برمنگھم()بھارتی قابض فوج کی طرف سے 184 دن سے جاری لاک ڈائون کی وجہ سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی معیشت کو اب تک اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے

برمنگھم()بھارتی قابض فوج کی طرف سے 184 دن سے جاری لاک ڈائون کی وجہ سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی معیشت کو اب تک اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونیوالے میٹھے اور مزیدار سیب کی تجار ت مد میں اب تک 10 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے ۔ان خیالات کا اظہار جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بٹ نے برمنگھم یونیورسٹی برطانیہ میں صدر کشمیر سوسائٹی کے صدرحسن خان کی زیر صدارت پروگرام بعنوان ”کشمیر کی تازہ صورتحال” پرلیکچر دیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کو صرف اس وجہ سے بند کیا گیا ہے کہ بھارتی غاصب حکومت کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی مانگنے کی پاداش میں سزاد ینا چاہتی ہے ۔الطاف احمدبٹ نے کہا کہ بھارتی زیر نگیں کشمیر کے محکمہ زراعت نے یہ انکشاف کیا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار کسی لاک ڈائون اور محاصرے سے کشمیری معیشت کو اتنے پیمانے پر نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ اصل میں بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی معیشت پر ایک کاری وار ہے وہ اسکو تباہ کرکے کشمیریوںکے حوصلے توڑنا چا ہتی ہے ۔اس لاک ڈائون اور محاصرہ کی صورتحال میں معیشت کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔انٹر نیٹ کی بندش سے طلباو طالبات کی بڑی تعداد اپنا ریسرچ ورک مکمل نہ کرسکی۔برمنگھم یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو ان متاثرہ کشمیری طلباء کیلئے آواز بلند کرنی چاہیے ۔الطاف احمد بٹ نے بھارت کے کشمیریوں کو جمہوری حقوق دینے کے جھوٹے دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ 1987 کے دھاندلی سے بھرپور الیکشن دنیا کو یاد ہیں جب نئی دیلی نے بھارت نوا ز امیدواروں کو فاتح ٹھہرنے والے نمائندوں کی جگہ پر دھاندلی کر کے جتوایا اور کٹھ پتلی حکومت قائم کرلی ۔کشمیر ی اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کیلئے جدوجہد کررہے ہیں جس کو دبانے کیلئے بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرر ہاہے ۔یہ بھارت ہی کہ جس نے 6 نومبر1947 میں تاریخ کی سب سے بڑی اور منظم نسل کشی کرتے ہوئے تین لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا یہ عمل آج بھی جاری وساری ہے مقبول بٹ اور افضل گرو شہید سے لیکر سینکڑوں ماورائے عدالت قتل کی داستانیں کشمیر کے چپے چپے پر بکھری پڑی ہیں ،مقبوضہ کشمیر کی خواتین غم اور الم کی مثا ل ہیں جن کے خاوند بھارتی افواج کی قید میں ہیں ،کوئی نہیں جانتا کہ وہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں ؟اب تک مقبوضہ کشمیر میں دس ہزار سے زائد گمنام قبریں دریافت ہوچکی ہیں ،جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ان شہدا کی قبریں ہیں جنہیں 1990 سے لیکر آج تک بھارتی افواج نے شہید کرکے خود ہی دفن کردیا ۔دنیا کو پتہ ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر دو ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑنے کی بنیادی وجہ بن سکتا ہے ۔بھارتی افواج کنٹرول لائن پر سویلین آبادی کو نشانہ بناتی ہیں ان کی گولہ بار ی سے اقوام متحدہ کے مبصر مشن تک دونوں اطراف کے کشمیری رسائی بھی حاصل نہیں کرسکتے ۔الطاف احمد بٹ نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019 ء کے بعد بھارتی افواج کے محاصرہ لاک ڈائون اورکرفیو سے کشمیریوں کا نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔1990 سے لیکر اب تک 1 لاکھ 80 ہزار کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے ۔پروگرام کے آخر میں طلباو طالبات نے الطاف احمد بٹ سے سوالا ت کئے ۔جب کہ کشمیر سوسائٹی کے صدر حسن خان نے الوداعی کلمات ادا کئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں