جنت نظیر کشمیر، اور جنت میں ہندوؤں کا کیا کام ؟

امیر محمد خان
جنت نظیر کشمیر، اور جنت میں ہندوؤں کا کیا کام ؟

مسئلہ کشمیر کسی سیاسی جماعت ، کسی فرد کا مسئلہ نہیں پاکستان کے عوام اور حکومت کا کشمیری عوام سے یک جہتی کا اظہار پانی پاکستان محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق جب انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرارد دیا تھا آج وقت ثابت کررہا ہے میرے قائد محمد علی جناح کا یہ فرمان سترسال سے بھی زائد عرصے سے کتنا اہم تھا۔ آج بھارت اپنے توسیع پسندآنہ خیالات ، RSS کی دہشت گردانہ سوچ، اور خود بھارتی وزیر اعظم جنہیں دنیا اسے دہشت گرد سے نام سے جانتی تھی آج معاشی فوائد، اور مسلمانوں کے خلاف سوچ کی وجہ سے یہ ممالک اس دہشت گرد کو گلے لگاتے ہیں آج توسیع پسندانہ سوچ کی بناء پر بھارتی حکومت اندھی ہوچکی ہے ، بھارت صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ اپنے ملک کے اندر بھی دہشت گردہ سوچ کی بناء کروڑوں مسلمانوں کے لئے مسائل کھڑا کررہا ہ ہے ستر سالوں بعد ان سے انکی ملک سے وابستگی کی تصدیق مانگ رہی
ٍہے اور پاکستان دشمنی میں ان سے کہتا ہے کہ ’پاکستان چلے جاؤ “ ہمیں تو اس بات پر فخر ہے کہ دہشت گرد مودی اور RSS کو یقین ہے کہ علاقے میں مسلمانوں کی حفاظت کرنے والا صرف پاکستا ن ہی ہے۔ مگر یہ بات کشمیر میں اسے سمجھ میں نہیں آتی ، وہاں کے مسلمانوں کو بھارت سے محبت کرنا، بھارتی دہشت گرد اور توسیع پسندانہ پالیسوں کی حمائت کرانا چاہتا ہے، کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کو اقلیت کا درجہ دینے کی ناپاک سوچ ذہن میں لئے ہندوون کو کشمیر میں آباد کرنا چاہتا ہے مگر وہ کیوں بھول رہا ہے کہ کشمیر تو وادی جنت ہے، اور جنت کا ہندوؤں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ انہیں تو جلایا ہی اسلئے جاتا ہے کہ انکے ناپا ک جسم کی گند گی زمیناپنے اندر سمونا نہین ۔ ۵ فروری ہمیں یاد دلاتا ہے بھارتی سورما کسطرح کشمیر کے متعلق عالمی اداروں کو یقین دلاکر اپنے ہی کئے گئے مطالبات سے بھاگ گئے ، اور آج بھارتی سورما اپنے ہی اکابرین کی کہی ہوئی بات سے کسطرح منہ پھیر گئے ہیں۔ پاکستان کی لہلہاتی فصلوں میں پانی کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا خون بھی شامل ہے۔کشمیری بھارت کا راستہ نہ روکتے تو پاکستان کے اندر ہزاروں کلبھوشن تخریب کاری کررہے ہوتے۔پاکستان کے جغرافیائی تحفظ کیلئے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے 70سال سے جارحیت کررہاہے مگر عالمی برادری نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔قابض فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کے استعمال پر بھی عالمی برادری کا ضمیر نہیں جاگا۔اگر عالمی ادارے آج بھی نہ جاگے ، مسلمان قیادتوں نے بھارت کا حقہ پانی بند نہ کیا تو کشمیری شہداء روز قیامت ہمارا گریبان پکڑینگے۔ پانچ فروری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے، کشمیر دراصل تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے، جو بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم و ناانصافی کے باعث تاحال حل نہیں کیا جا سکا اس دوران کشمیری مسلمانوں نے آزادی کشمیر اور اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے لاتعداد قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، جو مسئلے کے حل ہونے و کشمیر کے آزاد ہونے تک جاری رہے گی۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی اسی روز سے شروع ہو گئی تھی جب انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ ”معاہدہ امرتسر“ کے تحت16 مارچ 1846ئکو کشمیر کا 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض سودا کیا۔ پانچ فروری کے یوم یکجہتی کی اہمیت کیا ہے یہ جاننے کے لئے تحریک آزادی کشمیر کے پس منظر کو جاننا ضروری ہے۔ 1946ئمیں قائد اعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد کی دور اندیش نگاہوں نے سیاسی‘ دفاعی‘ اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی”شہ رگ“ قرار دیا۔ مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 19 جولائی1947ئکو سردار ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طورپر ”قرار داد الحاق پاکستان“منظور کی۔ لیکن جب کشمیریوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو مولانا فضل الہیٰ وزیر آباد کی قیادت میں 23 اگست 1947 کو نیلابٹ کے مقام سے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 15 ماہ کے مسلسل جہاد کے بعد موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ پہنچ گئے اور بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا کہ وہ ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام کی خواہشات کے مطابق کریں گے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1990کو ہوا جب قاضی حسین احمد کی اپیل پر اس وقت کے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نوازشریف نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اپیل کی کہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کی جائے۔ ان کی کال پر پورے پاکستان میں 5 فروری 1990کو کشمیریوں کے ساتھ زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ آج کشمیری مجاہدین کی قربانیوں، بھارت کے انسانیت سوز مظالم، کشمیر میں لاکھوں مسلح افواج کی موجودگی، چھ ماہ سے زائد کرفیو کا سماع (یہ دنیا میں پہلا واقع ہے ) اور پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو عالمی میڈیا و عالمی اداروں تک نہائت ہی شاندار طریقے سے پہنچانے کی بناء آج کشمیر کا مسئلہ یورپین یونین، امریکہ، انسانی حقوق کی تنظیموں میں گرما گرم موضوع اختیار کرگیا ہے۔ مگر اسے کشمیری عوام کی امنگوں تک پہنچانے کیلئے ہنوز بہت کچھ باقی ہے۔ امریکہ نے کشمیر کے معاملے پر کشمیریوں کی حمائت کرنے والے اسلامی ممالک کو اسرائیل کے حوالے سے اپنے بیانات جسکی حالیہ اسلامی تنظیم کے ہنگامی اجلاس نے پرزور مذمت کی ہے کے گورک دھندے میں پھنسا دیا ہے اسلئے علاقے کیلئے اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی حمائت اہم مسئلہ ہوگیا ہے۔ علاقائی مسائل کے باوجود کشمیری عوام کا یہ حق ہے کہ کم از کم ”مسلم امہ “ تو کشمیری عوام کی جدوجہد کی بھرپور مد و حمائت کرے۔ مگر کیا جائے کہ جدہ میں ہونے والے اجلاس نے امریکی بیانات اور اسرائیلی معاملات پر اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس کی اپیل کی ہے ، جو ایک ایسا ادارہ جس کی ریکارڈ میں کوئی بھی مسئلہ حل ہونا رقم نہیں ہے۔ اگر عالمی رائے عامہ چپ کا روزہ رکھی رہی تو صرف ۵ فروری ہی نہیں ۵ اگست بھی ہر سال منانا پڑے گا ، اور کشمیری مجاہدین اپنی جانوں کا نذرآنہ دیتے رہینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں