ہمارے سینما ویران کیوں ہوئے؟

یک وقت تھا جب پاکستان کی فلمی صنعت خطے میں اپنا ایک مقام رکھتی تھی۔ مگر قیام پاکستان کے کوئی 30 سال بعد ایک آمر کے دور حکومت میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر جا بہ جا پابندیاں لگانے اور صنعت کو ایک مخصوص طبقے تک محدود رکھنے کے باعث فلمی صنعت بھی زوال کا شکار ہونا شروع ہو گئی۔
ایک وقت ایسا آیا کہ ہمارے سینماؤں میں صرف گجر، گنڈاسہ فلمیں یا بھر پشتو زبان میں بنائی گئی ہیجان خیز رقص پر مبنی فلمیں لگا کرتی تھیں جہاں معیاری فلموں کے شوقین افراد جانا پسند نہیں کرتے تھے۔1990کی دہائی میں کئی فلم سازوں نے فلم انڈسٹری کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر تقریباً ایک دہائی تک سینما سے دور رہ کر وی سی آر پر انڈین فلمیں دیکھنے والوں کا معیار یکسر بدل چکا تھا۔ ایسے میں یہ وقتی سنبھال مسقتل نہ رہ سکا اور سینما گھر پلازہ اور شاپنگ مال میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے۔ 90 کی دہائی کے اختتام تک چند بچے کچھے سینماؤں میں کبھی کبھار کوئی معیاری ہالی وڈ یا انگریزی زبان کی فلم ہی لگا کرتی تھیں۔
اس دوران انڈیا کی فلم انڈسٹری مختلف ادوار سے گزرتی ہوئی ترقی کرکے بالی وڈ بن چکی تھی جہاں تکنیکی لحاظ سے معیاری اور پھر وہاں کے متبادل سینما کی موضوعاتی فلموں نے لوگوں کو ہر طرح کی تفریح فراہم کررکھی۔ یاد رہے کہ 1965 کی پاک انڈیا جنگ کے بعد پاکستانی سینماؤں میں انڈین فلموں کی نمائش پر ایک قانون کے تحت مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی۔
آج سے تقریبا سترہ سال قبل کراچی کے پہلے ملٹی پلیکس کا افتتاح ہوا۔ ساحل سمندر پر واقع اس تھیٹر نما سینما میں کوئی چار ہال تھے جن میں کل چار سو کے قریب افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اس سینما میں شروع میں تو ہالی وڈ فلمیں یا کبھی کبھار کوئی پاکستانی فلم لگا کرتی تھیں لیکن اس وقت کے حکمران پرویز مشرف نے قانون میں کچھ نرمی اور ردوبدل کے بعد پاکستانی ڈسٹری بیوٹرز کو انڈین فلمیں برآمد کرنے اور سینما مالکان کو ان کی نمائش کی اجازت دے دی۔

قیام پاکستان کے کوئی 30 سال بعد ایک آمر کے دور حکومت میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر جا بجا پابندیوں نے فلمی صنعت کو زوال سے دوچار کیا (فوٹو: سوشل میڈیا)

اس فیصلے کے بعد جیسے پاکستان کی سوئی ہوئی سینما انڈسٹری میں جان سی پڑ گئی۔ کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں انڈین فلموں اور ستاروں کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اس لیے کراچی کے ملٹی پلیکس اور ملک کے دیگر سینما جو ویران پڑے رہتے تھے وہاں فلم بینوں کا رش لگ گیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ایک بالی وڈ فلم دیکھنے کے لیے کئی دن پہلے اس کا ٹکٹ خریدنا پڑتا تھا۔ یہ رحجان دیکھتے ہوئے ملک بھر میں مزید ملٹی پلیکس کھل گئے۔
سینما کی بڑھتی ہوئی گہما گہمی کو دیکھتے ہوئے آخر پاکستانی فلمساز بھی میدان میں آگئے اور ملک کے جانے مانے ہدایت کار شعیب منصور نے 2007 میں نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں پر پڑنے والے مختلف اثرات کے موضوع پر ایک فلم ’خدا کے لیے‘ بنا ڈالی جسے عوام کی اکثریت نے پسند کیا۔ اس فلم میں اداکار شان ایک بالکل مختلف اوتار میں نظر آئے اور پنجاب کی فلموں میں گنڈاسہ اٹھائے شان شاہد کو لوگ ایک سنجیدہ اورسلجھے ہوئے کردار میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔
اگلے کچھ سالوں تک پاکستانی فلم ساز تھوڑے تھوڑے عرصے بعد فلمیں بناتے رہے لیکن سال 2013 میں پاکستان کے نامور پروڈیوسر اور اداکار ہمایوں سعید نے ایک مکمل کمرشل فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ پیش کی تو اس نے اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود شائقین اور ناقدین دونوں کی توجہ حاصل کی۔
اس فلم کو پاکستانی سینما کے نئے جنم کی بنیاد کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اگلے برس پروڈیوسر فضہ علی مرزا اور ہدایت کار نبیل قریشی کہ فلم ’نامعلوم افراد‘ نے جیسے پاکستانی فلم انڈسٹری کے مردہ جسم میں جان ڈال دی۔ فلم کا موضوع اور بہتر ہدایت کاری اور اداکاری کی وجہ سے یہ فلم ہٹ فلم قرار پائی۔

نئی فلمیں بننے سے ٹیلی ویژن کے کئی اداکار بھی سٹار بن گئے (فوٹو: سوشل میڈیا)

اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور ڈراموں اور اشتہاری فلموں کے بھی کئی ہدایت کاروں نے فلمیں بنائیں جن میں ندیم بیگ، نبیل قریشی، یاسر نواز، وجاہت رؤف، جامی اور عاصم رضا سرفہرست ہیں۔ کچھ کامیاب رہیں کچھ کو فلم بینون نے مسترد کردیا۔
ٹیلی ویژن کے اداکار بھی فلم سٹار بن گئے جیسے ماہرہ خان، مہوش حیات، فہد مصطفیٰ، اور صبا قمر۔ نئے سینما بھی بننے لگے جو پہلے کی نسبت زیادہ گنجائش اور جدید طرز کے ساتھ نبائے گئے تھے۔ ساتھ ہی پاکستان کے اداکاروں کو بھی بالی وڈ میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی جہاں انہوں نے بہترین کام کیا اور خوب نام اور عزت حاصل کی۔ یہاں پاکستانی ہدایت کاروں کا کام بھی ایک سے دو فلمیں بنانے کے بعد نکھرنے لگا تھا۔
گذشتہ دہائی میں شعیب منصور کی فلم بول کے علاوہ وار، زندہ بھاگ، او ٹو ون، منٹو، مور، کیک اور لال کبوتر جیسی فلمیں بھی بنیں لیکن یہ فلمیں اپنے موضوع میں ایک متبادل سینما ہونے کی وجہ سے شائقین کی ایک محدود توجہ ہی حاصل کر پائیں۔
اس دہائی کی کامیاب کمرشل فلموں میں ایکٹر ان لا، پنجاب نہیں جاؤں گی، جوانی پھر نہیں آنی، رانگ نمبر، طیفا ان ٹربل، اور باجی کو شمار کیا جاسکتا ہے۔
یہاں اس پوری تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستانی فلمی صنعت کے نئے جنم کی مختصر سی تاریخ رقم کرنے یا اس صنعت کا پہیہ دوبارہ چلنے کی اصل وجہ (چاہے اس سے جتنا انکار کیا جائے) پاکستانی سینماؤں میں بالی وڈ فلموں کا لگنا تھا۔ نہ بالی وڈ ہوتا، نہ ہی پاکستانی سینما بڑھتے اور نہ ہی پاکستانی سرمایہ کار یہاں پیسہ لگانے کا سوچتے۔

فضا علی مرزا کا کہنا ہے کہ ساری دنیا کی طرح پاکستان میں غیر ملکی فلموں کا ایک کوٹہ ہوناچاہیے (فوٹو: سوشل میڈیا)

یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ پاکستانی فلموں کا چلنا یا ان کا بزنس بھی انڈین فلموں کے مرہون منت تھا۔ کیونکہ جب فلم بین انڈین فلمیں دیکھنے کے لیے سینماؤں کا رخ کرتے تھے تو ایک تو پاکستانی فلموں کی تشہیر ہوجایا کرتی تھی اور اکثر بالی وڈ فلم کا ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ پاکستانی فلمیں (خاص طورپر جس میں ان کے پسندیدہ اداکار ہوں) بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔ فلم اچھی ہوتی تو باہر جا کر اپنے دوست احباب اور سوشل میڈیا پر اس کی تعریف بھی کی جاتی تھی اورپھر مزید لوگ اسے دیکھنے سینما آیا کرتے تھے۔ اس عمل کو سینما کی زبان میں ’فٹ فال‘ کہا جاتا ہے۔
اس عمل نے سینما کے کاروبار کو رواں رکھا ہوا تھا جہاں وہ کسی بڑی بالی وڈ فلم سے بہت پیسہ کماتے اور ساتھ ہی پاکستانی فلموں کا بھی ایک قابل قدر بزنس چلتا رہتا۔
ایسا لگتا تھا کہ اب سفر شروع ہوچکا ہے اور انڈسٹری کسی ڈگر پر چل پڑی ہے کہ گذشتہ سال فروری میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدکی کے نتیجے میں انڈیا نے پاکستان کے ساتھ ہر طرح کے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا جس کا اثر فلموں پر بھی پڑا ہے اور انڈین پرڈیوسرز پاکستانی ڈسٹری بیوٹرز کو اپنی فلمیں دینے سے یکسر انکار کردیا۔
پاکستان میں لگنے والی آخری بالی وڈ فلم رنویر سنگھ کی ’گلی بوائے‘ تھی جو صرف پاکستان میں اپنے پہلے ہفتے میں تقریباً سات کروڑ روپے کا بزنس کرچکی تھی۔ بالی وڈ فلموں کے غائب ہونے کے بعد پاکستانی سینماؤں سے فلم بین بھی غائب ہونا شروع ہوگئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ عید پر لگنے والی بڑی سٹار کاسٹ کے ساتھ بنائی گئی پاکستانی فلمیں بھی توقع سے کم بزنس کر پائیں۔
یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی فلمیں چاہے کسی بھی معیار کی ہوں تعداد میں بھی بہت کم بنتی ہیں جبکہ سینما میں ہر ہفتے کم از کم ایک نئی معیاری فلم لگنی ضروری ہے تاکہ فلم بین متوجہ ہوسکیں۔

گذشتہ دہائی میں شعیب منصور کی فلم بول کے علاوہ وار، زندہ بھاگ، او ٹو ون، منٹو، مور، کیک اور لال کبوتر جیسی فلمیں بھی بنیں (فوٹو: سوشل میڈیا)

اب صورت حال یہ ہے کہ سینما میں انڈین فلمیں ہیں نہیں، ہالی وڈ فلموں کی مارکیٹ محدود ہے اور معیاری پاکستانی فلموں کی کمیابی نے سینماؤں کو پھر سے ویران کردیا ہے۔ پاکستان کی فلمی صنعت، جس کے مردہ جسم نے ابھی سانسیں لینا شروع ہی کی تھیں، ان وجوہات کی وجہ سے اس کے دوبارہ زوال کی باتیں شروع ہوگئی ہیں۔
اس سلسلے میں ہم نے ایٹریم سینما کے مالک ندیم مانڈوی والا سے بات کی۔ مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کا شمار پاکستان کے سب سے بڑے سینما مالکان اور فلم ڈسٹری بیوٹشن کمپنی میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بالی وڈفلموں کے نہ لگنے سے سینما کو تقریباً 50 فیصد نقصان ہوا ہے اور یہ نقصان دن بہ بڑھتا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تباہی کو پورا کرنے کے لیے ملک میں فلم کی پروڈکشن بڑھانی ہو گی۔
ندیم مانڈوی والا کے حساب سے موجودہ سال ہم سب کو مل کر اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی جس کے نتائج اگلے سال نظر آنا شروع ہوں گے لیکن اس کے باوجود بھی نقصان پورا تو نہیں ہوگا البتہ اس میں 20 سے 25 فیصد کمی ضرور آسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ایک سوال ہے کہ سال گزرنے کے بعد یہ نقصان کہاں تک پہنچ چکا ہوگا۔
ایور ریڈی پکچرز پاکستان کا سب سے بڑا فلم ڈسٹری بیوشن گروپ ہے جو گزشتہ 75 سال سے اس کام میں اپنا ایک نام بنا چکا ہے۔ ان کے ایک سینئر رکن زین ولی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سینما میں بالی وڈ فلم ہونے اور پاکستانی مواد کے کم ہونے کی وجہ سے سینما تقریباً خالی پڑے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنا خرچہ پورا نہیں کر پارہے۔

مومنہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستانی فلموں کی کہانیوں پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے ڈسڑی بیوٹرز کو بھی اپنا پیسہ واپس نہیں مل رہا۔
’اس وقت سینما میں لوگوں کا رش تقریباً 60 فیصد کم ہوگیا ہے جبکہ ملک بھرمیں تقریباً 40 فیصد سکرینز بند کی جاجکی ہیں۔‘
سینماؤں نے ہفتہ وار چھٹیوں کے علاوہ دن کے شوز تقریباً بند کردیے ہیں۔ ایک سکرین کے چھوٹے کئی سینما مکمل بند ہوچکے ہیں۔ زین ولی کا کہنا تھا کہ ان حالات میں انہوں نے ہالی وڈ فلمیں منگوانا بھی تقریباً بند کردی ہیں۔
’ دوسرا یہ کہ حکومت کی جانب سے فلمیں امپورٹ کرنے پر بھاری ٹیکس لگنے کی وجہ سے بھی ان کو غیرملکی فلمیں بہت مہنگی پڑ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دن پہلے ہم جس ریوائول کی باتیں کررہے تھے وہ اب نیچے کی طرف جارہا ہے۔‘
مومنہ درید اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے پروڈکشن ہاؤس ایم ڈی فلمز کو چلارہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ وقتی طور پر تو ہمیں بالی وڈ فلموں کے نہ ہونے سے نقصان ہورہا ہے۔ ’وہ اس طرح کہ بالی وڈ فلمیں زیادہ تعداد میں بنتی ہیں اور لگتی ہیں جس کی وجہ سے سینما میں لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے جبکہ ہمارے پاس ابھی اتنی فلمیں نہیں ہیں کہ ہر ہفتے سینما کی ضروت پوری کرسکیں۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ بالی وڈ بند ہونے کے فوراً بعد بہت سے فلم سازوں نے اپنی فلموں کا اعلان کردیا ہے۔
مومنہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستانی فلموں کی کہانیوں پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کہانی اچھی ہو تو کم بجٹ میں بھی ایک بہترین فلم بن سکتی ہے اور آہستہ آہستہ بالی وڈ کی غیر موجودگی سے پیدا ہونے والا فرق کم کرسکتے ہیں۔
انہوں نے حال ہی میں بالی وڈ کی انتہائی بڑے بجٹ کی فلموں کی ناکامی کی وجہ ان کے کم درجے کے مواد کو قرار دیا۔ مومنہ نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں کہ بالی وڈ فلمیں نہیں ہوں گی تو لوگ سینما جانا ہی چھوڑ دیں گے۔
فضہ علی مرزا پاکستان کی کامیاب انڈیپنڈنٹ فلم پروڈیوسر ہیں جنہوں نے ’نامعلوم افراد‘ اور ’ایکٹر ان لا‘ جیسی فلمیں بنا کر پاکستان کی موجودہ فلم انڈسٹری کے ریوائول میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
فضہ علی کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا پورا ملک امپورٹ اور ایکسپورٹ کے غیر متوازن ہونے کی وجہ سے نقصان میں جا رہا ہے۔ ہم مہنگی چیزیں باہر سے منگوا کر وہاں سستی چیزیں بھیج رہے ہیں۔ ہماری سینما انڈسٹری کا بھی یہی حال ہی۔
انہوں نے کہا کہ ’باہر سے معیاری فلمیں منگوا کر چلانے میں کوئی نقصان نہیں ہے چاہے وہ ہالی وڈ ہو، بالی وڈ ہو، ایرانی فلم ہو یا ترکی کی لیکن اس کے ساتھ ہماری فلمیں بھی باہر کے ممالک میں لگنی چاہئیں۔ ہاں مگر اس کے لیے ہمیں اپنی فلموں کا معیار بڑھانا پڑے گا۔‘

اس دہائی کی کامیاب فلموں میں ایکٹر ان لا، پنجاب نہیں جاؤنگی، جوانی پھر نہیں آنی اور رانگ نمبر شامل ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)

فضہ نےکہا کہ جہاں تک بالی وڈ فلموں کے نہ آنے سے سینما کے نقصان کی بات ہے تو ممکن ہے اس وجہ سے ہم خود انحصاری کی طرف چلے جائیں اور مزید بہتر اور زیادہ فلمیں بنائیں اور اس کے لیے ہم کوشش بھی کررہے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اگر مسقبل میں انڈین فلمیں کھلتی بھی ہیں تو وہاں سے صرف معیاری فلموں کا ہی انتخاب کیا جائے اورساری دنیا کی طرح پاکستان میں غیر ملکی فلموں کا ایک کوٹہ ہونا چاہیے۔
معروف ہدایت کار نبیل قریشی کا بھی یہی خیال ہے کہ بالی وڈ فلموں کے نہ آنے سے کم از کم ہمیں اس بات کی فکر تو ہوگی کہ ہم سینما کو زندہ رکھنے کے لیے زیادہ سے زیاہ تعداد میں معیاری فلمیں بنائیں۔
جہاں تک پاکستانی سینماؤں میں بالی وڈ فلموں کے لگنے کی بات ہے تو نبیل کہتے ہیں کہ بالی وڈ کے علاوہ دیگر ممالک کی فلمیں بھی پاکستان میں ضرور لگنی چاہیے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ان سے سینما کے بزنس کو بھی فائدہ ہوتا ہے لیکن جہاں آپ کی عزت اور وقار کی بات آجاتی ہے تو پھر یہ آپ کے لیے بزنس سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔

عاصم رضا کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پاکستانی سینماؤں میں ہندوستانی فلموں کو بند کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

ہدایت کار عاصم رضا کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پاکستانی سینماؤں میں ہندوستانی فلموں کو بند کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ جتنی ورائٹی ہو اتنا ہی اچھا ہے۔ اس مقابلے میں ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ زیادہ اچھا کام کریں۔ لیکن موجودہ حالات میں میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سینماؤں میں رش کم ہونے کی وجہ صرف بالی وڈ فلموں کی عدم دستیابی نہیں بلکہ لوگوں کی قوت خرید کا کم ہونا بھی ہے۔
پچھلے چند مہینوں کے دوران پاکستانی فلموں نے بھی توقع سے کم بزنس کیا ہے اور بہترین اور مقبول ہالی وڈ فلموں کے شوز میں بھی لوگوں کا کرش کم دیکھنے میں آیا۔
عاصم رضا نے مزید کہا کہ حکومت کو غیرملکی فلموں کی درآمد پر ٹیکس لگانا چاہیے جبکہ پاکستانی سینماؤں کو پاکستانی فلموں کے شوز کی قیمت کم کرنا ہوگا۔کوکب جہاں -کراچی-urdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں