حکومت سندھ اور پاکستان ریلوے کا کراچی سرکلر ریلوے کے تمام زیر التواء مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ

کراچی  : حکومت سندھ اور پاکستان ریلوے نے کراچی سرکلر ریلوے کے تمام زیر التواء مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں وفاق کے زیرانتظام کراچی اربن ٹرانسپورٹ کمپنی (کے یو ٹی سی) اور رائٹ آف وے کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنا ہے تاکہ کے آر سی پروجیکٹ کا آغاز ہوسکے،جس کی اپریل 2020 میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی سی پیک کے حوالے سے مشترکہ رابطہ کمیٹی (جے سی سی) سے اس کی مالی منظوری مل رہی ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے درمیان آج بروز پیر کو وزیر اعلی ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز شاہ ، صوبائی مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی، سیکرٹری ٹرانسپورٹ عباس ڈیتھو نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر ریلوے کے وفد میں سیکرٹری/چیئرمین ریلوے حبیب الرحمن گیلانی، سی ای او/سینئر جی ایم ریلوے دوست علی لغاری، ڈی ایس ریلوے نثار میمن، ڈی جی پلاننگ ریلوے سید مظہر علی، ایڈیشنل جنرل منیجر ریلوے فرخ تیمور شامل تھے۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر ریلوے کو سرکلر ریلوے کے واقعات کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ 3 دسمبر 2016ء کو انہوں نے وزیراعظم سے سی پیک فریم ورک کے تحت کے سی آر کو شامل کرنے کی درخواست کی تھی، اس کی بحالی کیلئے سوورین گارنٹی جاری کی جائے، کراچی اربن ٹرانسپورٹ کمپنی (کے یو ٹی سی) کو سندھ حکومت کے حوالے کریں اور رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) کو کے یو ٹی سی کے حوالے کردیں۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم (نواز شریف) نے ان کی تمام درخواستوں کو منظورکیں اور کے یو ٹی سی کا رائٹ آف دے حوالے کرنے کے معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی، لہذا معاملہ تاخیر کا شکار ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 29 دسمبر 2016 کو بیجنگ میں منعقدہ چھٹے جے سی سی اجلاس میں کے سی آر کی بحالی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 6 اکتوبر 2017 کو ایکنک نے چینی قرض کے ذریعے 207.6 ارب روپے (1.97 بلین ڈالرز) کی لاگت سے کے سی آر منصوبے کی منظوری دی۔ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ نے 8 نومبر 2017 کو اس منصوبے کی انتظامی منظوری جاری کی۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کے سی آر 21 نومبر 2017ء کو ہونے والی ساتویں جے سی سی اجلاس میں تکنیکی لحاظ سے قابل عمل تھا۔ 20 دسمبر 2018 کو آٹھویں جے سی سی اجلاس میں کے سی آر کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور اسلام آباد میں 6 نومبر 2019ء کو نویں جے سی سی اجلاس میں چینی فریق نے بیان کیا کہ پاکستان حکومت کو مالی تعاون کی درخواست چینی فریق کو پیش کرنا چاہئے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ سے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کے سی آر منصوبے کو من و عن عمل میں لایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی اربن ٹرانسپورٹ کمپنی (کے یو ٹی سی) میں وفاقی حکومت کے 60 فیصد حصص ہیں اور صوبائی حکومت کے 40 فیصد حصص ہیں جوکہ سندھ حکومت کے حوالے نہیں کیے گئے، لہٰذہ کے سی آر کے معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے ایک مشیر مقرر کیا جائے، اس پر وفاقی وزیر شیخ رشید نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ وہ کے یو ٹی سی کو سندھ حکومت کے حوالے کر رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز شاہ اور وفاقی سیکریٹری ریلوے کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ایک ماہ کے اندر کے یو ٹی سی کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کی باقاعدہ اور انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انتظامیہ کی تبدیلی کیلئے کے یو ٹی سی کو ایس ای سی پی کے پاس درخواست دائر کرنا ہوگی۔
