**بینکرز کی خوشیاں یا پالیسی کی غلطی؟ پاکستان کا 87 ارب روپے کا سوال**

**بینکرز کی خوشیاں یا پالیسی کی غلطی؟ پاکستان کا 87 ارب روپے کا سوال**

پاکستانی حکومت کے موجودہ بجٹ میں بینکوں کو ریمٹنس پر فیس کے طور پر 87 ارب روپے دینے کے فیصلے نے شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کو آسان بنانے کے لیے بینکوں کو ترغیب دے گا۔ لیکن تنقید کرنے والوں کے مطابق یہ “بینکرز کی خوش قسمتی” یا “پالیسی کی بڑی غلطی” ہے، کیونکہ بینکوں کو بہت کم محنت کے بدلے میں اتنی بڑی رقم کیوں دی جا رہی ہے؟

**ریمٹنس کا مسئلہ**
بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر گھر بھیجتے ہیں، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بینک ان ٹرانزیکشنز پر فیس وصول کرتے ہیں، جس کی واپسی حکومت کرتی ہے۔ تاہم، دیگر کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی غیرمنصفانہ ہے، کیونکہ بینکوں کو ان ٹرانزیکشنز کو آسان بنانے کے لیے خاص محنت نہیں کرنی پڑتی۔

**کیا یہ فیصلہ درست ہے؟**
تنقید کرنے والوں کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی غیرمنطقی ہے، کیونکہ بینکوں کو معمولی کام کے بدلے میں بھاری رقم دی جا رہی ہے۔ اس سے عوامی فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں—کیا یہ رقم کسی بہتر جگہ استعمال نہیں ہو سکتی؟ تاہم، حکومت کا اصرار ہے کہ ریمٹنس کو فروغ دینے کے لیے بینکوں کو یہ مراعات دینا ضروری ہے۔

**آگے کیا راستہ ہوگا؟**
جیسے جیسے بحث جاری ہے، یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت ان خدشات کو کیسے حل کرتی ہے۔ ایک ممکنہ حل یہ ہو سکتا ہے کہ اس پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے اور ایسے متبادل طریقے تلاش کیے جائیں جو بینکوں، حکومت اور بیرون ملک پاکستانیوں کے مفادات کو بہتر طریقے سے ہم آہنگ کر سکیں۔ آخرکار، ایک منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ ریمٹنس پاکستان کی معیشت میں اپنا اہم کردار جاری رکھ سکے۔
==============refrence….https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=27_06_2025_006_004