مراکش میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو ملنے والا ایوارڈ کس نے دیا حقیقت سامنے آگئی

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر احسن اقبال کو دیا جانے والا لائف اچیومنٹ ایوارڈ اس حوالے سے زیر بحث ہے کہ یہ ایوارڈ کس نے دیا کیا یہ ایوارڈ انہیں مراکش میں میزبان عالمی تنظیم نے دیا یا ان کی خدمات کا اعتراف ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی جانب سے کیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر احسن اقبال کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو ملنے والے ایوارڈ کو جگ ہنسائی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے اس بارے میں مراتش اور اسلام اباد میں اہم شخصیات سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کو مراکش میں اسلامی ممالک کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلر فورم ائیسیکو کی تقریب میں سٹیج پر بلا کر بالیوں کی گونج میں ایوارڈ تو دیا گیا اور یہ ایوارڈ اعلی تعلیم کے سلسلے میں ان کی بہترین خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا لیکن یہ لائف اچیومنٹ ایوارڈ اسلامی یونیورسٹیز کہ فورم کی جانب سے پیش نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کی ہائر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی پاکستان کی جانب سے دیا گیا جس نے غلط فہمی کی بنیاد پر یہ سمجھ لیا گیا کہ مراکش میں تقریب ہو رہی ہے اور اسلامی ممالک کی یونیورسٹیز کی 
تقریب ہے تو ایوارڈ بھی ان کی جانب سے دیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ اسلامی ممالک کی یونیورسٹیز کی اس اہم ترین تقریب میں پاکستان کے وفاقی وزیر احسن اقبال کی موجودگی میں ان کی اعلی تعلیم کے حوالے سے خدمات کو سراہا گیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو سٹیج پر اعلان کر کے مدعو کر کے یہ ایوارڈ دیا گیا جسے وہاں موجود ساری اسلامی یونیورسٹیز کے مندوبین نے دیکھا اور سراہا اب وفاقی وزیر اور حکومت کے مخالفین یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ وفاقی وزیر ایسن اقبال کو دیا جانے والا ایوارڈ جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ انہیں اسی تقریب میں ایوارڈ سے نوازا گیا اور ان کی خدمات کا اعتراف برملا طور پر کیا گیا اور تالیوں کی گونج میں انہوں نے یہ ایوارڈ وصول کیا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ایوارڈ پاکستان کی جانب سے یعنی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی جانب سے پیش کیا گیا ۔ مراکش میں ہونے والی یہ تقریب شروع دن سے ہی پاکستان کے اعلی تعلیمی حلقوں میں زیر بحث تھی جن یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو مدعو کیا گیا تھا ان کے دورہ مراکش کے اخراجات کے حوالے سے بھی لوگوں نے سوالات اٹھائے تھے کہ اس کا خرچہ سرکاری یونیورسٹی یا سرکاری فنڈز کی ہوں برداشت کریں جنہوں نے بلایا ہے وہ خرچہ کریں اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تقریبات مختلف مقامات پر ہوتی ہیں اور اسلامی یونیورسٹیز کی تقریب اس مرتبہ مراکش میں ہو رہی ہے اس لیے پاکستانی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو بھی وہاں پر مدعو کیا گیا ہے پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلر جب غیر ملکی دورے کرتے ہیں تو انہیں وفاقی اور صوبائی حکومت کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے وقت یہ بتانا پڑتا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد کیا ہے اور اس کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے خاص طور پر سندھ سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو ایسا کرنا پڑتا ہے اور صوبائی حکومت کو اس کی تفصیلات سے اگاہ کرنا پڑتا ہے سندھ حکومت کی جانب سے یہ پالیسی ہے کہ ایسے کسی بھی دورے میں اگر اخراجات سندھ کے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے نہیں ہو رہے اور بیرون ملک سے دعوت ہے اور بیرون ملک کے میزبان یا کوئی دوسرا ایسے دورے کے اخراجات برداشت کرنے کی حامی بھرتا ہے تو پھر ایسے پروگرام میں شرکت کی این او سی جاری کر دی جاتی ہے بصورت دیگر اس پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں مراکش میں ہونے والی یہ تقریب شروع دن سے ہی ایسے سوالات کی زد میں رہی ہے اور لگتا نہیں ہے کہ جنہوں نے شرکت کی ہے ان کی جان اسانی سے چھوٹ پائے گی یہ سوالات اڈٹ میں اور انے والے دنوں میں متعلقہ حکام اور دیگر فورمز پر ان کا پیچھا کرتے رہیں گے

























