بھارت سے انڈر19 ورلڈ کپ سیمی فائنل، پاکستانی ٹیم 172رنز پر ڈھیر

انڈر19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں روایتی حریف بھارت کے خلاف پاکستانی بیٹنگ لائن بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی اور پوری ٹیم 172رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

جنوبی افریقہ کے شہر پوشفسٹروم میں کھیلے جا رہے انڈر19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کے کپتان روہیل نذیر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کچھ اچھا ثابت نہ ہوا
بھارت کو اننگز کی ابتدا میں ہی اہم کامیابی مل گئی اور محمد ہریرا صرف 4 رنز بنانے کے بعد سوشانت مشرا کی وکٹ بن گئے۔

فہد منیر پوری اننگز کے دوران مشکلات کا شکار نظر آئے اور 16 گیندیں کھیلنے کے باوجود کھاتا کھولنے کی زحمت کیے بغیر ہی روی بشنوئی کو وکٹ دے کر چلتے بنے۔

34 رنز پر 2وکٹیں گرنے کے بعد دوسرے اینڈ پر موجود حیدر علی کا ساتھ دینے کپتان روہیل نذیر آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے اسکور کو بتدریج آگے بڑھانا شروع کیا
دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 62رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت ٹیم کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر پاتی، یشسوی جیسوال نے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 56رنز بنانے والے حیدر کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

مشکلات میں گھری پاکستانی ٹیم کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب قاسم اکرم وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں رن آؤٹ ہو کر پویلین واپسی پر مجبور ہو گئے۔

قاسم اکرم نے شاٹ کھیل کر رن لینے کی کوشش کی لیکن کپتان روہیل نذیر نے ابتدائی طور پر رن کے لیے آمادگی ظاہر کی اور پھر واپس مڑ گئے جس کے سبب دونوں ہی کھلاڑی ایک ہی اینڈ پر پہنچ گئے اور وکٹ کیپر دھروو جیورل نے باآسانی وکٹیں بکھیر کر اپنی ٹیم کو چوتھی کامیابی دلا دی
اگلے ہی اوور میں روی بشنوئی نے عباس آفریدی کو چلتا کردیا جنہیں وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار دیا گیا۔

یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے سبب پاکستان کی رنز بنانے کی رفتار انتہائی کم ہو گئی اور بڑا شاٹ مارنے کی کوشش میں کپتان روہیل نذیر بھی 62رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

کپتان کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارت کو پاکستان کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری پاکستانی ٹیم 172رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

پاکستانی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری 6 وکٹیں صرف 26رنز کے اضافے سے گریں جبکہ 8کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔

بھارت کی جانب سے سشانت مزشرا 3وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ کارتھک تیاگی اور روی بشنوئی نے دو، دو وکٹیں لیں۔



اپنا تبصرہ بھیجیں