کراچی سرکلر ریلوے کے روٹ پر تجاوزات ہٹانے کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 38 کلومیٹر میں سے 33 کلومیٹر کلیئر ہوچکا ہے اور صرف پانچ کلو میٹر باقی ہے۔ کمشنر کراچی نے کہا کہ جب پاکستان ریلوے آگے بڑے گی تو باقی ماندہ حصے کو بھی تجاوزات سے پاک کردیا جائے گا۔ اس پر وزیر ریلوے اور وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی سی ریلوے کراچی اور دیگر متعلقہ افسران کے ساتھ کمشنر کراچی کے تحت ایک اور کمیٹی تشکیل دی جس میں کے سی آر روٹ کے بقیہ حصے سے تجاوزات کو ہٹانے کے لاحہ عمل طے کریں گے۔ کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر راستہ صاف کرنے اور حکومت کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ریلوے کے ساتھ زیر التواء امور میں ٹوپوگرافی سروے اور کےسی آر کے روٹ کے ساتھ اوور لیپنگ ایم ایل ون کے سیکشن کی جیوٹیکنیکل تحقیقات شامل ہیں، جو سٹی اسٹیشن سے ڈرگ روڈ تک ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیکشن کا ڈیزائن جیوٹیکنیکل تحقیقات اور ٹوپوگرافک سروے کی تکمیل کے بعد شروع کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی کابینہ سے اتفاق رائے کے لئے وزارت منصوبہ بندی و ترقیات میں زیر التوا فریم ورک معاہدے پر دستخط اور نیشنل ڈولپمنٹ اینڈ رفارمر کمیشن، بیجنگ، چین کو آگے منتقل کرنے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مراعات یافتہ مالی اعانت کی درخواست وفاقی حکومت کے معاشی امور ڈویژن میں زیر التوا ہے جس کے تحت یہ درخواست اسلام آباد میں چین کے سفارتخانے میں وزارت تجارت، بیجنگ چین کو بھیجنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانس ڈویژن کے ساتھ خودمختار گارنٹی جاری کرنا زیر التوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی اداروں کو راحت پہنچانے کے لئے اسے تیز کیا جانا چاہئے۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ ان کی وزارت کے سی آر منصوبے کو جلد سے جلد شروع کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ تعاون کرے گی۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کے سی آر کے متاثرہ افراد کو جہاں ریلوے اراضی دستیاب ہے وہاں مکانات تعمیر کرکے ان کی بحالی کی جائے گی۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں مارچ کے آخر تک رائٹ آف دے کی منظوری، دستاویزات اور متعلقہ کاغذی کارروائی سمیت تمام تر انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ اپریل 2020 کو بیجنگ میں آئندہ ہونے والے جے سی سی اجلاس میں کے سی آر کی فنانشل رلیز پر بات چیت ہوسکے۔
کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) روٹ:
سرکلر ریلوے کا روٹ 43.13 کلومیٹر طویل ہے جس کی درجہ بندی 14.95 کلومیٹر اور 28.18 کلومیٹر بلند ہے۔ اصل منصوبے کی تکمیل کے فوراً بعد یہ ائیرپورٹ سے منسلک ہوگا۔ اس میں وزیر مینشن سے منگھوپیر تک 8.3 کلومیٹر ترجیحی سیکشن ہوگا۔ کے سی آر کے 24 اسٹیشن ہوں گے، ان میں سے 14 بلند مقامات اور 10 ایٹ گریڈ اور کے سی آر کا الگ یارڈ ہوگا۔
کے سی آر کا راستہ وزیر مینشن، لیاری، بلدیہ، شاہ عبد اللطیف، سائٹ، منگھو پیر (ترجیحی سیکشن)، ایچ بی ایل، اورنگ آباد، ناظم آباد، لیاقت آباد، یاسین آباد، گیلانی، نیپا، علادین پارک، جوہر، ڈرگ روڈ، کارساز، شہید ملت، چنیسر، نیول کورنگی روڈ، کراچی کینٹ، ڈی او سیز، کراچی سٹی، ٹاور اور وزیر مینشن تک ہوگا۔
ڈرگ روڈ سے سرکلرریلوے منصوبے کے اختتام کے فوراً بعد جناح ٹرمینل تک توسیع کی جائیگی، جو ڈرگ روڈ سے ڈرگ کالونی، اسٹارگیٹ اور جناح ٹرمینل تک ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ماس ٹرانزٹ کے منصوبے اور سرکلر ریلوے ہی شہر کی ٹریفک کے مسائل کا حل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں