وہ یو ٹرن ماسٹر ہیں

یاسمین طہٰ – وزیر اعظم عمران خان کے لئے یہ بات تواتر سے کہی جارہی ہے کہ وہ یو ٹرن ماسٹر ہیں۔ اس بات کو تقویت ان کے دورہ کراچی سے واپس اسلام آباد جاکر آئی جی سندھ کو تبدیل نہ کرنے کے فیصلے سے ملی ہے۔کراچی میں انھوں نے سندھ حکومت کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کلیم امام کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا اور اسلام آباد جا کر فیصلہ تبدیل کردیا، جس سے یہ تاثر قائم ہورہا ہے کہ کلیم امام کو مقتدرحلقوں کی آشیرباد حاصل ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم جو نام دے چکے ہیں انہی میں سے کسی کو آئی جی لگایا جائے، اب کوئی اور نام نہیں دیں گے۔واضع رہے کہ کابینہ اجلاس میں وفاق میں حکومت کی اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے سندھ حکومت کے بھیجے گئے پانچوں ناموں پر اعتراض کیاتھا۔ سید کلیم امام نے ایک تقریب میں بیانگ دہل اعلان کیا  کہ نہ تو میرا تبادلہ ہوا ہے اور نہ ہی کہیں جارہا ہوں۔ میں اتنی آسانی سے نہیں جاؤں گا۔ان کا یہ بیان ہی اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ انھیں کس کی آشیرواد حاصل ہے۔ دوسری جانب وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کلیم امام سے متعلق ہمارے  خدشات درست ثابت ہورہے ہیں۔کلیم امام وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں تو کیا کرسکتے ہیں؟،وزیرِ اطلاعات سندھ نے مزید کہا کہ پنجاب کے لیے آئی جی کی منظوری وزیراعظم  سے اور سندھ کے لیے منظوری وفاقی کابینہ سے لینا دہرا معیار ہے۔عوام کو ایسا لگ رہا ہے کہ آئی جی کی تقرری وفاق اور سندھ کے درمیان انا کا مسئلہ  بنتا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ  سندھ حکومت نے کلیم امام کی تقریر پر ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا ہے،اور کلیم مام کے خلاف چارج شیٹ اسٹبلشمینٹ ڈویژن کو ارسال کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ دورہ کراچی میں  وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ملاقات میں آئی جی پولیس کی تبدیلی پر اتفاق کرلیا گیا تھا ۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کو یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی  کہ کراچی کے لئے منظور کئے گئے تمام ترقیاتی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں گے، کراچی اور  سندھ کو وفاق سے جو بھی تعاون درکار ہے وہ اسے ملے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے ایک روزہ دورے میں  وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔انھوں  نے حکومتی  اتحاد میں شاملمتحدہ کو یکسرنظراندازکردیا،جب کہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا سے ملاقات کی اور   اندرون سندھ ترقیاتی منصوبوں کیلئے جی ڈی اے کے مطالبات بھی منظورکر لئے  ۔اس حوالے سے  متحدہ پاکستان کے  رہنما فیصل سبزواری کا کہنا  ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے  استفسار  کیا گیا تھا کہ کیا وزیراعظم سے ملاقات کا وقت طے کیا جائے؟ جس پر ہم نے کہا تھا کہ  جب معاملات حل کی طرف جائیں گے تو ملاقات کرلیں گے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ متحدہ امین الحق کو وفاقی وزیر بنوانا چاہتی ہے،ان کا کہنا ہے کہ ان سے یہ وعدہ کیا گیا تھا لیکن تاحال اسپر عمل نہیں کیا گیا،ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے  سندھ حکومت پر پریشر ڈالنے کے لئے  ایک بار پھر علیحدہ صوبے کا  مطالبہ  کردیا ہے۔پارٹی رہنماؤں نے کہاہے کہ حکومت سندھ اپنے معتصب رویوں سے باز نہ آئی تو جلد کراچی والوں کے ساتھ انکے حق کے لئے سڑکوں پر ہونگے۔جہاں تک سندھ حکومت کے متعصبانہ رویہ کا تعلق ہے تو اس بات کو اس خبر سے تقویت ملتی ہے جس میں صوبائی وزیر زراعت اسمعیل راہو نے حکومت سے چین میں مقیم سندھی طلباء کو  وطن واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے،اس کے علاوہ معاشرتی علوم کی کتاب میں مہاجرین کے حوالے سے تعصب پر مبنیٰ  ایک مضمون پر متحدہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ و زیراعظم عمران خان سے آئی جی سندھ کلیم امام نے اسلام آباد میں ملاقات کی  جس میں ان کے تبادلے سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی،کہا جاتا ہے کہ اسلام آباد کلیم امام کی کارکردگی سے بہت خوش ہے اور  ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کے مبینہ بد عنوان وزراء کے خلاف چارج شیٹ جاری کریں اور ان کے خلاف انکوائریاں بھی وفاق کو بھیجی جائیں۔واضع رہے کہ  آئی جی سندھ کی تعیناتی کا معاملہ  تا حال حل نہ ہوسکا،اور وفاق نے آئی جی سندھ کے لیے عمران احمر کا نام تجویز کردیا ہے، ذرائع نے بتایا گورنر سندھ عمران اسماعیل وزیراعلی مراد علی شاہ سے ملاقات کرکے عمران احمر کے نام پر مشاورت کریں گے۔جبکہ  سندھ حکومت  نے انسپکٹر جنرل   پولیس کی تقرری کے معاملے پر  گورنر  عمران اسماعیل سے مشاورت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ آئی جی سندھ کا تبادلہ نہ ہونے کے صدمے سے   سندھ حکومت  باہر نہیں آئی تھی کہ کو  سندھ ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی خادم حسین اور ایس پی ڈاکٹر رضوان کے  تبادلے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیااور کہا  کہ ڈی آئی جی خادم حسین اور ایس پی ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ غیر قانونی ہے، پولیس افسران کے تبادلے میں طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا، سندھ حکومت آئی جی پولیس کی مشاورت کے بغیر پولیس افسران کے تبادلے نہیں کر سکتی۔ یاد رہے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست گزار نے موقف اپنایا تھاکہ ڈی آئی جی خادم حسین اور ایس پی ڈاکٹر رضوان سمیت 80 سندھ پولیس افسران کے تبادلے کر کے سندھ حکومت نے اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔انصاف ہاؤس میں کراچی کے تمام اضلاع  سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکان نے  اپنی ہی قیادت کے خلاف احتجاج کیا۔جس  کی بنیادی وجہ تنظیم سازی کا عمل ہے۔کارکنان کا موقف ہے کہ اراکین صوبائی و قومی اسمبلی نے پارٹی کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ہم سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔آئی جی سندھ کی تبدیلی کے حوالے سے وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ جب تک صوبائی حکومت نئے پولیس چیف کی تعیناتی کے حوالے سے گورنر سندھ سے مذاکرات نہیں کرے گی اس وقت تک ڈاکٹر کلیم امام کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جبکہ  سندھ حکومت اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ  اس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی نیا نام نہیں بھیجاجائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے  وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو یقین دہائی کرائی تھی کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن  جاری کردیا جائے گا تاہم صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی اس وقت پیدا ہوئی جب وفاقی حکومت کے اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے تبدیلی کی سختی سے مخالفت کی۔جب کہ پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان بھی ڈاکٹر کلیم امام کی تبدیلی کی مخالف ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں