
ایران کے پاس اسرائیل کو جوابی کارروائی کے لیے کیا ہتھیار موجود ہیں؟
اسرائیل پر جمعہ کے روز ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد، ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کا انحصار بنیادی طور پر اس کے بیلسٹک میزائل کے ذخیرے پر ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) کی رپورٹ “ملٹری بیلنس 2025” کے مطابق، ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز ایرو اسپیس فورس کے پاس 100 سے زائد میڈیم رینج بیلسٹک میزائل لانچرز موجود ہیں، جو 1,000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ فاصلہ اسرائیل تک پہنچنے کے لیے کافی ہے۔
ایران کے میزائل ذخیرے میں ٹھوس ایندھن (solid-fueled) اور مائع ایندھن (liquid-fueled) دونوں طرح کے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔
ٹھوس ایندھن والے میزائل فوری طور پر داغے جا سکتے ہیں، جبکہ
مائع ایندھن والے میزائل کو لانچ کرنے سے پہلے گھنٹوں تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایران سے فائر ہونے والا ایک بیلسٹک میزائل صرف 15 منٹ میں اسرائیل کی سرزمین تک پہنچ سکتا ہے۔
ایران کے دیگر ممکنہ ہتھیار
بیلسٹک میزائلز کے علاوہ، ایران کے پاس کئی اور جنگی اختیارات ہیں:
کروز میزائل: یہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور جدید ڈیفنس سسٹمز سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈرونز اور شہد بمبار: ایران نے حالیہ برسوں میں متعدد جدید ڈرونز تیار کیے ہیں، جو طویل فاصلے تک حملہ کر سکتے ہیں۔
پراکسی گروپس: حزب اللہ، فلسطینی مزاحمتی گروپس اور دیگر اتحادیوں کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
سائبر وارفیئر: ایران کی سائبر یونٹس اسرائیلی دفاعی اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
کیا ایران براہ راست جنگ چاہتا ہے؟
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران براہ راست جنگ سے گریز کرے گا، لیکن وہ اپنے اتحادیوں اور میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے گا۔ اسرائیل کے جدید ڈیفنس سسٹمز جیسے آئرن ڈوم کے باوجود، ایران کے میزائلز اور ڈرونز اہم خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
جوابی کارروائی کی نوعیت اور شدت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران اپنی فوجی طاقت اور سفارتی حکمت عملی میں سے کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔























