پیار تے کراں، پر تنخواہ بڑی تھوڑی اے

عوام کے لیے مہنگائی میں زیادہ اضافہ ہو جائے تو اس ذیادتی کو ’ہوش ربا‘ اضافہ کہا جاتا ہے۔ ہوش ربا کی صفت کبھی تنخواہ میں اضافے کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ تنخواہ میں کافی اضافہ ہو تو ہم اسے کہتے ہیں ’خاطر خواہ اضافہ‘۔ گذشتہ روز پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں ایک سینیٹر نے ممبران کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش کر کے تمام اراکین کو مشکل میں ڈال دیا، دو سو سے تین سو فیصد اضافہ تجویز کیا گیا جسے یقینی طور پر ’ہوش ربا‘ ہی کہا جائے گا۔ پیسہ کسے برا لگتا ہے خاص کر وہ پیسہ جو سرکاری خزانے سے آئے، اکثریت چاہتی تو یہ تھی کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہو جائے لیکن پھر یہ ڈر بھی تھا کہ عوام کو کیا منہ دکھائیں گے اور لوگ کیا کہیں گے، بس اسی خوف سے اکثریت نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس اضافے کی تجویز کو مسترد کر دیا کہ جب تک ملکی معیشت نہیں سنبھلتی اس وقت تک اس اضافے کو موخر کر دیا جائے۔ لیکن اپنا مقدمہ پیش کر دیا کہ تنخواہوں مین اضافہ ناگزیر ہے، اب نہیں تو کچھ عرصہ بعد، جونہی معیشیت آئی سی یو سے جنرل وارڈ میں منتقل ہو گی تو ان ”غریب“ ارکان پارلیمان کی تنخواہیں بڑھا دی جائیں گی۔

ہمارے وزیراعظم تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ قلیل تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا بس باقی اراکین پارلیمنٹ کو اپنا کیس بنانے کے لیے موقع مل گیا۔ اب بھوکے عوام چاہے خودکشیاں کریں، گھر چلانے کے لیے چاہے کوئی گردے بیچے یا ’بچے برائے فروخت‘ کا اشتہار لگائے یا ارباب اختیار کو دل سے گالیاں اور بد دعائیں دے، اس سے اراکین پارلیمنٹ کو کوئی سروکار نہیں ہو گا کیونکہ جب وزیراعظم کا گذارا نہیں ہو رہا تو ایک عام رکن پارلیمنٹ بھلا اپنا کچن کیسے چلا سکتا ہے، اصلی مدینہ کی ریاست میں تو حاکم وقت اگر سرکاری خزانے سے اپنا کرتا بنواتا تو ان کی اس شاہ خرچی پر بھی ان کا احتساب ہوتا اور انہیں وضاحت دینا پڑتی۔

مدینہ کی ریاست میں ہی ایک خلیفہ کہتا کہ مزدور کی جو سب سے کم تنخواہ ہے وہ تنخواہ میری مقرر کر دو، اگر میرا گزارا نہ ہو سکا تو میں مزدور کی تنخواہ میں اضافہ کر دوں گا۔ مدینہ کی ریاست میں ہی خلیفہ نے کہا کہ اگر دریائے فراط کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا رہا تو اللہ کے حضور اس بابت ان سے باز پرس ہو گی، تاریخ اسلام بالعموم اور تاریخ ریاست مدینہ بالخصوص گڈ گورننس کی ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے، لیکن ایسی تمام مثالوں کی ایک جھلک بھی دور جدید میں نظر نہیں آتی۔ ناقدین تو کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں جب انسان مہنگائی اور غربت کی چکی میں پس رہا ہے اور شماریاتی اعداد چیخ چیخ کر عوام کی کسمپرسی کا رونا رو رہے ہیں تو ایسے میں اراکین پارلیمان کو تو تنخواہوں میں اضافے کی بجائے اپنے عوام سے یکجہتی کے لیے بلا معاوضہ کام کرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا کجا یہ کہ وہ تنخواہ بڑھانے کی بات کریں اور اس کے لیے پارلیمنٹ میں بحث کریں، اور یہ اضافہ بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ کئی گنا اضافہ تھا جو انہیں درکار تھا۔

ایک مذہبی سیاسی جماعت کے راہنما نے ضرور کہا کہ سیاستدان تو اپنے حلقے کے عوام کی خدمت کے لیے منتخب ہو کر آتے ہیں تو خدمت وہی ہوتی ہے جو بلا معاوضہ ہو، اگر کوئی تنخواہ وصول کرے گا تو اسے خدمت نہیں کہا جائے گا۔ بہر حال فی الحال تو اراکین پارلیمنٹ اپنی پرانی تخواہ پر ہی کام جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں لیکن جس انداز میں یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا گیا اور اس پر جو بحث ہوئی تو اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ غریب اراکین پارلیمنٹ عوامی خزانے سے اپنا حق لے کر رہیں گے، چاہے اس کے لیے انہیں عوام اور میڈیا کی شدید تنقید ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ آخردو وقت کی روٹی کمانا ان کا بھی حق ہے، اراکین پارلیمنٹ بھی بال بچے دار ہیں اسی لیے ان کی تنخواہوں میں اگر دو سو سے تین سو فیصد اضافہ ہو گیا تو شاید ان کے گھر کا کچن بھی چل پڑے اور ان کی سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رہ جائے۔

یہاں پر ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے کہ یہ اراکین پارلیمنٹ تنخواہوں کے علاوہ اور کتنی مراعات حاصل کرتے ہیں، اور ان پرکشش مراعات کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں اور کس کس طرح مختلف اجلاسوں میں جعلی حاضریاں بھی لگواتے ہیں، کوئی اگر یہ جان لے تو اسے ان اراکین کی غربت کا یقین ہو جائے۔

ایک مزدور کی تنخواہ تو حکومت صرف مقرر کرتی ہے لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہیں براہ راست سرکاری خزانے سے ادا کی جاتی ہیں اور ایسا صرف سال میں ایک بار بجٹ کے موقع پر ہی ہوتا ہے کہ ان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا اعلان کیا جاتا ہے اور ریکارڈ کے مطابق اس اضافہ کی اوسط شر ح دس سے پندرہ فیصد ہی رہتی ہے۔

ہر سال سرکاری ملازمین بجٹ آنے سے پہلے تنخواہوں میں ’ہوش ربا‘ اضافے کے لیے آواز اٹھاتے ہیں لیکن پھر جو مل جائے اسے ہی ’دلربا‘ سمجھ کر گزارا شروع کر دیتے ہیں، لیکن وہ اشرافیہ جو کہ پارلیمنٹ کے اندر براجمان ہے جو عوام کی خدمت کا وعدہ کر کے اسمبلیوں میں پہنچے ان کا موقف ہے کہ کم تنخواہ کے باعث وہ ٹھیک طور پر عوام کی خدمت نہ کر پائیں گے اس کے لیے ان کی تنخواہوں میں صرف اضافہ ہی نہیں بلکہ ’ہو شربا‘ اضافہ ہونا چاہیے۔ ان کی یہ بات سن کر ٹرکوں اور رکشوں کے پیچھے لکھا شعر بہت معنی خیز لگتا ہے، ’پیار تک کراں، پر تنخواہ بڑی تھوڑی اے‘ (پیار تو ضرور کرتا، لیکن کیا کروں تنخواہ بہت تھوڑی ہے)۔ ہائے بے چارے غریب اراکین(pakistan 24 )

اپنا تبصرہ بھیجیں