یو ایس ایڈ کی شراکت داری سے سندھ میں ابتک 112 اسکول تعمیر کیے جا چکے ہیں، وزیر اطلاعات سندھ

نالائق اور نا اہل حکومت کی پالیسیوں سے ہر طبقہ معا شی طو ر پر کمزور ہو چکا ہے ۔سعید غنی
کراچی  : سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ یو ایس ایڈ کی شراکت داری سے سندھ میں ابتک 112 اسکول تعمیر کیے جا چکے ہیں پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت ان اسکولز میں ساڑھے 3 ہزار طلباءزیر تعلیم ہیں اور ان اسکولوں میں تعلیم حا صل کر نے والے طلبا کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوسف گوٹھ سرجانی ٹاﺅن میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے اسکول عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ یو ایس ایڈ اور سندھ حکومت کے اشتراک سے بننے والے اس اسکول سے ہر کوئی خوش نظر آرہا ہے سندھ میں تعلیم کا معیار بہتر کرنے میں یو ایس ایڈ ہمیشہ پیش پیش رہا ہے آج سندھ گورنمنٹ کے قا بل فخر کا ر نامے سے تما م طا لب علم خوش ہےں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے 9 ہزار اسکولوں میں 80 فیصد انرولمنٹ موجود ہے صرف تعلیم کے شعبہ میں نہیں بلکہ صحت اور دیگر سیکٹرز میں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی گئی ہے ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تمام عوامی مسائل حل کر یں گے۔ وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ میں ایک عام سا شخص ہوں اور بہت پڑھے لکھے خاندان سے نہیں ہوں بس تعلیم کے ذریعے ہی میں آج اس مقام پر ہوں میں بچوں سے کہوں گا آپ کو تعلیم کی جوسہولیات مل رہی ہیں وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔یہ اسکو ل اسٹیٹ آف دی آر ٹ کا در جہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ساڑھے 4 ہزار جونیئر اسکول ٹیچر کی بھرتی کا عمل شروع کیا ہے میں یو ایس ایڈ کا شکر گزار ہوں کہ جو ہمارے ساتھ شانہ بشانہ ہمہ وقت مصرو ف عمل ہے اور ہر طرح کے چیلنجز میں تعاون کرتا ہے تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بینظیر بھٹو کی کی تصویر حکومت نے ہٹائی تھی اور دیگر شخصیات کی تصویر کے حوالے سے بھی غور کیا جارہا ہے ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ معاشرتی علوم کی کتاب میں بہاری قوم کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا جو کہ ایک سنگین غلطی تھی اس غلطی کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور نازیبا الفاظ کو صحیح کر لیا گیا ہے آئندہ اس طرح کی غلطیوں پر نظر رکھی جائے گی اسکول کی افتتاحی تقریب سے سیکریٹری تعلیم احسن منگی ،یو ایس ایڈ مشن ڈائریکٹر جولی کونین اسکول ہیڈ ماسٹر سوبھو لغاری ودیگر نے بھی خطاب کیا علاوہ ازیں آرٹس کونسل میں ورکرز ویلفیئر بو ر ڈ کے ما تحت چلنے اسکولو ں کے بچو ں میں تقسیم انعاما ت اور ایوار ڈ تقسیم کر تے ہو ئے منعقدہ تقریب سے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ مہنگائی وہ ہے جو آپ محسوس کرتے ہیںاعداد و شمار کے مطابق جو مہنگائی جنوری میں ہوئی ہے وہ دسمبر سے زیادہ ہے اور اسد عمر نے بھی مان لیا ہے کہ مہنگائی ہوگئی ہے جو کہ بڑی بات ہے انہوں نے کہا کہ یہ واحد حکومت ہے جس نے حج بھی مہنگا کر دیادو سالوں میں حج اخراجات اتنے ہوگئے ہیں کہ اب عام عادمی کا حج کی سعادت حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ ا دویات مہنگی کر دی گئی ہیں جب کہ گیس کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سوچا جا رہا ہے ملک میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو مہنگی نہیں ہوئی ہو اب مڈل کلاس طبقہ غریب ہوتا جا رہا ہے یہاں نا اہل وفا قی حکومت ہے جس سے تما م پا کستا نیو ں پر منفی اثرا ت مر تب ہو ئے اور عوام کی حا لت زار بد سے بد تر ہو گئی ۔ سعید غنی نے کہا کہ دو چار نااہل اور پیسے والے لوگ ہیں جو وزیر اعظم اور پی ٹی آئی پر خرچہ کرتے ہیں ہر تین ماہ بعد اس حکومت میں کسی نہ کسی چیز کا بحران آتا رہے گا ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چائنہ میں جی سی سی کی میٹنگ میں وفاقی حکومت نے ایم ایل ون پر بات کی تھی فروری میں جی سی سی کی میٹنگ میں وفاق کی جانب سے کے سی آر پر بات کی جائے گی ایک اور سوال پر وزیر محنت نے کہا آئی جی کے ہٹنے سے اتنی تکلیف آئی جی کو نہیں جتنے اپوزیشن جماعتوں کو ہے اپوزیشن کے ساتھ آئی جی کا گٹھ جوڑ ہے اور وفاقی حکومت کی وجہ سے اس میں اتنی جرات کیسے ہوئی ہے کہ وہ سندھ کے وزراءکے خلاف جھوٹی رپورٹ بنا کر پیش کرے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آئی جی کی بیساکھی بنی ہوئی ہیں ہمارے سندھ حکومت آئی جی کے حوالے سے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں وہ سندھ کے خلاف سازشوں میں سر گر م عمل ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں