ڈاؤ یونیورسٹی میں نوول کروناوائرس پر آگہی ورکشاپ کا انعقاد

:ملکی و غیر ملکی ماہرین ِ صحت کا کہنا ہے کہ چین سے پھیلنے والے نوول کرونا سے گھبرانے کی قطعاََ ضرورت نہیں ہے، احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس وبائی مرض سے بچا جاسکتا ہے، دنیا بھر میں آخری اطلاعات تک، اس کے 20613 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ اموات 427 اور اس مرض سے شفایاب افراد کی تعداد 663ہے، اس وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 2 فیصد ہے اس سے زیادہ ڈیتھ ریٹ تو ڈائریا کا ہوتاہے، ہاتھ بار بار دھوئیں، اگر بار بار ہاتھ ملانا ہوتو ہینڈ سینیٹائزرلگائیں، آٹھ سے دس گلاس پانی، 8گھنٹے کی نیند لازمی ہے، متوازن غذا کھاکر اس مرض اور دیگر متعدی امراض سے بچا جاسکتا ہے، گھبرانے یا شور مچانے سے زیادہ احتیاطی اقدامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں تاحال نوول کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، یہ باتیں انہو ں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور امریکن سوسائٹی فار مائیکرو بیالوجی کے اشتراک سے اوجھاکیمپس کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہال میں منعقدہ آگہی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، ورکشاپ میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی، امریکی ماہر سین جی کوفمین، پروفیسر وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز  پروفیسر کرتارڈوانی، پروفیسر محمد سعید خان، پروفیسر شہلا باقی اور پروفیسر شاہین شرافت نے بھی خطاب کیا، ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ نوول کرونا وائرس کی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں اور اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز میں آئسولیشن وارڈ قائم کردئیے گئے ہیں، فی الحال دس مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کاانتظام موجود ہے، جبکہ وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے والے پرائمر کوریا سے منگوالیے گئے ہیں، آئندہ چند روز میں ہم تک پہنچ جائیں گے، علاوہ ازیں حفاظتی لباس، چشمے اور فیس ماسک وغیر ہمارے پاس اسٹاک میں بھی موجود ہیں، جبکہ محکمہ صحت سندھ حکومت کی جانب سے بھی فراہم کئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ریورس ٹرانسکرپشن (پی سی آر) کی تشخیصی سہولت ہمارے یہاں پہلے ہی موجود ہے، انہوں نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی ناول کرونا وائرس اور ایسے امراض کی آگہی، دیکھ بھال اور علاج کی سہولتوں کی اپنی روش پر قائم رہے گی، انہون نے مزید کہا کہ چائنا سے شروع ہونے والی نوول کرونا وائرس کی وباصرف چائنا تک محدود نہیں رہی، دنیا بھر میں پھیل گئی ہے، پوری دنیا ہی اس سے نمٹنے کے انتظامات کر رہی ہے۔آئندہ بھی نوول کرونا وائرس پر سیمینار کا سلسلہ جاری رہے گا، امریکی ادارے سیفر بی ہوئیر کے سربراہ سین جی کوفمین نے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جذبات اپنی جگہ جبکہ سائنسی نظریات اپنی جگہ ہیں، اگر کسی کے بچے یا عزیز رشتے دار چین میں ہیں، تو زیادہ جذباتی نہ ہو ں، بلکہ جذبات پر قابومیں رکھیں، پوری دنیا بڑے پیمانے پر پھیلنے والے وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے، آپ کے پیارے بھی ان اقدامات کے نتیجے میں خیریت سے آپ تک پہنچیں گے، خوف کی حالت میں اختیار کیا گیا نامناسب رویہ خطرات کو بڑھا دے گا، جبکہ تحمل مزاجی سے کئے گیے احتیاطی اقدامات پوری دنیا کو خطرے سے محفوظ کر دیں گے،پروفیسر محمد سعید خان نے کہا نوول کرونا وائرس اس صدی میں کرونا فیملی کا تیسرا بڑا حملہ ہے، اس سے پہلے 2002میں چائنا سے ہی کرونا سارس اور 2012میں سعودی عرب سے کرونا مرض جبکہ 2019میں نوول کرونا وائرس سامنے آیا ہے، انہو ں نے بتایا کہ ان تینوں کیسز میں اے ٹیپی کل نمونیا کی علامات ہوتی ہیں، البتہ کرونا وائرس کی علامات سب سے نمایاں یہ کہ متاثرہ شخض کو فلو، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری، بخار بھی مستقل طور پر رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ائیر پورٹ پر چائنا یا نوول کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے آنے والے افراد کو تھرمل سینسر سے گذارا جارہا ہے، انہو ں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد کو 14دن آئسولیشن میں رکھنے کی شرط اسی لیے ہے کہ اس کے اثرات ختم ہونے یا ظاہر ہونے میں اتنا عرصہ درکار ہوتا ہے، انہو ں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت تک کوئی محفوظ نہیں ہوگا، جب تک ہم سب محفوظ نہیں ہوجاتے، پروفیسر شہلا باقی نے کہا کہ غلط تصورات اپنے ذہن سے نکال دئیے جائیں، جن میں سب سے پہلے تو یہ کہ چائنا پر خدا کا عذاب ہے، کیونکہ 2012میں سعودی عرب میں مرض کی وبا اونٹوں کے ذریعے پھیلی تھی، پروفیسر شاہین شرافت نے کہا کہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ مین کوالٹی کنٹرول کا بہت خیال رکھا جاتا ہے، اس وبا کو کوئی ایک ملک نہیں سنبھال سکتا، پوری دنیا کو کوشش کرنا ہوگی، زیادہ ٹریولنگ کرنے والے افراد کے اس وائرس سے متاثر ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں