تبدیلیاں لانے کے لئے متعدد آپشن زیر غور

مسلم لیگ ن پاور بروکرز کے ساتھ رابطوں میں سرگرم ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق جیو ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے مسلم لیگ ن پاوربروکر کے ساتھ رابطے میں سرگرم ہے۔ ایک اہم افسر دو ماہ قبل مذاکرات کے لئے لندن گئے ۔ تبدیلیاں لانے کے لئے متعدد آپشن زیر غور لائیں گئیں۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کیلئے قومی حکومت کے قیام پر غور کیا گیا جو مسلم لیگ ن آمادہ نہ ہوئی ۔
تاہم شہبا زشریف نے عام انتخابات کی تجویز دی جس کو نو ٹ کر لیا گیا ۔ قومی حکومت کی آپشن کو اس لئے تسلیم نہ کیا گیا کیونکہ اس میں کوئی بھی شخص آزادانہ کردار ادا نہیں کر سکتا ۔ فوری طور پر انتخابات نہ ہونے کی صورت میں اپوزیشن کے نام پر شہباز شریف نے نواز شریف سے بات چیت کی، جس کے بعد خواجہ آصف کا نام دیا گیا بعدازاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام دے دیا ۔جس کا اظہار شاہد خاقان کے ایک قریبی رشت دار فرخ عباسی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ” شاہد خاقان عباسی اپوزیشن لیڈر آئندہ ہفتے ، انشاء اللہ “ ۔ بعدازاں فرخ عباسی نے یہ پیغام ڈیلیٹ کردیا ۔ واضح رہے اس سے قبل دنیا نیوز کے رپورٹر طارق عزیزنے دعویٰ کرتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ رہنما ق لیگ پرویز الٰہی نے یہ کمیٹی ن لیگ میں ڈالی ہوئی ہے۔
رپورٹر نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں پارٹیوں میں رابطوں کی خبروں کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد پرویز الٰہی کی کمیٹی کا نکلنا شہبازشریف کی واپسی پر متوقع ہے۔ دونوں پارٹیوں میں رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی تصدیق دونوں پارٹیوں کی جانب سے کی گئی ہے۔ تاہم اب دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن پاور بروکرز کے ساتھ رابطوں میں سرگرم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں