پاکستان انجینئرنگ کونسل سپریم کورٹ کے احکامات کی غط تشریح کررہی

پاکستان انجینئرنگ کونسل سپریم کورٹ کے احکامات کی غط تشریح کررہی ہے، غیر قانونی کام کے پیچھے لوکل گورئمنٹ کے بی ای انجینئرز پیش پیش ہیں،مظاہرین سپریم کورٹ نے 2018کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز کو عہدوں سے ہٹایا جائے،مظاہرین سندھ حکومت کے ذمہ داران کو مس گائیڈ کیا جارہا ہے بی ای انجینرز نے بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز کو ہٹوانے کے لئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا بی ای انجینئرز کی توہین عدالت کی پٹیشن بھی سپریم کورٹ نے خارج کردی تھی بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈر کا نیا سروس اسٹرکچر بننے تک انہیں عہدوں پر برقرار رکھا جائے  کراچی () کراچی :بیٹے کے انجینئرز پر گئے بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا سندھ حکومت پر عدالتی احکامات کی غلط تشریح کرنے کا الزام ۔ بلدیہ کراچی ایس بی سی اے واٹر بورڈ سمیت دیگر اداروں میں تعینات انجینئرز کو ہٹایا جارہا ہے ۔ بی ٹیک انجینئرز  سندھ  کے بی ٹیک ڈپلومہ ہولڈر انجینئرز میں سخت اشتعال سینئر انجینئرز کو عہدوں سے ہٹا کر منپسند بی ای انجنیئر تعینات کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ بیٹے کے انجینئرز ۔ بی ٹیک ڈپلوما  انجینئر ہولڈرز نے کہا ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ایکٹ 1976 کا کالا قانون ختم کی کرکے حقوق دیئے جائیں ۔ محکمانہ رورلز کی پابندی نہیں کی گئی تو احتجاج کا دائرہ اختیار کریں گے ۔ بی ٹیک انجنیئر ہولڈرز ۔ سپریم کورٹ کا خودساختہ غلط تشریح نامنظور ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے بیٹے کا آنرز ڈگری بی اے ڈگری پی ایل ڈی 1995 ایس سی 701 کو فالو کیا جائے سینئر بیٹی کا انجینئرز اور ڈپلومہ ہولڈرز کو ہٹانے کا حکم واپس لیا جائے ۔بلدیاتی اداروں میں اعلی عہدوں پر تعینات بیٹے کے ایک اور ڈپلومہ انجینئرز کو عہدوں سے ہٹا جانے پر امور ٹھپ ہوگئی ہے سندھ سمسٹیبل اینڈ ہائیکورٹ میں اچھی ڈیزیشن دی لیکن اس کو ختم کرایا گیا ۔ خودمو قدموں میں لکھا کہ ان کو فالو نہیں کیا جائے گا جو پروفیشنل انجینئر نہیں ہیں پاکستان انجینئرنگ کونسل سے بھی ہم کو ڈیسیشن ملیا ملا ہوا ہے لیکن ہمیں ہٹایا گیا ۔ بی ٹیک انجینئرز ۔ بی ٹیک پروگرام کا باقاعدہ آغاز 1973 میں کیا گیا تھا اور اس وقت کی وزارت تعلیم نے خط نمبر 15-29 / 73- کے مطابق بی ایس سی انجینئرنگ / بی ای کی ڈگری کے برابر بی ٹیک (آنرز) کی ڈگری دینے کی ہدایت کی تھی۔  ٹیک۔ لیٹر نمبر پی ای سی /–پی / کیو ای سی کے مطابق ، پی ای سی نے کہا ہے کہ بی ٹیک کی ڈگری کو بی ایس سی / بی ای کے برابر سمجھا جائے گا اور یہی فیصلہ کوئٹہ میں 1986 میں 39 ویں ایچ ای سی میں نویں بین الصوبائی وزرا کانفرنس میں کیا گیا تھا۔  12-2-98 کو ملاقات ، ایف پی ایس سی نے اپنے خط نمبر F4-89 / 2002-R میں لیکن اب پی ای سی ان کی حیثیت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ شیخ جاوید نے کہا ، بی ٹیک ہولڈر انجینئرز کی طرح ایک ہی کورسز کا مطالعہ کرتے ہیں اور اتنے ہی قابل بھی ہیں لیکن انہیں اپنی ڈگری کی حیثیت کو تسلیم کرنے کے لئے انفرادی طور پر جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور مقدمات درج کرنا پڑتے ہیں . پی ای سی نے بیٹیک گریجویٹس کی رجسٹریشن سے انکار کے بعد ، مختلف سرکاری محکموں نے ملازمت نہ دینے پر ، ان کی ڈگری تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔  انہوں نے کہا کہ پہلے ہی تقرری شدہ افراد گریڈ 16 سے اوپر کی ترقی سے محروم ہیں۔شیخ جاوید نے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) بھی براہ راست بی ٹیک ڈگری ہولڈرز کی تقرری نہیں کررہا ہے۔ بی ٹیک کی قابلیت رکھنے والے تکنیکی ماہرین نے عدالتوں میں متعدد مقدمات دائر کیے ہیں اور ان کے حق میں 17 فیصلے لئے ہیں ، انھوں نے ڈگری کو بی ایس سی / بی ای کے برابر قرار دیا ہے لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نافذ نہیں ہوسکا۔ 1993 کے سو موٹو ریویو پٹیشن نمبر 52 میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے 05 جون 1995 کو بی ٹیک (آنرز) (پی ایل ڈی 1995 ایس سی 701) کے حق میں اپنا فیصلہ دیا ، جس میں پی ای سی کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا۔  لیکن ، پی ای سی نے 2004-05 میں پیشہ ورانہ انجینئرنگ کے کام کی نئی شقوں اور تعریف اور سیکشن 27 کے سیکشن 5 اے کو شامل کرکے ان ترامیم کا انتظام کیا ، تاکہ خدمت کے معاملات میں مداخلت کرنے اور پروموشن چینلز کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ کے فل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکے۔  بی ٹیک (آنرز) ڈگری رکھنے والے ملازمین کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے ایک خط کے ذریعہ بی ایس سی / بی ای کے برابر بی ٹیک (آنرز) کا درجہ قبول کرلیا اور فارغ التحصیل افراد کو مساویانہ سرٹیفکیٹ جاری کرنا شروع کیا لیکن سرکاری محکموں نے ان کو ملازمت دینے سے انکار کردیا________________________________________

اپنا تبصرہ بھیجیں