بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مجموعی طور پر 21 ارب روپے سے زائد کے خالص ریونیو سمیت تمام لوکل ٹیکسز پر حکومت سندھ نے قبضہ کیا ہوا ہے : میئر کراچی

کراچی : میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ بلدیاتی اداروں کے وسائل پر قبضہ کرکے توقع رکھے کہ وہ ان اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور شہریوں کے بنیادی مسائل کے حل کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار پائے گی تو یہ خام خیالی ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مجموعی طور پر 21 ارب روپے سے زائد کے خالص ریونیو سمیت تمام لوکل ٹیکسز پر حکومت سندھ نے قبضہ کیا ہوا ہے، جبکہ اس کے متبادل کے طور پر آکٹرائے کی مد میں صرف 7 ارب روپے جاری کئے جاتے ہیں، ایسی صورتحال میں وزیر اعلیٰ سندھ اگر یہ چاہتے ہیں کہ صوبہ ترقی کرے، شہریوں کے مسائل حل ہوں، بلدیاتی اداروں کے اخراجات کی ذمہ داری سے چھٹکارا ملے تو فوری طور پر وسائل و اختیارات ان اداروں کو واپس کئے جائیں، ان خیالات کا اظہار انہو ں نے وزیر اعلیٰ سندھ کے 30 جنوری کے بیان کے حوالے سے پیر کو کے ایم سی ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈپٹی میئر سید ارشد حسن اور ڈسٹرکٹ چیئرمینز بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ ایس ایل جی اے 2013ء میں بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی لحاظ سے مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا۔ کنزروینسی، کمرشلائزیشن، لوکل ٹیکسز، بی ٹی ایس ٹاور اور بیٹرمنٹ سمیت تمام لوکل ٹیکسز پر حکومت سندھ نے قبضہ کر لیا جس کا ریونیو 20 سے 21 ارب روپے بنتا ہے، جبکہ متبادل آکٹرائے کی مد میں صرف 7 ارب روپے دیئے جارہے ہیں، سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے اس سال 3 ارب 33 کروڑ روپے مختص ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ارب 66 کروڑ روپے کم ہیں۔ سات ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد صرف ایک قسط جاری کی گئی ہے۔ واٹر بورڈ، صفائی ستھرائی کی ذمہ داری، بلڈنگ کنٹرول، ماسٹر پلان، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی سمیت بنیادی ذمہ داریوں کے دیگر ادارے حکومت سندھ نے اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہیں، وزیر اعلیٰ کو خود سوچنا چاہئے کہ اس صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ بلدیاتی ادارے اپنی آمدنی کو بڑھائیں جو ٹیکسز ان سے چھین لئے گئے ان میں بلدیاتی ادارے اضافہ کیسے کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اگر واقعی مخلص ہیں کہ شہریوں کے بنیادی مسائل حل ہوں اور حکومت سندھ کو بلدیاتی اداروں کے اخراجات کی ذمہ داری سے چھٹکارا ملے، تو فوری طور پر بلدیاتی اداروں کے وسائل و اختیارات ان اداروں کو واپس کئے جائیں۔ آکٹرائے ٹیکس کو بحال کیا جائے اور پی ایف سی ایوارڈ جاری کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی تقسیم ختم اور ان کو آزادانہ طور پر وسائل اور اختیارات کا استعمال کرنے دیا جائے تو حکومت سندھ کی نہ بل کی ادائیگی کی ذمہ داری ہوگی اور نہ ہی پنشن تنخواہوں کی، پھر یہ ادارے اپنے اخراجات اور شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ بصورت دیگر تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، میئر کراچی نے پیشکش کی کہ وزیر اعلیٰ سندھ اگر ہماری ان تجاویز پر مثبت انداز میں سوچیں تو نظام کو بہتر بنانے کے لئے ہم اور ہماری پارٹی ہر سطح پر تعاون کرنے کیلئے تیار ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سیاست نہیں خدمت کا نظریہ ہے اور ان اداروں کے استحکام سے جمہوریت اور ملک میں استحکام آئے گا۔ میئر کراچی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، صوبائی وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی سے صرف کراچی کو نہیں سندھ بھر کے اضلاع کو بھی فائدہ ہوگا، کراچی کے شہری 33ٹیکس ادا کرتے ہیں اور مزید ٹیکسز کے متحمل نہیں ہوسکتے، ایس ایل جی اے میں ترامیم کی تجاویز تیار کررہے ہیں، سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد کے حوالے سے ہماری پیٹشن پر فیصلہ کرے، بصورت دیگر موجودہ اختیارات کے ساتھ آئندہ بلدیاتی الیکشن کرانابے کار ہوگا، انہوں نے کہا کہ SBCA اور SSWMB کی طرح سندھ ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کا حشر بھی انہی اداروں جیسا ہوگا، اس موقع پر بلدیہ وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بلدیات کے ساتھ صوبے میں ایک متوازی نظام بھی چل رہا ہے، صوبائی حکومت منتخب نمائندوں کے بجائے کمشنر کراچی کے ذریعے رقم خرچ کر رہی ہے، جو جمہوریت کے منافی ہے، انہوں نے کہاکہ بلدیہ وسطی کو ہر ماہ 6 سے 7 کروڑ شارٹ فال کا سامنا ہے، مختلف ٹیکسز کی وصولی کے حوالے سے صوبائی میونسپل مجسٹریٹ کا تقرر کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ کو کے الیکٹرک کے واجبات کے معاملے میں عوامی نمائندوں کا ساتھ دینا چاہئے، بلدیہ شرقی کے چیئرمین معید انور نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ او زیڈ ٹی کی شرح میں اضافہ نہیں کیا جاتا، آج تک صوبائی حکومت نے ڈویلپمنٹ کی مد میں ایک پیسہ جاری نہیں کیا، بلدیہ کورنگی کے چیئرمین سید نیئر رضا نے کہا کہ کے الیکٹرک کے واجبات براہ راست ہمارے فنڈز سے کاٹ لئے جاتے ہیں، سندھ حکومت اس کے لئے کمیٹی قائم کرے، وزیراعلیٰ کے ساتھ تین میٹنگز ہوئیں مگر آج تک کوئی وعدہ وفا نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں