سندھ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گندم کی امدادی قیمت آفر کی جائیگی اور ہر ایک ضلع میں ہر ایک سے مجموعی گندم کی پیداوار کا 37 فیصد خرید کیاجائیگا : وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس

کراچی : سندھ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ گندم کی امدادی قیمت آفر کی جائے گی اور ہر ایک ضلع میں ہر ایک سے مجموعی گندم کی پیداوار کا 37 فیصد خرید کیاجائے گا تاکہ کاشت کاروں کو مساوی طورپر سپورٹ حاصل ہوسکے حالانکہ امدادی قیمت کا اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے اس کی نظر ثانی شدہ قیمت کے اعلان کے بعد کیاجائے گا۔ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں آج 7 ویں منزل نیو سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، تمام کابینہ کے اراکین ، مشیروں اور متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔
وفاقی منتقلیاں:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ کو بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نے 835 بلین روپے منتقل کیے ہیں۔پہلے 7 ماہ میں حصہ 487 بلین روپے کا حصہ بنتا ہے جس میں سے صرف 359 بلین روپے وصول ہوئے ، اس طرح 128 بلین روپے کا شارٹ فال ہوا۔
گندم:
کابینہ نے گذشتہ کابینہ کے اجلاس کے منٹس کی منظوری کے فوراً بعد گندم کی خریداری کے منصوبے کا ایجنڈا اٹھایا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم کی فصل میں اضافہ ہوا ہے لہٰذا گندم کی سپورٹ پرائس میں بھی اُسی حساب سے اضافہ کیاجائے۔ انہوں نے کابینہ کو یہ بھی مشورہ دیاکہ حکومت ہر ایک ضلع کی مجموعی گندم کی پیداوار کا 37 فیصد حصہ خرید کرے گی تاکہ قیمت میں اضافے کا فائدہ ہر ایک ضلع میں تمام آبادگاروں تک پہنچ سکے۔انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ امدادی قیمت کا اعلان ایک بار وفاقی حکومت کی جانب سے اُس کی نظر ثانی شدہ سپورٹ پرائس کے اعلان کے بعد کیاجائے۔ کابینہ نے غور و خوص کے بعد اس تجویز کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بتایاگیا کہ مارکیٹ میں جوٹ بیگ کی قیمت237 روپے تھی جبکہ پی پی بیگ کی قیمت صرف 68 روپے ہے لہٰذا کابینہ نے فیصلہ کیا کہ 20 فیصد جوٹ بیگ اور 80 فیصد پی پی بیگ خرید کیے جائیں ۔ کابینہ نے پہلے ہی 1.4 ایم ایم ٹی ایس گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیاہواہے۔حکومت نے گندم کی خریداری کے لیے 38 بلین روپے مختص کیے ہیں جبکہ مطلوبہ فنڈز 53.4 بلین روپے درکار ہیں لہٰذا کابینہ نے مزید 15.4 بلین روپےکی منظوری دی تاکہ آسانی کے ساتھ گندم کی خریداری کی جاسکے۔
بعد از مرگ ترقی:
سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ اعجاز حسین محکمہ جیل کے گریڈ19 کے افسر تھے جنہیں 2015 میں کالعدم تنظیم نے شہید کردیاتھا۔ شہید اعجاز حسین کے بیٹے نے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنے والد کی ڈی آئی جی پرزن گریڈ 20 کے عہدے پر ترقی دینے کی درخواست کی۔کابینہ نے شہید ریکگینیشن ایکٹ کے تحت شہید اعجاز حسین کو بعد از مرگ ترقی دینے کی منظوری دی۔
میڈیکل بلز:
ایک دوسرے آئیٹم پر غور کرتے ہوئے کابینہ نے محکمہ خزانہ کی میڈیکل ری اِمبرسمنٹ بلز کی رقم کی 3 لاکھ سے بڑھا کر 3 ملین کرنے کی تجویز کی منظوری دی۔
متعلقہ انتظامی محکموں کے سیکریٹری ایک ملین روپے تک کے بلوں کی ری اِمبرس کرنے کے مجاز ہیں ۔ایک ملین روپے سے اوپر کے بل 2 ملین تک کی منظوری چیف سیکریٹری دیں گےجبکہ 2 ملین روپے سے زائد کے بل وزیراعلیٰ سندھ کو منظوری کے لیے بھیجے جائیں گے۔
تعلیم:
محکمہ اسکول ایجوکیشن کی درخواست پر کابینہ نے اسکولوں کے لیے فرنیچر کی خریداری کے معاملے پر غور کیا اور محکمہ کو ہدایت کی کہ خریداری اسکول کے حساب سے کرنی چاہیے اور اسکول کو فراہم کیے جانے والے فرنیچر کی تعداد اُس کی ویب سائٹ پر رکھی جائے ۔ اس سے مقامی لوگ اور محکمے صحیح طریقے سے فرنیچر کی دیکھ بھال کرسکیں گے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کو فرنیچر کی خریداری کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اُن اسکولوں کو فرنیچر فراہم کریں جہاں پر فرنیچر کی کمی ہے ۔
کابینہ نے محکمہ تعلیم کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اسکولوں کے مرمت و دیکھ بھال کے بجٹ کو بھی استعمال کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں 45 ہزار سے زائد اسکول ہیں اور ان کی مرمت سارا سال ہونی چاہیے تاکہ اسکول کی عمارتوں کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال ہوسکے۔
اسٹیمپ ایکٹ:
بورڈ آف ریونیو نے اسٹیمپ ایکٹ 1899ء میں ایک ترمیم تجویز کی تاکہ الیکٹرونکلی اسٹیمپ(ای۔ اسٹیمپ) جنریٹ ہوسکے اور کاغذات کو لیگل کور دیا جاسکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بورڈ آف ریونیو نے گذشتہ سال 19-2018 میں 9.9 بلین روپے جمع کیے اور اس سال 20-2019 میں 15 بلین روپے کا ہدف دیا گیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ای ۔ اسٹیمپ متعارف کرانے کے بعدریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔
الیکٹرونکلی جنریٹر ڈاکیومنٹس میں دستخط کی ضرورت نہیں ہوگی مگر ان پر ایک کوڈ بار ہوگا جس کی اسکینگ کے ذریعے کے تصدیق ہوسکے گی۔ کابینہ نے ترمیم کی منظوری دی اور اسے مزید کارروائی کے لیے اسمبلی کو ریفر کردیا۔
آئی جی پولیس :
وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو یہ پیشکش کی ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کو انسپکٹر جنرل آف پولیس کے معاملے پر بریفنگ دینے کو تیار ہیں مگر گورنر کے ساتھ مشاورت مناسب نہیں ۔ وزیراعظم نے مجھے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو آئی جی پولیس کی تبدیلی پر تحفظات ہیں لہٰذا کابینہ نے یہ معاملہ آپ(وزیراعلیٰ ) اور گورنر پر چھوڑ دیاہےکہ وہ باہمی مشاورت سےاس پر فیصلہ کریں ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ یہ معاملہ متنازعہ بن چکا ہے لہٰذا اس معاملہ میں گورنر کو بیچ میں لانا غیر مناسب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں وفاقی کابینہ کو بریفنگ دینے کو تیار ہوں اگر وزیراعظم چاہیں تو ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ آئی جی پولیس کو ہٹانے پر وہ آمادہ ہیں مگر آئی جی پولیس کے متبادل پر ابھی تک اتفاقِ رائے نہیں ہوسکاہے۔ کابینہ اراکین نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ان(کابینہ) کی منظوری کے ساتھ پہلے ہی 7 نام وفاقی حکومت دیئے جاچکے ہیں لہٰذا ن میں سے کسی ایک کو جیسا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیاتھا کو بطور نئے آئی جی پولیس تعینات کیاجاسکتاہے۔
کورونا وائرس:
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ 300 چائنیز گذشتہ شب جناح ٹرمینل پر پہنچے ہیں ۔ ڈاکٹر اور ایمبولینس ائیرپورٹ پر دستیاب تھیں۔ چائنیز اتھارٹیز نے انہیں پہلے چیک کیا اُس کے بعد انہیں کراچی کے لیے آن بورڈ کیاگیا۔صوبائی محکمہ صحت کے ڈاکٹروں نے بھی انہیں چیک کیا اور انہیں لینڈ کرنے کے لیے کلیئر قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چائنیز بچہ ائیرپورٹ سے بھاگا اور بعد میں اس بچے کو پکڑ کر اُسےگمبٹ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز میں داخل کرادیاگیا۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کابینہ کو بتایا کہ کراچی کے بڑے اسپتالوں میں آئیسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں ۔
کھلی کچہریاں:
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے کابینہ کے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع میں فروری کے آخری ہفتے میں وہاں جہاں پہلے کھلی کچہریاں منعقد کی گئی تھیں وہاں کھلی کچہریاں منعقد کریں ۔ انہوں نے چیف سیکریٹری کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس سے پہلے منعقد ہونے والی کھلی کچہریوں میں ان کے کابینہ کے اراکین کی جانب سے دیئے جانے والی ہدایات اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے انہیں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں