بلادِ فارس و روم اور اسوہ حسنہ


کالم: ذوق سجدہ
قمررضا محمد
بلادِ فارس و روم اور اسوہ حسنہ

ہمارے کچھ نادان دوست مسلسل ایسی کم علمی کی تحریریں لکھ رہے ہیں اور شیئر کر رہے ہیں جس سے نہ صرف ان کی کم علمی ثابت ہو رہی ہے بلکہ کج فہمی و نفس پرستی کا عمل بھی خوب واضح ہو رہا ہے۔
میانہ روی بہت ہی عظیم چیز ہے جس کا حکم قران و حدیث کے بعد خلیفہ بلافصل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کردار اور جناب سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کے اقوال سے بھی جا بجا ملتا ہے لیکن ہمارے دوست یہ بات سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ اسرائیل جیسے ظالم کے مقابلے میں ایران کی حمایت یا ایران کیلئے فتح کی آرزو سے کوئی بدعقیدہ نہیں ہو جاتا ہمارے دوست اس چیز کو سمجھنے سے نابالغ نظر آتے ہیں کہ اسرائیل جیسے فسادی کے مقابلے میں ایران کی حمایت سے کوئی شیعہ رافضی نہیں ہو سکتا۔
پیارے سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوہ حسنہ سے ہمیں یہ چیز ملتی ہے کہ جب دو باطل قوتیں آمنے سامنے ہو تو اپنی بھلائی کا پہلو دیکھو، اور اس کی آرزو کرو جیسا کہ بلادِ فارس و روم کی جنگ اس چیز کو خوب واضح کرتی ہے۔
قران مجید فرقان حمید میں اللہ سبحانہ وتعالی کیا فرماتا ہے، ذرا دیکھئے سورہ الروم، اور غور کیجئے آیت نمبر 3،4،5 پر کہ:
“پاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔چند برس میں حکم الله ہی کا ہے آگے اور پیچھے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے۔الله کی مدد سے وہ مدد کرتا ہے جس کی چاہے اور وہی ہے عزت والا مہربان”
یعنی غور فرمائیے: جس دن رومی غالب آئیں گے اہل ایمان خوشی فرمائیں گے۔ تو میرا سوال بنتا ہے یہاں کہ رومی بھی تو کفار میں سے ہیں لیکن ان کی جیت پر خوش ہونے والے پھر بھی اہل ایمان ہے کیونکہ ایک غلیظ و ذلیل طاقت ان اہل روم کے ذریعے ذلیل و رسوا ہوئی تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہمارے کچھ ناعاقبت اندیش دوستوں کی باتوں نے عوام کو شدت و جزباتیت کی اس راہ پر ڈال دیا ہے جہاں سے صرف جھالت تو پھوٹ سکتی ہے لیکن عقل و ہنر اور علم کی کوئی رمز نہیں سمجھی جا سکتی۔
اس لئے اعتدال کی راہ کو کبھی نہ چھوڑا جائے، شیعہ فاسق و منافق اور بدعہد ہیں لیکن اسرائیل جیسے ظالم و جابر اور بے حس کے مقابلے میں ہمیں بطور قوم، بطور ملک اپنے مفادات دیکھنا ہو گے جس میں ایران تو قبول کیا جا سکتا ہے لیکن اسرائیل کبھی نہیں اور یقینا اسرائیل کے مقابل ایران کی کامیابی پر خوشی کوئی دین و ایمان یا عقیدے سے خارج کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
امید کرتا ہوں کہ اتنی سی بات قران و حدیث و سنت و اسوہ حسنہ سے ضرور اس معاملے میں سمجھی اور اپنائی جا سکتی ہے مزید متشدد و فتنہ پرست نادانوں کو راہ راست پر لانے کیلئے کان سے دبوچ کر سمجھائی بھی جا سکتی ہے۔ کہ آخر کار بھلے نادان ہیں لیکن پھر ہے بھی تو اپنے ہی۔