک ہزار سال تک لڑنے کا عزم کیا۔ دنیا میں امن کے لیے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہو گا۔ بھارتی افواج کے مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی سربراہ فریال تالپور نے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر (سندھ زون) اور کراچی ڈویژن کے تحت یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقامی ہوٹل میں منعقدہ جلسے میں شہر کے مختلف علاقوں سے نکلنے والی یوم کیجہتی کشمیر ریلیوں نے شرکت کی۔ مقامی ہوٹل میں جلسے میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، وزیر تعلیم سعید غنی،سیکرٹری جنرل وقار مہدی،راشد ربانی،سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ،پیپلز پارٹی آزاد کشمیرکے صدر لطیف اکبر،سابق قائم مقام وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری پر ویز اشرف، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری فیصل ممتاز راٹھور، نائب صدر مطلوب انقلابی، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر سندھ کے صدر سردار فیصل خان، اقبال کشمیری، ظفر اقبال، صوبائی وزیر شہلا رضا، شاہدہ رحمانی، آصف خان، امان اللہ محسود، حبیب الدین جنید ی، ذوالفقار قائم خانی،ندیم بھٹو، شکیل چوہدری لیاقت آسکانی، اقبال ساند، خلیل ہوت، جاوید شیخ،ساجد جوکھیو،دل محمد،لالہ عبدالرحیم، شاہینہ شیر علی اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر شاعر نصرت خان نصرت نے کشمیر بنے گا پاکستان پر اپنی نظم پیش کی۔ فریال تالپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر، سندھ اور کراچی کی تنظیموں کو سلام پیش کرتی ہوں اور زبردست جلسہ کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ریاست جموں کشمیر اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دلفریب ٹکڑا ہے۔سیاسی اور مذہبی طور پر ہم اس کے ساتھ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لیے جو سیاسی جدوجہد شروع کی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ہزار سال تک کشمیر کے لیے لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری جان میں جان ہے ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ جب تک کشمیر ایشو حل نہیں ہوتا ہم جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہندوستان 70 سال سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ فریال تالپور نے کہا کہ میں کشمیر کی لاکھوں ماؤں بہنوں اور نوجوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ کشمیر میں آئے روز انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، عالمی برادری نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پروگرام اس لیے اہم ہے کہ یہ دن منانے کا فیصلہ بے نظیر بھٹو نے کیا تھا۔ کشمیر اور پاکستان پیپلز پارٹی لازم و ملزوم ہے۔ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ انشاء اللہ فیصلہ پاکستان کے حق میں ہو گا۔ کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 200 دن ہو گئے ہیں کشمیروں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ ہماری حکومت خاموش ہے۔ کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی ہے۔ جب تک ہماری جان میں جان باقی ہے کوئی کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا اور ہم کرنے بھی نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو دنیا میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان کی حکومت نے عوام کو بے روزگاری کا نشانہ بنایا ہے۔ کشمیریوں کو کس چیز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ 5 فروری کا دن ہمیں عہد کرنے کا سبق دیتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے جو رشتہ کشمیر کے ساتھ بنایا ہے ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔ آج کے پروگرام میں نہ صرف کشمیری اور پنجاب کے لوگ بھی شامل ہیں۔ فریال تالپور نے کہا کہ۔ یہ ہمارا پہلا قدم ہے۔ کشمیریوں کے لیے ہمارے جلسے جلوس ہوتے رہیں گے۔ کشمیر کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں کشمیر کی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر لطیف اکبر نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری 1975 ء کو کال دی اور یوم یکجہتی کشمیر ساری دنیا میں منایا گیا۔ مار شل کے دور میں لوگ کشمیر کو بھول گئے تھے۔ 1988 ء کے بعد بے نظیر بھٹو نے ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کو آگے بڑھایا۔ مشرف کے مارشل کے بعد آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم کشمیر کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کشمیر کی جدوجہد آزادی کو آگے بڑھائیں گے۔ 5 اگست کو بھارت نے کشمیر کو ختم کرنے کی کوشش کی تو پیپلز پارٹی کی قیادت اور بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں اجلاس بلایا اور فیصلہ کیا کہ وہ آزاد کشمیر جائیں گے اور جلسہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فریال تالپور بیمار تھیں لیکن انہیں رات کے وقت جیل منتقل کر دیا گیا۔ ہم اس کو کیا سمجھیں۔ کشمیری کیا سمجھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ انتقامی کارروائیاں کیوں کی جاتی ہیں کہ پیپلز پارٹی مظلوموں کی بات کرتے ہیں۔ اتنا نقصان کسی اور سے نہیں ہوتا، جتنا نقصان کسی احمق کے اقتدار میں آنے سے ہوتا ہے اور آج پاکستان میں ایک احمق اقتدار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جادو اور دعاوں سے نہیں چلتی۔ یہ چندے سے حکومت چلانا چاہتے ہیں۔ ہم ان سے مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 150 دن ہو گئے کشمیر میں کرفیو ہے۔ آر ایس ایس کے غنڈے ہمارے نوجوانوں اور خواتین کو اغواء کر رہے ہیں۔ ہماری خواتین لا پتہ ہیں لیکن کچھ معلوم نہیں۔ آج بھی کشمیری خواتین اپنے شہداء کو پاکستان کے پرچم میں دفن کرتی ہیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ بھارت میں ہی بھارت یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ 5 فروری کمشیریوں سے یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تجویز کیا تھا۔ کوئی بھی حکومت پیپلز پارٹی کے بانی کی کشمیر کی خدمات پر اجاگر کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لیے ہزاروں سال کی جنگ کا اعلان کیا تھا، آج بھی یہ جدوجہد جاری ہے۔ ایک دن ضرور آئے گا کہ کشمیر کو آزادی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے یوم تاسیس آزاد کشمیر میں اس لیے منایا تھا کہ ہم سب کو کشمیر کے لیے جہاد کرنا پڑے گا۔ افسوس ہے کہ جب بلاول بھٹو زرداری کشمیرمیں کھڑے ہو کر کہتا تھا جو مودی کا یار ہے غدار ہے۔ تو ہمارا وزیر اعظم اس وقت مودی کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہا تھا۔ ہمارے وزیر اعظم نے کہا مودی آئے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا۔ اب ہمارے وزیر اعظم نے اپنا کیس کمزورکیا ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام ہے کہ انہوں نے آج بھی اپنی جدوجہد کا جاری رکھا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھ گئے لیکن کشمیریوں کے لیے سچے ثابت ہوئے۔ بے نظیر بھٹو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شہید ہو گئیں۔ آج کے جلسے میں کشمیریوں کے ساتھ کراچی کے لوگ بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یوٹرن کرنا نہیں جانتے بلکہ پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔ ہم دم دبا کر بھاگتے نہیں ہیں گولیاں پیٹھ پر نہیں کھاتے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لیے سینے پر گولیاں کھائیں گے۔ ہم نے کبھی قبضہ برداشت نہیں کیا۔ہم نے ضیاء الحق، مشرف کسی کا قبضہ قبول نہیں کیا، کشمیر پر مودی کا قبضہ بھی قبول نہیں کریں گے۔ آج کراچی ڈویژن کے جلسے نے کشمیریوں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ پیپلز پارٹی کشمیریوں کے ساتھ ہے، ہمارا پنجاب، بلوچستان کے پی کے اور سندھ بھی کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ سابق قائم مقام وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری پرویز اشرف نے کہا کہ تاشقند میں پیپلز پارٹی کے بانی نے اختلاف کرکے پیپلز پارٹی کا قیام کیا اور کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد شروع کی۔ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جہاں کشمیروں کا پسینہ گرے گا، وہاں ہمارا لہو گرے گا۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو پاکستان میں خطرات منڈ لا رہے تھے۔ کشمیر بھی خطرے میں پڑ گیا تھا۔
اس کے بعد جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کا نعرہ دیا تھا، اسی طرح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کشمیر کے لیے نعرہ دیا کہ ”ہمارا نعرہ سب پر بھاری، رائے شماری رائے شماری“۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا یہ جرم تھا کہ اس نے کشمیر کی آواز اٹھائی اور پاکستان کو مضبوط کیا۔ اسی لیے اسے تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ انہوں نے اپنی جان قربان کر دی۔لیکن پاکستان پر آنچ نہیں آنے دی۔ سردار فیصل خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے کاز کے ساتھ کھڑی ہے۔ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا، وہاں وہاں کشمیر آزاد ہو گا آج ہمارا نعرہ سب پر بھاری، رائے شماری رائے شماری۔ ہم کشمیری اس وقت تک پریشان نہیں ہوں گے جب تک پیپلز پارٹی کے جیالے کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اہل کشمیر 1947 ء سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانیں دیں اور لاکھوں کشمیریوں نے ہجرت کی۔ اس کے وہاں کے باسیوں نے ہمیشہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ مقبول کشمیری نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی آزادی کا ضامن ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیریوں کو ایٹمی طاقت بنایا۔ پاکستان ہمیشہ سے کشمیریوں کی جدوجہد کا محور رہا ہے اور رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں