ججوں، جرنیلوں اور اینکرز کی تنخواہوں کی گونج

ججوں، جرنیلوں اور اینکرز کی تنخواہوں کی گونج
پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش کرنے کی تحریک مسترد کر دی گئی۔

پیر کی شام ایوان میں بل پر ارکان نے بحث کی اور سینیٹر بیرسٹر سیف نے خود کو غریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تںخواہ میں اضافہ ہونا چاہیے۔ جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھی تنخواہوں میں اضافے کی حمایت کی۔

حکومت کی جانب سے سینیٹر فیصل جاوید نے تنخواہیں بڑھنے کی مخالفت کی تو ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’تنخواہ کے بڑھنے سے قومی خزانہ پر اتنا بوجھ نہیں پڑتا۔ جنھوں نے تنخواہ نہیں لینی وہ نہ لیں۔ بلکہ جو ڈیڑھ لاکھ ٹی اے ڈی اے لے رہے ہیں وہ ایدھی سینٹر یا شوکت خانم میں دے دیں۔‘

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ ’ایوان کی اکثریت چاہتی ہے کہ تنخواہ بڑھے لیکن سیاست کرتے ہیں۔ ججز کی تنخواہ کیوں زیادہ ہے، قابل وکلاء ججز نہیں بننا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن بہت زیادہ ہے۔‘

عثمان کاکڑ نے ججوں کے ساتھ جرنیلوں اور ٹی وی اینکرز کی تنخواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ دس لاکھ سے پچاس ساٹھ لاکھ تک بھی تنخواہ لے رہے ہیں۔

بل کے محرک آزاد سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ ’یہ بل میں اور میرے ساتھی ایوان میں لائے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے اہم ہیں۔ پاکستان میں تمام اداروں جج، اتھارٹی سربراہ یا دیگر سربراہان کی تنخواہ سات آٹھ لاکھ روپے ہے۔ لیکن چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ دو لاکھ سے زیادہ نہیں۔ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر کی تنخواہ اور مرعات میں اضافہ کیا جائے۔‘

وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ ’حقائق کو دیکھا جائے تو بازئی صاحب جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے۔ چیف جسٹس کی تنخواہ 14 لاکھ ہے، سیکرٹری کی تین لاکھ ہے۔ ریگولیٹری اتھارٹی سربراہان کی تنخواہ سات آٹھ لاکھ روپے ہے۔ یہ سارا نظام ناانصافی پر مبنی ہے۔ حکومت تاہم بل کی مخالفت کرے گی۔ اس بل پر بحث ہونی چاہیے۔‘

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ’بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کی جانب سے بل کی مخالفت کا بتایا تو پی ٹی آئی کے ممبران نے میری مخالفت کی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’زمینی حقائق بہت ظالمانہ ہیں۔ عوام پر جو گزر رہی ہے اسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ملک میں شدید اقتصادی بحران ہے۔ اگر ہم نے اس وقت یہ بل منظور کیا تو بہت منفی پیغام جائے گا۔‘

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ ’چیئرمین سینیٹ بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔ لیکن تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر ہم سیاست عبادت کے طور پر کرتے ہیں تو عبادت پر تنخواہ نہیں ہوتی۔‘

سینیٹر پرویز رشید نے وزیراعظم پر تنقید کی اور کہا کہ ’تنخواہ بڑھے نہ بڑھے وہ ٹیکہ مل جائے اور لگ جائے کہ مجھے روپیہ ڈالر کی شکل میں نظر آئے۔ ایسے دوست لا دیں جو ہم پر خرچہ کریں ، جو ہمیں جہازوں میں لیکر چلیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب دوست وزیراعظم کے اخراجات اٹھائیں گے تو پوری قوم کو دوستوں کی اخراجات اٹھانے پڑیں گے۔‘

ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ ’ابھی سینیٹرز دوست لابی میں بیٹھ کر بات کر رہے تھے کہ بل تو اچھا ہے لیکن ہماری پارٹی پالیسی الگ ہے۔ اب انھیں خوف ہے کہ عوام کیا کہیں گے۔ بل پر خفیہ رائے شماری کرائیں 99 فیصد ووٹ بل کی حمایت میں آئیں گے۔‘

چیئرمین سینیٹ نے مسکرا کر تجویز دی کہ بل پر خفیہ رائے شماری کرا لیں؟ تو سینیٹر دلاور خان بولے کہ ’خفیہ رائے شماری کرا لیں بل کو 104 ووٹ ملیں گے۔ چیئرمین صاحب آپ رولنگ دے کر ہماری تنخواہ چوکیدار کے برابر کر دیں۔‘

بل پیش کرنے والے نصیب اللہ بازئی کا کہنا تھا کہ سب سینیٹرز نے بل پیش کرنے کے حوالے سے صبح حمایت کی تھی۔ اب سب سینیٹرز بدل گئے ہیں۔ میں یہ بل پیش ہی نہیں کرتا۔ جس پر چیئرمین نے کہا کہ بل تو پیش کرنا ہی پڑے گا۔

بحث کے بعد بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی تو حمایت میں 16 اور مخالفت میں 29 ووٹ آئے۔ مسلم لیگ ن کے دلاور خان اور یعقوب خان ناصر نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ پی کے میپ ، نیبشل پارٹی ، جمعیت علماء اسلام ف، اے این پی اور ایم کیو ایم نے بھی بل کی حمایت کی۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے بل کی مخالفت کی۔Pakistan24.tv-report

اپنا تبصرہ بھیجیں