چترال: کورونا وائرس کی افواہ پھیلانے کے الزام پر مقدمہچترال: کورونا وائرس کی افواہ پھیلانے کے الزام پر مقدمہ

چترال: کورونا وائرس کی افواہ پھیلانے کے الزام پر مقدمہپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر چترال میں پولیس نے منگل کو ایک شہری کے خلاف سوشل میڈیا پر کورونا وائرس پھیلنے کے حوالے افواہ پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
چترال کے علاقے دروش سے تعلق رکھنے والے شہری ارشاد مکرر کے خلاف مقدمہ اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایت پر درج کی گئی ہے۔
دورش پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او ولی خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ارشاد مکرر کے خلاف مقدمہ ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 25 اور 16 ایم پی او کے تحت درج کیا گیا ہےولی خان نے بتایا کہ اے سی دروش عبدالحق نے ایک خط کے ذریعے ایس ڈی پی او کو ارشاد مکرر کے خلاف سوشل میڈیا پر کورونا کے پھیلاؤ کے حوالے سے افواہیں پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا کہا تھا۔
ایڈیشنل اے سی دروش عبدالحق نے اردو نیوز کو بتایا کہ کل ڑاوی ہائیڈرو پارو پراجیکٹ میں کام کرنے والے ایک چینی باشندے کو پیٹ درد کی شکایت پر دروش ہسپتال لایا گیا۔
ملزم نے ہسپتال کے وارڈ میں جاکر ان کی تصویر اتاری اور اسے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا اور ساتھ لکھا کہ کورونا وائرس چترال پہنچ گیا اور وائرس میں مبتلا چینی باشندے کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ملزم کی پوسٹ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ’مجھے اور ڈی سی صاحب کو سارے سرکاری کام چھوڑ کر ہسپتال جانا پڑا، وہاں جا کر پتا چلا کہ چینی باشندے کو پیٹ درد کی شکایت تھی اور اسے طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارع کیا گیا ہے۔‘
عبدالحق کے مطابق چینی شہری چین میں وائرس پھیلنے سے پہلے ہی پاکستان آئے تھے۔ اس ساری صورتحال کے بعد انتظامیہ نے متعلقہ قوانین کے تحت افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ارشاد مکرر نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری لے لی ہے اس لیے انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔
ایڈیشنل اے سی کی جانب سے پولیس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ شہری نے افواہ پھیلائی تھی کہ خدشہ ہے کہ کورونا وائرس چترال میں پہنچ گیا ہے جس سے عوام میں تشویش اور خوف پیدا ہو گیا تھا۔
خط میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ دروش کے علاقے کام کرنے والے چین کے شہری ’وو‘ کو پیٹ میں درد کے باعث ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا لیکن انہیں علاج اور مکمل صحت یابی کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں