وفا قی کا بینہ آئی جی سندھ کے تبا دلے کو متنا زعہ بنا رہی ہے ۔سید نا صر حسین شا ہ

 سندھ کے وزیر اطلاعات ،لوکل گورنمنٹ،ہاﺅسنگ ٹاﺅن پلاننگ،فاریسٹ اورمذہبی امور سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وفا قی کا بینہ آئی جی سندھ کے تبا دلے کو متنا زعہ بنا رہی ہے میرا کلیم اما م کو مفت مشورہ ہے کہ وہ متنا زعہ بننے کے بجا ئے چھٹی پر چلے جا ئیں ان کو کسی کی جا نب سے پیٹھ تھپتھپا نے کے چکر میں نہیں آنا چا ہئے انکا کریئر ہے اور وہ سینئر افسر ہیں انکے اس عمل سے انکا مستقبل تبا ہ ہو جا ئےگا ۔انہو ں نے کہا کہ وفا ق نے 128ارب روپے کم دیئے ہیں جس سے تر قیا تی اسکیم اور دیگر سر کا ر ی امور کے لئے ادا ئیگی میں پریشا نی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں سندھ کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دے رہے تھے سندھ کا بینہ کے اجلا س میں کئے گئے فیصلو ں سے متعلق انہو ں نے بتایا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھکابینہ کا اجلاس منعقد ہواجس میں چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ، تمام صوبائی وزرائ، مشیر اور متعلقہ افسران شریک ہوئے کابینہ اجلاس میں گندم خریداری، موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم ، سندھ شہید ریکوگنائیزیشن ایکٹ کے تحت شہید اعجاز کو گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی، ڈی آئی جی جیل کا فیصلہ، اسٹیمپ ایکٹ 1899 میں ترمیم اور مختلف کابینہ کمیٹیز کی رپورٹ شامل تھیں اجلاس میں نئے سال کی گندم کی فصل خریداری کے لئے 1.4 ملین میٹرک ٹن کا ہدف رکھا گیا ہے اس موقع پر بتایا گیا کہ ان پٹ کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں اس لیئے سپورٹ قیمت بڑھنی چاہئے کاشتکاروں کے مفاد کا مکمل خیال رکھا جائے گا وفاقی حکومت سپورٹ پرائس پر نظر ثانی کر رہی ہے وفاقی حکومت کی قیمت مقرر ہو جانے کے بعد سندھ حکومت بھی سپورٹ پرائس مقرر کرے گی اجلاس میںہر ضلع کی کل گندم پیداوار کا 37 فیصد خریداری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میںسندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ محمد اعجاز جو جیل ڈپارٹمنٹ کے گریڈ بی ایس 19 کے آفیسر تھے اور انہیںکالعدم تنظیم نے 2015 میں شہید کر دیاتھا، اب شہید کے بیٹے نے درخواست دی ہے کہ شہید ریکوگنائیزیشن ایکٹ کے تحت ان کے والد کو گریڈ 20 میں پروموٹ کیا جائے کابینہ نے شہید اعجاز کو ڈی آئی جی جیل کا عہدہ دیکر گریڈ 20 میں ترقی کی منظوری دیدی ناصر حسین شاہ نے مزید بتایا کہ سندھ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے سیکشن کے تحت طبی اخراجات کی منظوری کے اختیارات متعلقہ محکمہ کو دیتے ہوئے طبی اخراجات کی مقررہ حد 3 لاکھ روپے سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کر دی اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ تین لاکھ روپے سے ایک ملین روپے تک کے اخراجات متعلقہ محکمے کا سیکریٹری منظور کرے گا جب کہ ایک ملین روپے سے زائد 2 ملین روپے تک چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ 2 ملین روپے سے زائد اخراجات کی منظوری دینگے اجلاس میں کابینہ کو بتایا گیا کہ اسکولوں میں مخصوص فرنیچرکے مطالبہ کے تحت فرنیچر خریدا جا رہا ہے جس اسکول کو جو فرنیچر دیا جائے وہ محکمہ تعلیم اپنی ویب سائیٹ پر رکھے تاکہ اس علاقے کے عوام کو بھی علم ہو کہ انکے اسکول کو کتنا فرنیچر دیا گیا ہے اجلاس میںپرانے اسکولوں کی مرمت ہر سال کرنے اور اسکولوں کے لئے فرنیچر کی خریداری کی منظوری دیدی وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ ا سٹمپ ایکٹ 1899 میں ترمیم کا مقصد ای اسٹمپ کالفظ شامل کرنا ہے اس سے ای اسٹمپ کو قانونی تحفظ مل جائے گا اور الیکٹرانک لفظ بھی ایکٹ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ الیکٹرونیکل جنریٹڈ ریونیو ریکارڈ کو قانونی تحفظ مل سکے الیکٹرونیکل جنریٹڈ روینیو کے کاغذات میں دستخط کی ضرورت نہیں ہوتی ان کاغذات پر ایک بارکوڈ ہوگا جس کو اسکین کرنے سے اس کی اصلیت ظاہر ہوگی جس پر کابینہ نے اسٹیمپ ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دیدی اس موقع پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ہمارے بورڈ آف روینیو کی کل کلیکشن 9.9 بلین روپے ہے اس کی استعداد بہت زیادہ ہے اور ہم اسے مزید بڑھا سکتے ہیں اس سال ہمارا ہدف 15 بلین روپے ہے اور ای اسٹیمپ سے یہ روینیو بڑھنا چاہے اس وقت تک ہم نے 5 بلین روپے ریکوری کی ہے کابینہ نے اسٹمپ ایکٹ کی منظوری دےتے ہوئے اسے اسمبلی بھیج دیا اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ بورڈ آف روینیو کو ہدایت دیں کہ مجھے روینیو بڑھا کر دیں صوبائی وزیر نے کہا کہ آئی جی سندھ کے حوالے سے بتایا گیا کہ کابینہ نے نام تجویز کیئے تھے پھر مزید دو نام مانگے گئے اوروزیراعظم نے خط لکھا ہے کہ اس آئی جی پولیس کو ہٹا رہے ہیں وزیر اعلی سندھ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کوکہا ہے کہ گورنر کے ساتھ مشاورت کرنا میرے لئے ممکن نہیں ہے وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو کہا ہے کہ ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ہے، اس میں گورنر کو دھکیلنا نہیں چاہئے ہم نے 5 نام دیئے ہیں ان میں سے جس نام پر رضامند ہوگئے تھے اس کو مقرر کیا جائے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کا پولیس ایکٹ ایک ہی ہے پنجاب اگر کوئی خط لکھتا ہے تو وفاق فوری آئی جی پولیس مقرر کردیتا ہے سندھ کے ساتھ یہ تفریق کیوں ہے اجلاس میںوزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو کہا کہ اگر آئی جی پولیس کے تبادلے پر وفاقی کابینہ کو اعتراض ہے تو وہ وفاقی کابینہ کو بریف کرنے کیلئے تیار ہیں اب یہ وزیراعظم صاحب پر منحصر ہے کہ وہ آئی جی پولیس کو کب ہٹاتے ہیں ناصر حسین شاہ نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے فروری کے آخری ہفتے میں اوپن کچہریاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ وزراءجنہوں نے پہلے جن اضلاع میں کھلی کچہریاں کی تھیںوہ دوبارہ وہاں جائیں جب کہ وزیر اعلی سندھ نے ڈپٹی کمشنرز اور سیکریٹری جی اے سے گذشتہ کچہریوں کی عمل درآمدرپورٹس بھی طلب کر لی ہیں اجلاس میں صوبائی وزیر صحت نے کابینہ کو کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کل 300 چائنیز کراچی آئے ہیں اور چین نے ان کو مکمل چیک کر کے بھیجا ہے جب کہ ہماری ایمبولینسز اور ڈاکٹرز بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے ہم نے سب کو چیک کیا اور وہ بلکل ٹھیک ہیں انہوں نے بتایا کہ ایک چائنیز بچے کو ہم نے گمبٹ کے اسپتال میں رکھا ہے جب کہ کرونا وائرس کی کٹ این آئی ایچ اسلام آباد نے بھیجی ہیں ہم نے کچھ اسپتالوں میں آئیسولیشن وارڈز بنائے ہیں سندھ حکومت نے کرونا وائرس پر ضروری اقدامات کئے ہیں کابینہ اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وفاقی حکومت سے اس سال 83 بلین روپے آنے ہیں سات ماہ میں وفاق سے 487 بلین روپے آنا تھے لیکن ابھی تک 359 روپے ملے ہیں اور شارٹ فال 128 بلین روپے کا ہے ۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر 127۔۔۔۔

محکمہ اطلاعات حکومت سند ھ فون۔۔99204401 کراچی مور خہ04فروری 2020 سندھ دوسرے صوبوں کے لئے خصوصی افراد کی بہتری کے لئے ایک ماڈل ہے۔ سید قاسم نوید قمر کراچی 4 فروری۔ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بحالی خصوصی افراد سید قاسم نوید قمر نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق کے لئے آگاہی پیدا کرنے اور اس معاملے پر سوچ کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو اپنے دفتر میں یہاں رپل کونسیپٹس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈاکٹر صغیر احمد ایڈوائزر رپل کونسیپٹس ، ادیب اعزاز ڈائریکٹر کمیونیکیشن و میڈیا ، عدیل اعجاز منیجنگ پارٹنر اور خالد فصیح منیجنگ پارٹنر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر صغیر احمد ایڈوائزر رپل کونسیپٹس نے “خصوصی افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے” کے موضوع پر “خصوصی افراد کی بین الاقوامی اور کانفرنس (پوڈی ای سی)” میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید قمر شرکت کی دعوت دی۔ کراچی ایکسپو سنٹر میں 17 اپریل سے 19 اپریل 2020 کو منعقد کیا جائے گا۔ سید قاسم نوید قمر نے مزید کہا ، ‘سندھ خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں پیش قدمی کررہا ہے اور یہ واحد صوبہ ہے جس میں خصوصی افراد کے اختیارات کیلئے ، ملازمت کے کوٹے میں 2 فیصد سے بڑھا کر یہ اضافہ سرکاری اور نجی شعبے میں 5 فیصد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو بااختیار بنانے کے ایکٹ 2018 کی منظوری اور خصوصی افراد کے لئے خصوصی عدالتوں کا قیام ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بحالی خصوصی افراد سندھ سید قاسم نوید قمر نے کہا کہ سندھ بھی پہلا صوبہ ہے جس نے سماعت سے محروم افراد کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا اور عالمی یوم معذوری کو بڑے پیمانے پر منانے کا اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلنے کی تجویز پیش کی اور بتایا کہ محکمہ بحالی خصوصی افراد سندھ دور دراز علاقوں میں خصوصی اداروں کے قیام کے لئے مزید غیر سرکاری تنظیموں کو نیٹ ورک میں لانے کے لئے کام کر رہا ہے تاکہ خصوصی افراد اور بچوں کی سہولت میسر ہو۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بحالی خصوصی افراد سید قاسم نوید قمر نے وفد کے اراکین کو کانفرنس کے انعقاد کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا بھی یقین دلایا۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر 128۔۔۔۔ایم یو

محکمہ اطلاعات حکومت سند ھ فون۔۔99204401 کراچی مور خہ04فروری 2020 اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو میرٹ پر کام کرنا ہوگا۔ جام اکرام اللہ اللہ دھاریجو کراچی 4 فروری۔ سندھ کے وزیر صنعت و تجارت اور کوآپریٹو محکمہ اور محکمہ انسداد بدعنوانی سندھ جام اکرام اللہ دھاریجو نے محکمہ انسداد بدعنوانی کے افسران سے کہا ہے کہ وہ میرٹ پر کام کریں ، پیشہ ورانہ رویہ اپنائیں اور کسی کو بھی غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کریں اور مقدمات نمٹانے کے لئے باقاعدہ اجلاس کریں۔ یہ بات انہوں نے محکمہ انسداد بدعنوانی کے تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر چیئرمین اینٹی کرپشن محمد وسیم ، ایڈیشنل سیکرٹری سہیل قریشی ، ڈائریکٹر -I فرخ شہزاد قریشی ، ڈائریکٹر -II مرتضیٰ میمن اور دیگر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین محمد وسیم نے بتایا کہ 2019 میں 68 چھاپے مارے گئے ، 12 افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ، 205 ایف آئی آر درج کی گئیں ، 55 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 325 چالان جمع کرائے گئے۔ اجلاس کو مذید بتایا گیا کہ 2018 میں 22 چھاپے مارے گئے جبکہ 21 کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ اللہ دھاریجو نے مزید کہا کہ ان کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور محکمے کی بہتری کے لئے محکمہ کی تنظیم نو کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ بدعنوانی کے خلاف آگاہی سیمینارز ، واک اور لوگوں کو آگاہی دینے کے بڑے پیمانے پر مہم چلائیں۔ سندھ کے وزیر صنعت و تجارت اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ اور اینٹی کرپشن جام اکرام اللہ دھاریجو نے ہدایت کی کہ عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے خالی آسامیوں کو میرٹ کی بنیاد پر پ ±ر کیا جائے۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر129۔۔۔ایم یو

محکمہ اطلاعات حکومت سند ھ فون۔۔99204401 کراچی مور خہ04فروری 2020
کراچی 4 فروری۔چیئر مین پبلک اکا ﺅ نٹس کمیٹی نے مختلف محکمو ں کی پبلک اکا ﺅ نٹس کمیٹی کا اجلا س سندھ اسمبلی کے کمیٹی رو م نمبر 1میں طلب کر لیا ہے سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ سے جا ر ی نو ٹیفیکیشن کے مطا بق 14فروری برو ز جمعہ صبح ساڑ ھے گیا ر ہ بجے میو نسپل کمیٹی اور نگی ٹا ﺅ ن ،میو نسپل کمیٹی بلدیہ ٹا ﺅ ن ،چیف آفیسر نو شہرو فیرو ز ،ٹی ایم اے نو شہرو فیرو ز ،یوسیز آف گھو ٹکی ،میر پو ر ما تھیلو ،وا ہی گھو ٹو ،چا نڈیا ،کھمبارا ،سا ئین ڈنو ملک ،اوبا ڑو ،لا نگھو ،خو ہا را ،جا رور ،میر پو ر ما تھیلو 2کی 2013-14آڈیٹر جنرل رپو ر ٹ ،15فروری برو ز ہفتہ صبح سا ڑھے گیا رہ بجے محکمہ پا پو لیشن ویلفیئر ،محکمہ کھیل اور نو جوا نا ن ،محکمہ پبلک ہیلتھ کی 2016-17،ڈسٹرکٹ 2004-5کی آڈیٹر جنرل رپو ر ٹ ،17فروری برو ز پیرصبح ساڑ ھے گیا رہ بجے ڈا ﺅ یو نیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنا لو جی 2016-17،ڈسٹرکٹ شکا ر پو ر2004-5 کی آڈیٹر جنرل رپو ر ٹ ،18فروری برو ز منگل صبح ساڑھے گیا رہ بجے ٹی ایم اے شہید بے نظیر آبا د کی 2012-13،یو سیز آف ٹنڈو اللہیا ر میسن وا ڈی ،ٹنڈو سومرو ،ڈنگا نو بو زادار ،ٹنڈو اللہیا ر کی 2013-14آڈیٹر جنرل رپو ر ٹ ،19فروری برو ز بدھ صبح ساڑ ھے گیا ر ہ بجے محکمہ ایکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن ،انفا ر میشن سائنس اینڈ ٹیکنا لو جی و دیگر محکمے شا مل ہیں جن کو بذر یعہ خط مطلع کر دیا گیا ہے ۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر 130۔۔۔

محکمہ اطلاعات حکومت سند ھ فون۔۔99204401 کراچی مور خہ04فروری 2020 سندھ میں زراعت اور معیشت کے شعبے کی ترقی کے لئے طلبائ و طالبات تحقیق کے شعبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ میر شبیر علی بجارانی۔ کراچی 4 فروری ۔سندھ کے وزیر برائے صحت عامہ،دیہی ترقی اور معدنیات و معدنی ترقی میر شبیر علی بجارانی نے کہا ہے کہ سندھ کی زراعت اور معیشت کی ترقی کے لئے طلباء و طالبات تحقیق کے شعبے میں بڑھ چڑھ کر اپنی اہلیت اور قابلیت کے جوہر دکھائیں تاکہ گلوبل وارمنگ کے سبب تیزی سے کم ہوتے آبی وسائل کو بچایا جاسکے اور کم سے کم پانی سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج مہران یونیورسٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پاک امریکہ سینٹر فار ایڈوانس اسٹڈیز ان واٹر US Pakistan Centre For Advance Studies in Water کی تیسری گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اپنے خطاب میں میر شبیر علی بجارانی نے مہران انجیئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اسلم عقیلی،یونیورسٹی کے واٹر سینٹر کے ڈائریکٹر بخشل لاشاری، یونیورسٹی آف اٹاہ Utah کے دائریکٹر برائے واٹر سینٹر اسٹیون برائن Steven Burian ،ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں،اساتذہ کرام اور یو ایس ایڈ USAID ٹیم کے نمائندوں کو مہران یونیورسٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے پانی کے شعبے میں جدید تعلیم کے مرکز کی تیسری گریجویشن تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پانی جیسی اھم ترین نعمت کو محفوظ کرنے اور اس کے موثر استعمال کے طریقوں کو بروئے کار لانے کے لئے تحقیق کا شعبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہم پانی جیسی نعمت کو محفوظ کرنے اور اسے بہتر سے بہتر انداز میں استعمال کرنے کے قابل ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی معیشت کا بہت بڑی حد تک انحصار زراعت پر ہے اور پانی زراعت کا لازمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کے استعمال کے لئے جدید انجینئرنگ اور سائنسی طریقوں پر تحقیق سے معیشت کو یقینی استحکام مل سکتا ہے اور حکومت اس شعبے میں تحقیق و تدبیر کرنے والے طالب علموں کی مکمل حوصلہ افزائی کرے گی۔تقریب سے وائس چانسلر مہران انجیئرنگ یونیورسٹی اسلم عقیلی، یو ایس ایڈ کے نمائندوں اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر 131(ایس۔اے۔این)

اپنا تبصرہ بھیجیں