21 جون… بے نظیر دن …..ایک امید ایک یقین کا دن


21 جون… بے نظیر دن …..ایک امید ایک یقین کا دن

21 جون 2025 کو شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کی 72 ویں سالگرہ پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی خصوصی رپورٹ

بینظیر بھٹو کی یاد میں: ایک عظیم رہنما کی 72ویں سالگرہ پر خراجِ عقیدت

آج 21 جون 2025 کو پاکستان کی پہلی اور واحد خاتون وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ ہم اس عظیم رہنما کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے جمہوریت کے لیے عزم، ظلم کے خلاف جدوجہد اور محروم طبقات کو بااختیار بنانے کی لازوال کوششوں کو یاد کرتے ہیں۔

بینظیر بھٹو کی زندگی حوصلے، استقامت اور عزم کی داستان تھی۔ ایک ممتاز سیاسی خاندان میں جنم لینے والی بینظیر نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عوامی خدمت کو اپنا مشن بنایا۔ جلاوطنی، قید اور قاتلانہ حملوں جیسے بے پناہ چیلنجز کے باوجود، انہوں نے ایک جمہوری اور منصفانہ پاکستان کے خواب کو کبھی ترک نہیں کیا۔

وزیراعظم کی حیثیت سے بینظیر بھٹو نے سماجی انصاف، معاشی ترقی اور خواتین کی خودمختاری کے لیے متعدد پالیسیاں متعارف کروائیں۔ ان کی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) جیسے اقدامات نے غربت کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا اور کمزور طبقات کو سہارا دیا۔ ان کی قیادت اور بصیرت نے پاکستانیوں، خاص طور پر خواتین، کو سیاست میں فعال ہونے اور مثبت تبدیلی کی جدوجہد کی ترغیب دی۔

بینظیر بھٹو کی میراث صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ وہ جمہوریت، انسانی حقوق اور خواتین کی طاقت کی علمبردار تھیں، اور ان کا اثر عالمی سطح پر محسوس کیا گیا۔ 27 دسمبر 2007 کو ان کا انتقال قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی صدمہ تھا، لیکن ان کی یادیں آج بھی لوگوں کو ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کے قیام کے لیے متحرک کرتی ہیں۔

بینظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ کے موقع پر، ہم ان اقدار کو اپنانے کا عہد کرتے ہیں جن کے لیے وہ کھڑی ہوئیں: جمہوریت، انصاف اور مساوات۔ ہم ان کی قربانیوں، جدوجہد اور کامیابیوں کو

======================

دختر پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو

خصوصی تحریر…بشیر ریاض
بی بی شہید، ایک روشن ستارہ
جو کبھی ڈوبتا ہے نہ کبھی ٹوٹتا ہے
(بشیر ریاض )
دختر پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ
آسمان سیاست پر جگمگانے والا وہ ستارہ ہیں
’’جو کبھی ڈوبتا ہے نہ کبھی ٹوٹتا ہے‘‘
یہ ہے وہ لازوال خراج تحسین جو سوشلسٹ انٹرنیشنل کے 50ویں یوم تاسیں پر مشرق وسطیٰ کے مندوب نے بے نظیر بھٹو شہید کو پیش کیا تھا۔

بی بی شہیدآج پاکستان میں پوری دنیا کی جمہوریتوں میں ایک استعارہ بن چکی ہیں۔ سیاست اور جمہوریت کی بقا بھی اس وقت تک ہے جب تک بی بی شہید لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
سوشلسٹ انٹرنیشنل کے پچاسویں یوم تاسیس کی تقریب کے موقع پر جو پرتگال میں ہوئی تھی جس میں دنیا بھر سے معروف سیاستدان، امن کی خاطر اور غربت کے خلاف علم جہاد کرنیوالے دانشور اور ممتاز مفکر اور اہل قلم شریک تھے۔ پی پی کے وفد میں میرے علاوہ میاں مصباح الرحمن، مسٹر ذکاء اشرف اور دو خواتین شامل تھیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کا روشن چہرہ تھیں وہ عالم اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم تھیں۔ انہوں نے بدترین آمریت کے خلاف نہایت بہادری اور جرأت سے جدوجہد کے تاریخ انگیز باب رقم کئے۔ عالمی برادری میں انکی سیاسی بصیرت اور فکر و فرائض پر سیمینار اور لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ان کے سیاسی تدبر اور عالمی امور کے ادراک سے استفادہ کیا جائے۔


1999میں پرتگال میں خواتین کی ایک کانفرنس ہوئی ۲۱۔۳۱اپریل کو ہونیوالی اس کانفرنس کا اہتمام وہاں کی مقامی خاتون میئر نے کیا۔ اس کانفرنس میں، میں بھی بی بی کے ساتھ شریک ہوا۔ بی بی امریکہ میں لیکچرز کے دورے پر تھیں۔ انہوں نے یہ پیغام دیاکہ میں پرتگال پہنچ کر انکے ساتھ کانفرنس میں شریک ہوجائوں۔ یہ کانفرنس خواتین کے سیاسی و سماجی کردار کے بارے میں تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر کو بے حد سراہا گیا۔ بی بی کے خطاب نے حاضرین پر سحر طاری کردیا۔ انہوں نے اپنے منفرد انداز میں سوالات کے جواب دیئے اور ہر کوئی ان سے ملاقات کا خواہش مند تھا۔ چنانچہ لنچ میں انہوں نے مدعوئین کے ساتھ بڑے بے تکلف انداز میں بات چیت کی۔
بی بی بے حد خوش تھیں۔ جب ہم واپس لندن آئے تو اگلے دن کے اخبار میں خبر آئی کہ بے نظیر بھٹو کو عدالت میں عدم حاضری پر 3سال قید کی سزا سنائی گئی اس خبر پر بی بی نے افسوسناک انداز میں کہا کہ دیکھیں کل یورپی ملک میں کس طرح میری پذیرائی ہوئی۔ عزت و احترام دیا گیا لیکن میرے اپنے ملک میں میرے ساتھ یہ سلوک کیا جارہا ہے۔
عالم عرب میں بھی بی بی کی بہت عزت تھی اور انہیں دختر اسلام کے نام سے پکاراجاتا تھا۔
اپنے خلاف جھوٹے مقدمات کے بارے میں بی بی کا کہنا تھا کہ یہ میرے حوصلہ اور ہمت کو توڑ نہیں سکتے۔ بلکہ ان ہتھکنڈوں نے ان کی استقامت اور جرأت کو جلا بخشی اور انہوں نے ان مصائب اور مشکلات کا صبر و استقامت سے مقابلہ کیا۔ بی بی کا قول تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے۔
جلا وطنی کے ایام میں بی بی کئی محاذوں پر لڑ رہی تھیں۔ بیک وقت کئی کردار نبھا رہی تھیں۔ وہ اپنے بچوں کیلئے باپ بھی تھیں اور ماں بھی۔ اپنی تنہائی کا احساس بے شک تھا۔ لیکن وہ پارٹی امور اور عالمی امور پر نظر رکھ کر اس وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتی تھیں وہ کمپیوٹر پر 5گھنٹے روزانہ کام کرتی تھیں۔ آرٹیکل تحریر کرتیں اور اہم معاملات پر اپنے بیانات جاری کرتیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی جلاوطنی کے ان ایام کا بھرپور فائدہ اٹھایا اسی وجہ سے 1999ء سے 2007ء تک پاکستان پیپلزپارٹی متحرک فعال اور متحد رہی۔
بے نظیر بھٹو کی شخصی عظمت کا خوبصورت ترین پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایک انسانیت نواز، رحمدل اور غریب پرور خاتون تھیں۔ ان کا دل غریبوں کی ہمدردی سے لبریز تھا۔ وہ ان کی تکلیف پر پریشان ہوجاتیں اور مصیبت میں ان کی مدد اپنا فرض تصور کرتی تھیں اور یہ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے عام افراد کی مدد کرکے انکے مصائب کم کئے۔ اور کئی خاندانوں کو مشکلات سے بچایا۔ بی بی نے پارٹی کارکنوں کا بھی خیال رکھا اور ان کی جائز مدد بھی کرتی رہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے ادب، صحافت اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی اپنے خصوصی فنڈ سے مدد کی۔ اس ضمن میں ممتاز دانشور اور صحافی جناب حمید اختر، خوبصورت ترقی پسند شاعر جناب ظہیر کاشمیری، جناب حفیظ راقب، اسرار زیدی اور اپنے وقت کی نامور اداکارہ صبیحہ خانم وغیرہ کی مالی امداد کی، پاک ٹی ہائوس کے خدمت گار شریف بنجارہ کو ایک لاکھ روپے ٹپ دی جس سے اسکی روزمرہ کی زندگی میں خوشیوں کے پھول کھل اٹھے۔
وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے میرے توسط سے درجنوں افراد کی مدد کی۔ ان میں اہل صحافت، اہل قلم، اہل دانش و فکر شامل ہیں۔ درجنوں لوگوں کو ملازمت دیکر انکا مستقبل سنوارا اور کئی نادار لوگ ان کی رحمدلی سے نوازے گئے۔
غریب پروری بی بی کا اہم وصف تھا۔ نادار لوگ آج بھی بی بی کو یاد کرکے انہیں دعائیں دے رہے ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے دنیا کو اپنی بصیرت سے متاثر کیا۔ شہادت کے بعد انہیں ایک غیر متنازع لیڈر کا درجہ ملا۔اپنے سیاسی تجربات کے ساتھ ساتھ انہوں نے انسانی سطح پر اپنا کردار مثالی بنا کر پیش کیا۔ اپنے والدین کی طرح بی بی کی شخصیت بھی نہایت متاثر کن تھی۔ میں سائے کی طرح قدم بہ قدم ان کے ساتھ رہا یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے اپنا شیڈو کہتی تھیں میرے ساتھ تو ان کا برتائو مہربانہ تھا اور مجھ پر مکمل اعتماد تھا۔ بی بی شہید ایک مہربان روح تھیں وہ سب کی تکلیفیں دور کرنا چاہتی تھیں۔
21 جون بی بی کا 65واںیوم پیدائش ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سیاسی و شخصی عظمت مسلمہ حقیقت ہے ان کی عظمت کے ستارے عالمی افق پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک دمک رہے ہیں۔ آج ان کا راستہ روکنے والے مجرم بنے کٹہرے میں کھڑے ہیں جبکہ بی بی کے لئے عام آدمی کا دل دعائوں سے لبریز ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کرے۔ آمین۔

============================================
شہید رانی کی سالگرہ اور زندگی سے زیادہ قیمتی تحفہ !
شرجیل انعام میمن
21 جون ، 2024
وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ ، حکومت سندھ
21 جون شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم پیدائش ہے ۔ 21جون 1953ء کو سندھ کے ایک شاہی خاندان میں جنم لینے والی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عیش و آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر جس طرح شعوری طور پر تکلیفوں ، دکھوں اور مصائب کی زندگی کا انتخاب کیا اور مظلومیت کی موت قبول کی ، اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟یہ تاریخ کا ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب صرف ان لوگوں کے پاس ہے ، جو حق پر ڈٹے رہے اور اپنی سب سے بڑی متاع ’’ زندگی‘‘ کو قربان کرنےسے ذرا بھی نہیں ہچکچائے۔ اپنی کتاب ’’مفاہمت‘‘ میں شہید رانی ایک جگہ لکھتی ہیں کہ’’میں نے اپنے والد کی گرفتاری ، قید اور قتل کا عذاب جھیلا تھا اور میں جانتی تھی کہ روح کے ایسے زخم کبھی نہیں بھرتے۔ اپنے والد کی موت پر جو تکلیف میں نے جھیلی ہے ، اس سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے میں کچھ بھی کرنے کے لیے تیار تھی ، مگر یہ واحد کام تھا ، جو میں نہیں کر سکتی تھی ۔‘‘ ان سطور سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ شہید رانی نے اس راستے کا خود انتخاب کیا ۔ اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے عظیم سانحہ کے بعد شہید رانی اگر چاہتیں تو وہ اپنی زندگی پاکستان سے باہر کسی بھی ملک میں جا کر آرام سے گزار سکتی تھیں کیونکہ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستان ان لوگوں کے لیے کس قدر خطرناک ملک ہے ، جو اپنی دھرتی اور اپنے عوام کے لیے سیاست کرتے ہیں ۔ ایک دفعہ شہید بھٹو نے بھی انہیں کہا تھا کہ وہ اگر چاہیں تو یورپ کے کسی ملک میں جا کر اپنی زندگی سکون سے گزاریں لیکن شہید بی بی نے یہی جواب دیا کہ وہ اپنے بابا کا مشن پورا کریں گی ، چاہے انہیں کتنی بھی تکلیفیں اور سختیاںکیوں نہ برداشت کرنا پڑیں ۔ شہید بی بی نے اپنی زندگی کی پروا نہیں کی لیکن جب انہوں نے اپنے بچوں کے بارے میں سوچا کہ وہ اس طرح کی تکلیف سے انہیں بچا لیں ، جس طرح انہوں نے خود اپنے والد کی گرفتاری ، قید اور قتل کی وجہ سے جھیلی تھی تو بھی انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی تکلیف سے بچانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہیں ، مگر یہ کام نہیں کر سکتی ہیںکہ وہ پاکستان کے عوام کا ساتھ چھوڑ دیں ۔21 جون 1978 ء کو شہید رانی کی سالگرہ کے موقع پر سینٹرل جیل راولپنڈی سے ایک قیدی کی حیثیت سے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں ایک طویل خط لکھا ، جو ’’میری سب سے پیاری بیٹی‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا ۔ اس خط میں شہید بھٹو نے اپنی سب سے پیاری بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس جیل کی کوٹھڑی سے تمہیں کیا تحفہ دے سکتا ہوں ، جس میں سے میں اپنا ہاتھ بھی نہیں نکال سکتا ؟ میں تمہیں عوام کا ہاتھ تحفہ میں دیتا ہوں ۔ میں تمہارے لیے کیا تقریب منعقد کر سکتا ہوں ؟ میں تمہیں ایک مشہور نام اور ایک مشہور یاد داشت کی تقریب کا تحفہ دیتا ہوں ۔ تم سب سے قدیم تہذیب کی وارث ہو ۔ اس قدیم تہذیب کو انتہائی ترقی یافتہ اور انتہائی طاقتور بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرو ۔ ترقی یافتہ اور طاقتور سے میری مراد یہ نہیں کہ معاشرہ انتہائی ڈراونا ہو جائے ۔ ایک خوف زدہ کرنے والا معاشرہ ایک مہذب معاشرہ نہیں ہوتا ۔ مہذب کے معنی ہیں ، سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور معاشرہ وہ ہوتا ہے ، جس نے قوم کے خصوصی جذبات کی شناخت کر لی ہو ۔ ’’اسی خط میں شہید بھٹو نے یہ بھی لکھا کہ ’’ میں تمہیں صرف ایک پیغام دیتا ہوں ۔ یہ پیغام آنے والے دن کا پیغام ہے اور تاریخ کا پیغام ہے ۔ صرف عوام پر یقین کرو ۔ ان کی نجات اور مساوات کےلیے کام کرو ۔ اللہ تعالی کی جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے اور سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے ۔ ‘‘پھر تاریخ نے دیکھا کہ شہید بھٹو نے عوام کے جس ہاتھ کا تحفہ اپنی سب سے پیاری بیٹی کی سالگرہ کے موقع پر انہیں دیا تھا ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس تحفہ کو اپنی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی متاع سمجھ کر سنبھالے رکھا اور اس عہد میں عوامی حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھایا، جو تاریخ انسانی میں دھرتی اور عوام کی سیاست کرنے والوں کےلیے مشکل ترین دور تھا ۔ یہ وہ عہد تھا ، جس میں نو فسطائی ( نیو فاشسٹ ) قوتوں نے عوام پر ایک ایسی جنگ مسلط کر رکھی تھی ، جس میں عالمی جنگوں سے بھی زیادہ خونریزی ہو رہی تھی ۔ ایک طرف تیسری دنیا کے ممالک میں عوامی جمہوری قوتوں کو کچل دیا گیا تھا اور آمریت مسلط کر دی گئی تھی اور دوسری طرف غیر ریاستی دہشت گرد عناصر کے ذریعہ عوامی جمہوری قوتوں کے پنپنے کا راستہ مسدود کر دیا گیا تھا ۔ شہید رانی نے نہ صرف دو فوجی آمروں کا مقابلہ کیا بلکہ دہشت گردوںکو بھی للکارا ۔ انہوں نے اس خوف ناک عہدمیں نہ صرف جمہوری قوتوں کو یکجا کرکے ملک میں جمہوریت بحال کرائی بلکہ نوفسطائی قوتوں کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو بھی ناکام بنا دیا ۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے عوام کو جمہوری حقوق دلوائے بلکہ پاکستان کو ان خطرات سے نکالا ، جو اس کی سلامتی کو درپیش تھے ۔18اکتوبر2007ء کو شہید بی بی جب8سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو پورے پاکستان سے عوام کا سمندر کراچی میں امڈ آیا تھا ۔ اسی دن ہی عوام دشمن قوتوں نے دہشت گردی کی کارروائی کرکے شہید بی بی کو قتل کرنے کی کوشش کی ، جس کے بعد انہیں پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا تھا کہ عوام دشمن قوتیں ان کی زندگی کے درپے ہیں۔19اکتوبر 2007ء بلاول ہائوس میں پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ اس واقعہ کے بعد کیا وہ پاکستان میں مزید انتخابی مہم چلائیں گی تو شہید بی بی نے بلا جھجھک جواب دیا کہ ’’وہ لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ میں انتخابی مہم نہ چلاوں اور واپس بیرون ملک چلی جاوں ۔ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہ ہو لیکن اب اگر جمہوریت بحال نہ ہوئی تو پاکستان کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے ۔ میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہوں گی ۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ اپنے ہر جلسے میں ایک ہی بات کہہ رہی تھیں کہ ’’ ہمارا جینا اور مرنا عوام کے ساتھ ہے ۔ ہم دلائل پر بات کرنے والے لوگ ہیں ۔ ہمارے بھی نظریات ہیں اور جذبات ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے زندہ رہنا اور کیسے مرنا ہے ۔ ’’آخر27دسمبر2007کا وہ المناک دن بھی آیا ، جب شہید بی بی نے عوام کے درمیان ہی اپنی جان قربان کر دی ۔ اپنے بابا شہید بھٹو کی طرف سے اپنی سالگرہ پر دیا ہوا عوام کے ہاتھ کا تحفہ اپنی آخری سانس تک سنبھال کر رکھا ۔ آج ان کی سالگرہ پر یہ تحفہ ہر اس شخص کو سنبھال کر رکھنا ہے ، جو اپنی دھرتی اور اپنے عوام سے محبت میں شہید بی بی کا راستہ اختیار کر سکتے ہوں ۔ عوام کا ساتھ نہ چھوڑنے کا عزم ہی شہید بی بی کی سالگرہ کا تحفہ ہے ۔
==================================

=====================================


شہید بی بی کی سالگرہ پر بہترین تحفہ !
شرجیل انعام میمن
21 جون ، 2023
وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ ، حکومت سندھ
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی آج 70ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے ۔ 27دسمبر 2007ء کو ان کی شہادت کے بعد یہ ان کی 15 ویں سالگرہ ہے ، جو ہم ان کے بغیر منا رہے ہیں ۔ جب وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوئیں تو ان کی عمر صرف 54سال تھی ۔ انہوں نے اپنی زندگی اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے قربان کر دی ۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں یہ تحفہ دے سکتے ہیں کہ ہم بھی اپنی زندگیاں اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے وقف کر دیں۔
آج سے 45 سال قبل 21جون 1978 ء کو ، جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی25 ویں سالگرہ تھی ، ان کے عظیم والد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سینٹرل جیل راولپنڈی سے انہیں ایک خط لکھا تھا ۔ اس وقت شہید بی بی بھی خود جیل میں تھیں ۔ یہ ایک طویل خط تھا ، جو ’’ میری سب سے پیاری بیٹی ‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا ۔ اس خط میں شہید بھٹو نے اپنی سب سے پیاری بیٹی کو لکھا کہ ’’میں ایک سزا یافتہ قیدی کس طرح اپنی خوبصورت اور ذہین بیٹی کو اس کے یوم پیدائش پر مبارک باد کا خط لکھ سکتا ہے جبکہ اس کی بیٹی خود بھی قید میں ہے اور یہ جانتی ہے کہ اس کی والدہ بھی اس طرح کی تکلیف میں مبتلا ہے اور اپنے پاپا کی جان بچانے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے ۔ یہ خط رابطے سے زیادہ بڑا معاملہ ہے ۔ محبت اور ہمدردی کا پیغام کس طرح ایک جیل سے دوسری جیل اور ایک زنجیر سے دوسری زنجیر تک پہنچ سکتا ہے۔ میں تمہیں صرف ایک پیغام دیتا ہوں ۔ یہ پیغام آنے والے دن کا پیغام ہے اور تاریخ کا پیغام ہے ۔ صرف عوام پر یقین کرو اور ان کی نجات اور مساوات کے لیے کام کرو ۔ یہ اللہ تعالی کا پیغام ہے کہ صرف عوام پر یقین کرو ۔ اللہ تعالی کی جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے اور سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے ۔ میں اس جیل کی کوٹھڑی سے تمہیں کیا تحفہ دے سکتا ہوں ، جس میں سے میں اپنا ہاتھ بھی نہیں نکال سکتا ۔ میں تمہیں عوام کے ہاتھ کا تحفہ دیتا ہوں ۔ میں تمہارے لیے کیا تقریب منعقد کر سکتا ہوں ۔ میں تمہیں ایک مشہور نام اور ایک مشہور یادداشت کی تقریب کا تحفہ دیتا ہوں ۔ تم وادی سندھ کی سب سے قدیم تہذیب کی وارث ہو ۔ اس قدیم تہذیب کو انتہائی ترقی یافتہ اور انتہائی طاقتور بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرو ۔ ’’21جون 1978 ء کو عظیم بھٹو نے اپنی سب سے پیاری بیٹی کو تحفے میں عوام کا ہاتھ دیا اور شہید بی بی نے نہ صرف مرتے دم تک عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ عوام سے اپنا رشتہ نبھانے کے لیے اپنی سب سے بڑی متاع اپنی زندگی قربان کر دی ۔ اپنے والد کی شہادت کے چند سال بعد اٹلی کی معروف خاتون صحافی اوریانا فلاسی کو ایک انٹرویو میں شہید بی بی نے کہا کہ ’’پاکستان کی سیاست میں بہت آزمائشیں ، دکھ اور تکالیف ہیں ۔ مجھے میرے خاندان کے

کئی لوگوں نے کہا کہ میں سیاست چھوڑ دوں اور مغرب کے کسی ملک میں شاہانہ زندگی گزاروں کیونکہ میرے پاس سب کچھ ہے ۔ لیکن میں اپنے وطن اور اپنے عوام سے رشتہ توڑ کر ایسی زندگی سے کس طرح لطف اندوز ہو سکتی ہوں ۔ ’’پھر دنیا نے دیکھا کہ شہید بی بی نے اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے ساتھ یہ رشتہ کس طرح نبھایا ۔ وہ ایک شاہی خاندان میں سونے کا چمچہ لے کر پید اہوئی تھیں ۔ وہ اس قدر نرم اور حساس دل کی تھیں کہ کسی کا دکھ برداشت نہیں کر سکتی تھیں ۔ موت کی کال کوٹھڑی سے لکھے گئے اسی خط میں شہید
بھٹو نے اپنی سب سے پیاری بیٹی شہید بی بی بچپن کا ایک واقعہ لکھا ہے ۔ وہ اپنی بیٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ 1957 کے موسم سرما میں جب تم چار سال کی تھیں تو ہم ’’ المرتضیٰ ‘‘ کے بلند چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ صبح کے وقت موسم بہت خوشگوار تھا ۔ میرے ہاتھ میں دو نالی بندوق تھی ۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے ایک جنگلی طوطا مار گرایا ۔ جب طوطا چبوترے کے قریب آکر گرا تو تم نے چیخ ماری ۔ تم نے اسے اپنی موجودگی میں دفن کرایا ۔ تم برابر چیختی رہیں اور تم نے کھانا کھانے سے بھی انکار کر دیا ۔ ’’ایک پرندے کی موت پر اس قدر رونے والی لڑکی نے تاریخ میں نہ صرف دو فوجی آمریتوں کا مقابلہ کیا بلکہ بندوق بردار دہشت گردوں کو بھی للکارا ، جنہیں اندرونی اور بیرونی طاقتوں کی سرپرستی حاصل تھی ۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو 25 سال کی عمر سے 54سال کی عمر تک پاکستان جیسے ملک میں سیاست کی ، جو سیاست کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک تھا ۔ ان کی 29 سالہ سیاسی زندگی کا یہ عرصہ ویسے تو پوری دنیا خصوصاً تیسری دنیا میں عوامی سیاست کرنے والوں کے لیے انتہائی بدترین دور تھا ۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تھا ۔ دنیا بھر میں قومی آزادی کی تحریکوں کے ساتھ ساتھ جمہوری تحریکیں کمزور ہو گئی تھیں ۔ اسی دوران سرد جنگ کے عہد کا خاتمہ ہوا اور امریکا دنیا کی واحد سپر طاقت بن گیا ، جس نے دنیا پر ’’ نیو ورلڈ آرڈر ‘‘ نافذ کیا ۔ اس نیو ورلڈ آرڈر میں غیر ریاستی عناصر خصوصا ًدہشت گرد تنظیمیں عالمی سیاست کے ضابطے وضع کر رہی تھیں ۔ ان دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ تیسری دنیا میں عوام دوست ، روشن خیال اور جمہوریت پسند قوتوں کو کچل کر رکھ دیا گیا ۔ تیسری دنیا کے کئی ملکوں میں مقبول عوامی قیادت اور ان کی سیاسی جماعتوں کو ختم کر دیا گیا ۔ اسی عرصے میں پاکستان کے سیاسی حالات دنیا میں سب سے بدتر تھے کیونکہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے پاکستان کو عالمی طاقتوں کے گریٹ گیم میں جھونک دیا تھا ۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان حالات میں ظلم کی طویل ترین رات کی دہشت کا فولادی اعصاب کے ساتھ بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ انہوں نے نہ صرف شہید بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کو تاریخ کے بدترین ابتلاء کے دور میں قائم رکھا بلکہ ملک میں جمہوریت بھی بحال کرائی ۔جب 18 اکتوبر 2007 ء کو شہید بی بی 8 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آ رہی تھیں تو انہیں دیگر ملکوں کے حکمرانوں اور اپنے ملک کے کئی باخبر لوگوں نے کہا کہ وہ پاکستان واپس نہ جائیں کیونکہ ان کے قتل کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ میں پاکستان ضرور واپس جائوں گی ۔ میں اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی ۔ میں اپنے ملک کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ’’ ہم دلائل پر بات کرنے والے مرد اور عورتیں ہیں ، ہمارے بھی نظریات ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیسے زندہ رہنا اور کیسے مرنا ہے ۔ تاریخ شہیدوں سے عبارت ہے ۔ تاریخ کا تانا بانا انقلاب کے دھاگوں سے بنا جاتا ہے ۔ ہم نے اپنی زندگیاں ، اپنی آزادی ، اپنی جوانی اور اپنا ذہنی سکون جمہوریت کے لیے قربان کر دیا ہے ۔’’ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنے آخری جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ ہمارا جینا اور مرنا عوام کے ساتھ ہے‘‘ اس خطاب کے بعد عوام کی موجودگی میں ہی دہشت گردوں نے انہیں شہید کر دیا ۔ اس طرح عوام کا ہاتھ تھامے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے باپ کے اس تحفے کو سنبھال کر رکھا ، جو شہید بھٹو نے ایک خط کے ذریعہ ان کی 25 ویں سالگرہ پر دیا تھا ۔ آج ہم ان کی 70 ویں سالگرہ پر یہ عہد کریں کہ ہم بھی عوام کا ہاتھ تھامے رہیں اور اپنی دھرتی اور اپنے عوام کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں ۔ یہی شہید بی بی کی سالگرہ پر ان کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے ۔
===============================

===========================

21 جون: تاریخ کی نئی تفہیم کا دن
شرمیلا فاروقی
21 جون ، 2022
21 جون شہید محترمہ بے نظیر کا یوم پیدائش ہے۔ اس حوالے سے کرشن چندر کا افسانہ ’’بالکونی‘‘ یاد آر ہا ہے ۔افسانے کا مرکزی کردارگلمرگ کے ہوٹل ’’فردوس ’’میں رہائش پذیر ہے ۔ اسکے کمرے کی بالکونی سے غروب آفتاب کا نظارہ بہت دلکش ہوتا ہے ۔ اس لئے غیر ملکی سیاحوں سمیت ہوٹل میں رہائش پذیر زیادہ ترلوگ اسی کمرے کی بالکونی میں آکر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ یہ وہ عہد ہے، جب عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنے ہی تضادات کی بھینٹ چڑھ رہا ہے اور دنیا ’’جنگ عظیم ’’کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے ۔ اجتماعی عالمی شعور صورت حال کا مکمل ادراک کر چکا ہے اور وہ انقلابات برپا کرنے کیلئے تاریخ فہمی کی تمام ضروری منزلیں طے کر چکا ہے ۔ اس کمرے کے اوپر والے کمرے میں ایک عمر رسیدہ اطالوی اپنی بیٹی ’’میریا ’’کے ساتھ رہتا ہے ۔ وہ دونوں بھی اس بالکونی میں آکر بیٹھتے ہیں ۔ میریا ہمیشہ اداس اور غم زدہ رہتی ہے ۔ بالکونی میں بیٹھے ہوئے ایک دن افسانے کا مرکزی کردار میریا سے دریافت کرتا ہے کہ جنگ عظیم کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے ۔ وہ کہنے لگی ’’جنگ … جنگ … تم بہت اچھے ہو … جنگ بہت بری شے ہے ۔ میں ایک عورت ہوں ۔ میں آدمی کی محبت کو سمجھ سکتی ہوں ، اس کے قاتلانہ جذبے کو نہیں سمجھ سکتی ۔ کشت و خون کیوں ہوتا ہے ؟ اس وقت میرا فوجی بھائی قیدی ہے ۔ ’’اس کی آنکھیں نم ناک ہو جاتی ہیں ۔
افسانے کا مرکزی کردار کہتا ہے کہ ’’معاف کرنا ، یہ جنگ تمہارے فسطائیوں نے شروع کی ہے ۔ ’’وہ بولی ’’میں فسطائی نہیں ہوں ۔ نہ ہی میرا بھائی فسطائی تھا ۔ میرا باپ چھڑیاں بناتا ہے اور رات کو کنسر ٹینا (concertina) پر گانا پسند کرتا ہے ۔ مجھے پیانو سے عشق ہے ۔ میں نے کبھی سیاست کے متعلق نہیں سوچا ۔ مجھے فسطائیت قطعاً پسند نہیں ۔ جب میں پیدا ہوئی تو عہد نامہ ورسائی پر دستخط ہو چکے تھے اور میں ہندوستان میں تھی۔ مجھے مسولینی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ اس نے تو میرا پیانو سکھانا بھی بند کر دیا ہے ’’اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں آخر وہ یہ بات بھی کہہ دیتی ہے کہ ’’دراصل یہ ہماری غلطی تھی ۔ ہم خوشی کے راگ الاپتے رہے ۔ کنسرٹینا بجاتے رہے ۔ ہم سیاست سے بے بہرہ رہے اور

ہم نے فسطائیوں کو من مانی کارروائیاں کرنے کا موقع دیا ‘‘کرشن چندر کے افسانوی کردار ’’میریا ’’نے سیاست سے لاتعلقی اور فسطائیوں کو من مانی کارروائیاں کرنے کا موقع فراہم کرنے کی جس غلطی کا اعتراف کیا ، اس غلطی کا تاریخ میں ازالہ 21 جون 1953 کو جنم لینے والی بے نظیر بھٹو نے کر دیا ۔ انہوں نے بتا دیا کہ عورت مسلط کردہ جنگوں پر صرف آنسو نہیں بہاتی بلکہ وہ لڑ بھی سکتی ہے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک ایسے عہد میں سیاست کی، جس میں ’’نو فسطائی ’’( نیو فاشسٹ) قوتوں نے ایک جنگ مسلط کر رکھی تھی ۔ پہلی دو عالمی جنگوں کی طرح اس جنگ میں دو فریقین آپس میں نہیں لڑ رہے تھے بلکہ ایک ہی فریق نے یکطرفہ جنگ مسلط کر رکھی تھی اور عالمی جنگوں سے زیادہ پوری دنیا میں خونریزی ہو رہی تھی ۔ پاکستان اس یکطرفہ جنگ کا حقیقی میدان بنا ہوا تھا۔ پاکستان میں سیاست کرنا اور عوام کے جمہوری حقوق کی بات کرنا زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا ۔ کرشن چندر کی ’’میریا ’’اپنے عہد کا ایک باشعور کردار ہے اور اسکا یہ کہنا درست ہے کہ سیاست سے لاتعلقی ایک جرم ہے کیونکہ فسطائیوں کو اپنی من مانی کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن اگر کرشن چندر جیسے انتہائی دانش مند ادیب کو یہ علم ہوتا کہ نو فسطائی عہد میں سیاست سے تعلق کی بینظیر بھٹو نے ناقابل یقین قیمت ادا کی ہے تو شاید بالکونی میں ہونے والی گفتگو میں ایک انتہائی خطر ناک عہد میں عورت کے بہادرانہ کردار کی وہ تفہیم بھی ہو جاتی ، جو اب تک نہیں ہو سکی ۔ 18 اور 19 اکتوبر 2007 کی درمیانی شب محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبالی فافلے پر دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے میں ہونیوالے قتل عام اور خونریزی کے بعد 19اکتوبر کی شام کو بلاول ہائوس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پریس کانفرنس منعقد ہوئی ۔ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اس خون آشام واقعہ کے بعد کیا وہ پاکستان میں رہیں گی اور کیا وہ اپنی انتخابی مہم جاری رکھیں گی؟ تو انہوں نے تھوڑے توقف کے بعد انتہائی مضبوط لہجے میں کہا کہ ’’میں پاکستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑوں گی ۔ میں میدان خالی نہیں چھوڑوں گی۔ میں جمہوریت دشمنوں ، دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو یہ موقع نہیں دوں گی کہ وہ اپنی مرضی اور اپنا ایجنڈا ہم پر مسلط کریں ۔‘‘ محترمہ بے نظیر بھٹو نے میدان میں رہ کر اپنی جان قربان کر دی اور سیاست سے لاتعلق رہنے والے بے شمار لوگوں کی غلطیوں کا ازالہ کیا ۔ اپنی اس قربانی سے انہوں نے نو فسطائی قوتوں کے پاکستان کیلئے ایجنڈے پر عملدرآمد میں رکاوٹ پیدا کر دی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے یہ تعلق اسلئے بھی نبھایا کہ 21 جون 1978 ء کو موت کی کال کوٹھڑی سے انکے والد ذوالفقار علی بھٹو نے انکی 25 ویں سالگرہ پر انہیں جو خط لکھا تھا ، اس میں انہوں نے اپنی بیٹی کو سالگرہ کے تحفے میں عوام کا ہاتھ دیا تھا ۔ آج پھر محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ’’میریا ’’کی طرح اگرچہ فسطائیت کے مخالف ہیں لیکن وہ حالات درست ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ دہشت گردی کیخلاف پاکستان میں جو جنگ شروع ہوئی ہے ، وہ فیصلہ کن ہو گی اور اس سے حالات بہتر ہوجائینگے ۔ یہ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں کہ عوام کی جنگ کوئی اور لڑے گا ۔
21 جون کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے 70 ویں یوم ولادت پر آج کے کسی کرشن چندر کو ’’بالکونی‘‘ میں کوئی ایسا کردار بھی لانا ہو گا ،جو اقبال کا ’’بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ’’والا کلام گا سکے ۔
========================


یہ رحم دلی اور یہ بہادری
تحریر : شرجیل انعام میمن
21 جون ، 2022
وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ سندھ
آج محترمہ بے نظیر بھٹو کا 69واں یوم ولادت ہے ۔ وہ کس قدر رحم دل تھیں اور پھر کس قدر انہوں نے بہادری کے ساتھ ظلم، استبداد ، مصائب اور مشکلات کا مقابلہ کیا ، آج کا دن اس حقیقت کا ادراک کرنے کا دن ہے ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں موت کی کال کوٹھڑی میں بیٹھ کر اپنی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک خط لکھا تھا ، جو ’’میری سب سے پیاری بیٹی‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے ۔ اس خط میں شہید بھٹو اپنی بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’1957ء کے موسم سرما میں جب تم چار سال کی تھیں تو ہم ’’المرتضیٰ‘‘ کے بلند چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ صبح کے وقت بڑا خوشگوار تھا ۔ میرے ہاتھ میں دو نالی بندوق تھی ۔ ایک بیرل 22 اور دوسرا 480 کا تھا ۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے ایک جنگلی طوطا مار گرایا ۔ جب طوطا چبوترے کے قریب آکر گرا تو تم نے چیخ ماری ۔ تم نے اسے اپنی موجودگی میں دفن کرایا ۔ تم برابر چیختی رہیں ۔ تم نے کھانا کھانے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔ ایک مردہ طوطے نے 1957ء کے موسم سرما میں لاڑکانہ میں ایک چھوٹی سی لڑکی کو دلا دیا تھا ۔ 21سال بعد وہ چھوٹی سی لڑکی ایک نوجوان لڑکی بن گئی ہے ، جس کے اعصاب فولادی ہیں اور جو ظلم کی طویل ترین رات میں دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے ۔‘‘
ایک پرندے کی موت پر ماتم کرنے والی انتہائی رحم دل لڑکی نے تاریخ میں بہادری کی وہ مثالیں قائم کیں ، جو شاید کبھی کوئی کر سکے گا۔ اسی لڑکی نے دو فوجی آمروں کا مقابلہ کیا۔ اسی لڑکی نے ان دہشت گردوں کو للکارا، جن کی پشت پناہی عالمی طاقتیں اور پاکستان میں ان کے کارندے کر رہے تھے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جب سیاست کا آغاز کیا تو دنیا بھرمیں سیاسی قوتوں کے لئے تاریخ کے سب سے مشکل وقت کا آغاز ہوچکا تھا۔ یہ وقت ذوالفقار علی بھٹو کے عہد سیاست سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ 3 اپریل 1979 ء کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ اپنے والد سے آخری ملاقات کر رہی تھیں تو دنیا میں سرد جنگ کا عہد اپنے خاتمے کی طرف تیزی سے رواں دواں تھا۔ سلاخوں کے ایک طرف زمین پر ذوالفقار علی بھٹو بیٹھے ہوئے تھے، جنہیں کچھ گھنٹوں کے بعد تختہ دار پر لٹکایا جانے والا تھا۔ دوسری طرف شہید بی بی اور ان کی والدہ تھیں۔ دونوں طرف جو کرب اور درد کا احساس تھا، وہ صدیوں تک بھی المیہ شاعری اور درد ناک نغموں میں بیان ہوتا رہے گا۔ شہید بھٹو نے اپنی اہلیہ اور سب سے پیاری بیٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’تم دونوں نے بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔ وہ آج مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں۔ میں تمہیں تمہاری مرضی پر چھوڑتا ہوں۔ اگر چاہو تو پاکستان سے اس وقت تک باہر چلے جاو ، جب تک آئین معطل ہے اور مارشل لاء نافذ ہے ۔ اگر تمہیں ذہنی سکون چاہئے تو اور زندگی نئے سرے سے گزارنا چاہتی ہو تو یورپ چلی جاؤ۔ میری طرف سے اجازت ہے ۔ ’’بیگم نصرت بھٹو جواب دیتی ہیں‘‘ نہیں نہیں ۔ ہم نہیں جاسکتے۔ ہم کبھی نہیں جائیں گے ۔

جرنیلوں کو کبھی یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت چکے ہیں۔ ’’شہید بھٹو پھر اپنی بیٹی بے نظیر سے مخاطب ہوتے ہیں‘‘ اور تم پنکی! ’’شہید بی بی کہتی ہیں‘‘ میں کبھی نہیں جا سکتی۔ ’’اسی لمحے سپرنٹنڈنٹ جیل پکارتا ہے‘‘ وقت ختم ہو چکا ہے ’’یہی سے تاریخ میں بہادری کی ایک اور داستان رقم ہوتی ہے۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جب اپنی والدہ سے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی تو سرد جنگ کے عہد کا خاتمہ ہو چکا تھا ۔ دنیا میں یونی پولر سسٹم رائج ہو گیا تھا ۔ امریکا دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا تھا ۔ کچھ عرصے بعد سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا ۔ تیسری دنیا میں عوام دوست ، ترقی پسند اور اعتدال پسند سیاسی قوتوں کے لیے بہت مشکل وقت شروع ہو گیا ۔ دنیا بھر میں جمہوری تحریکیں کمز ور ہو گئیں ۔ نو آبادیاتی تسلط کے خلاف آزادی کی تحریکیں بھی کمزور پڑ گئیں ۔ سوشلسٹ انٹرنیشنل کا بھی وہ کردار نہیں رہا ۔ دنیا بھر کی عوام دوست سیاسی قوتوں کے درمیان روابط بھی کمزور ہو گئے اور وہ اپنے اپنے ملکوں میں تازہ دم آمرانہ اور سامراجی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اکیلی رہ گئیں ۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ حکومت کے ظلم و استبداد کا اس لئے بھی زیادہ مقابلہ کرنا پڑا کہ پاکستان خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا تھا ۔پاکستان کے حکمرانوں نے افغانستان میں عالمی طاقتوں کی جنگ میں پورے ملک کو جھونک دیا تھا ۔ عوام دوست سیاسی قوتوں کے لئے جتنے مشکل حالات پاکستان میں تھے ، شاید تیسری دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوں گے ۔ اس کے باوجود شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا اور تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کے پلیٹ فارم سے پاکستانی قوم کو منظم کیا ۔ اسی دوران تیسری دنیا کی سیاست میں دہشت گردی کا عنصر شامل ہوا اور دہشت گردوں نے ’’غیرریاستی قوت‘‘ کے طور پر عوام دوست اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور انہیں نقصان پہنچایا ۔


Waqas Malik

یہ وہ عہد تھا ، جس میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کی دیگر رہنماوں اور کارکنوں نے جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا ۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ بہت سے کارکنوں نے اپنی پیٹھ پر کوڑے کھائے اور کچھ کارکن تو پھانسی کے پھندوں پر جھول گئے ۔ یہ خوف و دہشت کا دور تھا ۔ شہید بی بی نے اس دور سے پاکستان کو نکالا اور کٹھن جدوجہد کے بعد ملک میں جمہوریت بحال کرائی ۔ لیکن یہ جمہوری وقفہ زیادہ دیر نہ رہا ۔ اس میں بھی تین جمہوری حکومتوں کو برطرف کیا گیا اور چوتھی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ایک جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ پرویز مشرف کا دور عوام دوست اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کے لئے جنرل ضیاء کے دور سے بھی زیادہ مشکل ہوگیا۔ پاکستان کو ایک بار پھر افغانستان میں لڑی جانے والی عالمی طاقتوں کی جنگ کا ایندھن بنا دیا گیا ۔ اب سیاست کو غیر ریاستی قوتیں یعنی دہشت گرد ہی کنٹرول کرتے تھے اور دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک نیا ضابطہ نافذ کر دیا گیا، جس میں دہشت گرد ہی فیصلہ کن کردار تھے۔ تیسری دنیا خصوصا پاکستان میں عوامی سیاست کرنا رسک بن گیا ۔ پاکستان کے حکمران دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے عوام دوست اور ترقی پسند قوتوں کو کچلنے میں مصروف تھے اور دہشت گرد اس کام میں ان کے معاون تھے ۔ ان حالات میں بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا اور عوام کے جمہوری حقوق کی جدوجہد میں قیادت کی ۔ وہ جانتی تھیں کہ ملکی اور بین الاقوامی طاقتیں یہ سب برداشت نہیں کریں گی اور دہشت گردوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر ان کو نشانہ بنائیں گی ۔ انہوں نے 18 اکتوبر 2007 ء کو وطن واپسی سے پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے ۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کر دی تھی کہ انہیں کن لوگوں سے خطرہ ہے ۔ پھر بھی وہ پاکستان آئیں ۔ ایک حملہ ان پر 18 اکتوبر کو ہوا ۔ اس کے باوجود بھی انہوں نے عوام سے اپنی رابطہ مہم جاری رکھی۔ 27دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میرا جینا اور مرنا عوام کے ساتھ ہے۔‘‘ اور پھر بہادری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے عوام کے درمیان ہی اپنی زندگی قربان کر دی ۔ ایک پرندے کی موت پر رونے والی ایک نہتی لڑکی نے آمروں ، دہشت گردوں اور سامراجی قوتوں کا جس قدر مقابلہ کیا ، تاریخ کو ہمیشہ اس پر فخر رہے گا۔
=====================

محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت،سیاسی میراث اور جدوجہد!
ملک شاہد نذیر ایڈووکیٹ
21 جون ، 2023
(ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پیپلزیوتھ وسطی پنجاب)
اگر کسی نے اپنے غم و مصائب کو طاقت میں بدلنا ہو تو وہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی زندگی کا مطالعہ کر لے!
ایک انسان اتنا مضبوط کیونکر ہو سکتا ہے؟ وہ کیا ایسی روحانی ایسی اخلاقی ایسی معاشرتی اور مافوق الفطرت چیز تھی بی بی کے ذہن میں جس نے انکو اتنی مضبوط اعصابی قوت بخشی؟ ہم جب انکا روشن چمکتا ہوا چہرہ دیکھتے ہیں انکو سنتے ہیں تو اندازہ ہی نہیں لگا سکتے کہ اس خاتون نے اپنے عظیم باپ کو پھانسی کے بعد دفن ہوتا بھی نہیں دیکھا اور اپنے بھائیوں کی لاشوں کو اپنے سامنے بے بسی سے پڑے دیکھا ہو گا،اس قدر طمانیت و سکون میں نے انسانی تاریخ میں کبھی نہیں پڑھا کبھی نہیں سنا!شہید محترمہ بینظیر بھٹو کون تھیں؟؟
ایک ایسی لڑکی جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی،جس نے ابتدائی تعلیم مایہ ناز اداروں سے حاصل کی اور جو آکسفورڈ میں جب پڑھ رہیں تھیں تو محض قابلیت سے بھرپور طالبہ ہی نہیں تھیں بلکہ طلبا یونین کی ایشیاء کی پہلی خاتون صدر بھی منتخب ہوئیں تو انکی قائدانہ صلاحیتیں آشکار ہوئیں،جو تعلیم حاصل کر کے لوٹیں تو اپنے عظیم باپ کو دنیا کی سربراہی کرتے دیکھا،اور پھر جلد ہی ریاستی غیر آئینی عناصر کی جانب سے اپنے باپ کو وزیراعظم ہاؤس سے نظربندی کی جانب اور اپنے خاندان کو زیر عتاب ہوتے مشاہدہ کیا حتیٰ کہ غیرانسانی مظالم،حقارت اور بدنیتی کو محسوس کیا مگر کمال ہے اس چوبیس/پچیس سالہ لڑکی کا عزم اتنا بلند تھا کہ ہر چیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باپ کی پنکی نے باپ سے عوام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پھر سکھر جیل کی پچاس ڈگری کی گرمی اور جواں سال بھائی کی موت بھی اسے نا پگھلا سکی!

جلاوطنی سے لے کر وطن واپسی تک کا صبر آزما دورانیہ اور پھر قوم کا والہانہ استقبال انکے عزم کو مزید جِلا بخش گیا،آمریت کے سیاسی تابوت میں آخری کیل تو ٹھونک دیا مگر ایک اور دریا کا سامنا تھا ایسا دریا جو کردار کشی اور الزام تراشیوں سے بھرپور تھا جس میں مذہب کا چورن نمایاں تھامگر بھٹو کی جمہوریت کی شہزادی نے ان سب کا مدلل اور جراٗت مندانہ مقابلہ بھی کیا اور خبردار بھی جا بجا کیا کہ وقت سب کاانتقام لے گا آج میرے ساتھ کررہے ہو کل کو خود بھگتو گے،شوہر کی جدائی کو سہہ کر اپنے بچوں کی تربیت کیلئے جلاوطنی اختیار تو کر لی مگر کارکنان سے غفلت ہرگزنابرتی،ایک اور آمریت کے مسلط ہونے کے باوجود 2002 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں!‘‘
بالآخر زندگی کی آخری جلاوطنی کا دور بھی اختتام کو پہنچا تو 2007 اکیسویں صدی کے ابتدائی دور نے دیکھا کہ جمہور کی دیوی کے استقبال کیلئے لاکھوں لوگ اُمڈ آئے،شہید رانی اس والہانہ عوامی محبت کا مشاہدہ کر کے آبدیدہ ہو گئیں اور عوامی خدمت کا عزم لئے بہبود و فلاح کے نئے منصوبوں سے لیس ہو کر عوام میں آنے کا سوچ ہی رہیں تھیں کہ “کارساز” کے مقام پہ آمریت نے سامراج نے بم دھماکوں سے خواب توڑنے کی ناکام کوشش کی مگر وہ تو بہادری کا مجسمہ تھی ڈرنے والی کہاں تھی۔
چنانچہ ایک نئے مزید ولولے کے ساتھ اگلے ہی دن کارکنان کے درمیان جا پہنچیں اور پھر ملک بھر کے ایسے طوفانی دورے کئے کہ آمرِ وقت کو جان کے لالے پڑ گئے،کبھی خودکش دھماکوں کا ڈر تو کبھی نظربندی مگر جمہور کی دیوی ہر دفعہ ایک نئے جوش کے ساتھ ان عوام دشمن قوتوں کو للکارتی آگے بڑھتی گئی۔
مجھے شہید بی بی کا وہ لمحہ آج تک سورج کی روشنی کی طرح یاد ہے جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی کم مارشل لاء لگایا تو شہید رانی اُسی رات دبئی سے واپس لوٹیں
ائیرپورٹ سے باہر آنے ولا انکا وہ بہادرانہ انداز آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے
آہ…وہ شام وہ سال 2007 کی آخری ایام کی شام جب ریاستی آمرانہ عناصر نے اس جمہور کی دیوی کو جسمانی طور پہ ختم کرنے کا ناپاک منصوبہ تکمیل کو پہنچایا تو ملک سوگ میں ڈوب گیا ہم سیاسی طور پہ یتیم ہو گئے کہ اب نا کسی بینظیر نے آنا ہے نا ہی ہم کارکنان کو وہ سایہ شفقت نصیب ہونا ہے جسکی چھاؤں میں سیاسی کارکنان کی پرورش ہوا کرتی تھی جو کارکنان کو بلاامتیاز جانچا کرتیں تھیں۔۔۔!!

=============================


https://e.jang.com.pk/karachi/21-06-2024/pic/b01.jpg
=========================


میرے خون کا سورج چمکے گا

ڈاکٹرخالد جاوید جان

یوں تو پاکستان کی تاریخ ڈکٹیٹر وں کے مظالم اور ان کے فیصلوں کے خوفناک نتائج سے بھری پڑی ہے جس میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ بھی شامل ہے لیکن یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ سفاک ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا جب جمہوریت اور انسانی حقوق کے مطالبے پر قیدو بند ، کوڑے اور پھانسیوں کی سزائیں معمول کا حصّہ تھیں بلکہ بیسویں صدی میں شاید پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا جہاں سرِ عام کوڑے مارے جاتے تھے اور مائیک کوڑے کھانے والے کے منہ کے آگے رکھ دیا جاتا تھا تاکہ ان کی چیخیں سن کر عوام خوف اور دہشت سے سہم جائیں۔ ان تمام مظالم کا مقصد صرف ایک تھا کہ جمہوریت کی علامت ، عوام کے مقبول ترین رہنما اور پہلے منتخب وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی ردِّ عمل کو خوف میں تبدیل کردیا جائے۔ ایسے میں جب ایک عظیم لیڈر کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا تھا تو دوسری طرف ایک اور عظیم لیڈر کا جنم ہو رہا تھا جس کا نام تھا محترمہ بے نظیر بھٹو۔ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹوکے نظریات اور قربانیوں سے محبت کرنے والے محنت کش عوام نے محترمہ کو بھٹو کی تصویر قرار دے کر اپنی محبوب رہنما بنا لیاکیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ ایک سیاسی رہنما نے عوام اور جمہوریت کی خاطر جان کی قربانی دی تھی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوتے ہی اس کی نازو نعم میں پلی ہوئی 24 سالہ نوجوان بیٹی ، اس کے خون میں ڈوبے ہوئے پرچم کو لے کر مصائب کے پرکٹھن راستوں پر ایک طویل اور صبر آزما سفر پر روانہ ہو گئی، وہ محترمہ بیگم نصرت بھٹو کے بطن سے پیدا تو 21جون 1953کو ہوئیں لیکن ان کا سیاسی جنم 5جولائی 1977کو ہوا۔ وہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی لیڈر تھیں جنہوں نے خاتون ہونے کے باوجود اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک جابر فوجی ڈکٹیٹر کے دورِ ستم کا مقابلہ کرتے ہوئے کیا اور اس راستے میں وہ مصائب برداشت کئے جن کا آج کی نسل تصوّر بھی نہیں کر سکتی۔اس وقت کے ظالم حکمرانوں نے انہیں اور ان کی والدہ کو بھٹو شہید کے آخری دیدار سے بھی محروم رکھا، ان کے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو کو بیرونِ ملک شہید کر دیا گیا اور خود انہیں اور ان کی والدہ کو زیادہ عرصہ قید و بند اور جلا وطنی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ بعد میں ان کے دوسرے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو بھی دن دیہاڑے قتل کردیا گیا۔

10اپریل 1986ءکو اپنی پہلی جلا وطنی سے واپسی پر جب محترمہ بے نظیر بھٹو لاہور تشریف لائیں تو ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں جمہوریت پسندوں نے لاہور ایئرپورٹ سے لے کر مینارِ پاکستان تک ان کا ایسا فقیدالمثال استقبال کیا جس کی مثال پورے برّ صغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اپنی تقریر کے آخرمیں انہوں نے نظم ’’ میں باغی ہوں‘‘ پڑھی مگر کچھ اس طرح کہ اس نظم کا آخری بند انہوں نے سب سے پہلے پڑھا جس میں موت کا ذکر تھا اور پھر باقی نظم پڑھی شاید ان کے لاشعور میں یہ خیال یقین کی طرح سمایا ہوا تھا کہ ایک دن وہ بھی اپنے بابا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی جان اپنے عوام پر قربان کر دیں گی۔ وہ آخری بند یوں تھا،

میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے

میرے سر پر ظلم کا پھندا ہے

میں مرنے سے کب ڈرتی ہوں

میں موت کی خاطر زندہ ہوں

میرے خون کا سورج چمکے گا

تو بچہّ بچہّ بولے گا

میں باغی ہوں، میں باغی ہوں

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

اس کے کچھ عرصے کے بعد جنرل ضیاء ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے ۔ جنرل ضیاء کی موت کے بعد عوام کے شدید دبائو کے تحت انتخابات تو کروادیے گئے مگر اسٹیبلشمنٹ میں موجود اس وقت کی ضیاء باقیات نے محترمہ کا راستہ روکنے کے لئے سازشوں کے جال بچھا دیے ۔ آئی جے آئی کی تشکیل ، پیپلز پارٹی کے روایتی انتخابی نشان تلوار کی تنسیخ اور شناختی کارڈ کی پابندی جیسے کئی اقدامات کے ذریعے ان کی اکثریت کے سمندر کو ایک ندی میں محدود کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ آج تک عام انتخابات میں اس نے جو نشستیں حاصل کیں ۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود اپنے بل بوتے پر حاصل کیں۔ اپنے پہلے ڈیڑھ سالہ محدود اختیارات والے اقتدار کے دوران بھی محترمہ نے پاکستان میں ضیاء دو ر کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا، یونین سازی پر سے پابندیاں ہٹائیں ، خواتین کے لئے لیڈیز پولیس اسٹیشنز اور فرسٹ وومن بینک کا آغاز کیا اور بھٹو شہید کے ایٹمی پروگرام کی طرح پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے دفاعی لحاظ سے مضبوط بنایا۔ ان کے دونوں ادوار کو وقت سے پہلے ختم کردیا گیا لیکن جبر کی طاقتیں عوام کے دلوں سے محترمہ کی محبت نہ نکال سکیں۔ دوسری جلا وطنی سے وطن واپسی پر ان کے استقبالی جمِ غفیر کو آگ اور خون میں نہلا دیا گیا جس میں وہ تو معجزانہ طور پربچ گئیں لیکن سینکڑوں افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔ لیکن قاتلوں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور بالآخر 27دسمبر2007کو لیاقت باغ کے ایک جلسہ عام کے بعد انہیں شہید کردیا، وہ آج ہم میں نہیں مگر ان کے خون کے چمکتے ہوئے سورج نے آمریت کے اندھیروں میں روشنی کا جو شگاف ڈالا ہے، وہ ان کے فرزند بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک دن پوری آب و تاب سے ضرورچمکے گا۔ ان شاء ﷲ!
============================

بی بی شہید کی یاد، اعتراف اور احترام میں!
محمد سعید اظہر
آج 21؍جون 2017ء، بی بی شہید کی 64 ویں سالگرہ کا دن ہے، ان کی یاد، اعتراف اور احترام میں ایک گفتگو!
پہلے اعجاز رضوی مرحوم کی ایک نظم مطالعہ کرتے جائیں!
—oتیز پیجرو رُکے،
تو تیری ایک جھلک کے شیریں پل کو،
آنکھوں کی کالک میں گھولیں،
میلے کپڑوں والے بالک،
اِک دوجے کا ہاتھ پکڑ کے دوڑتے جائیں،
O
—oتیرے سنگ دریدہ دامن،
الجھے بالوں والی مائیں،
اور مناجاتوں میں ساری ساری رات گزارنے والی،
حیرت سے درو دیوار کو تکتی بہنیں،
غربت کے آزار نے جن کے خواب چرائے،
رحل پہ گریں بکھرتے جائیں،
اشکوں کی تسبیح کے دانے،
کب آئیں گے سمے سہانے!
—oہم جو تیرے شہنواز ہیں،
کوئی مہارت نامہ جن کے کام نہ آئی،
قسمت کی پتھریلی گھاٹی میں سارا دن،
بھاری پتھر توڑتے گزرے،
لیکن جوئے شیر نہ پھوٹے ،
حرماں کی زنجیر نہ ٹوٹے،
اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں، حرماں کی زنجیریں توڑنے کا جنہوں نے عَلم اٹھایا اور الم سے گزرتے، ایک وھبی کیفیت میں انہوں نے غربت کی تعریف متعین کرتے ہوئے کہا، ’’غربت کا مطلب یہ ہے کہ عین اس وقت جب بچے پروان چڑھنے لگیں، آپ کے بچوں کو آپ سے چھین لیا جائے، آپ کی بیوی کو جلد بوڑھا ہوتے دیکھنے اور آپ کی ماں کی پیٹھ کو زندگی کے بوجھ تلے جھکتا دیکھنے کا نام غربت ہے، کسی گستاخ افسر کے سامنے بے بس ہو جانے یا پھر کسی استحصال کنندہ اور دھوکے باز کے سامنے غیر مسلح کھڑے ہونے کا نام غربت ہے، ’’غربت‘‘ انصاف کے دروازوں پر گھنٹوں کھڑا رہنے اور پھر اندر جانے کی اجازت نہ ملنے کا نام ہے، یہ بھوک، مایوسی، سوگ اور بے اثری کا نام ہے جس میں کسی قسم کا حسن نہیں‘‘، کالم نگار خالد ایچ لودھی شکریے کے سزا وار ٹھہرتے ہیںان کی کاوش سے ذوالفقار علی بھٹو کے نایاب وژن کی ایک اور نایاب جھلک سامنے آئی!
تو بی بی شہید، ان ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں، یہ پاکستانی قوم کی روح کا ذبیحہ ہے جب اسے غربت کی اس تعریف کے آئینے میں بی بی شہید کا چہرہ بھی نظر آئے، وہ بی بی کو بچے گود میں لئے انصاف کے دروازوں پر گھنٹوں کھڑا دیکھیں، غربت کے بطن سے انسانی توہین کی پیدائش کے خلاف انہوں نے باپ کی جنگ آگے بڑھانے میں زندگی ہار دی،1990ء میں پاکستان کے عوام نے انہیں بطور وزیراعظم پاکستان منتخب کیا، اور 1990ء میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سہ رکنی مقتدرہ نے انہیں اپنی ذاتی ذہنی نقشدمی کی زنجیروں میں جکڑ دیا، یہ سہ رکنی مقتدرہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل پر مشتمل تھی۔
یہ محض ایک مثال ہے، ایک حصہ ان کی جدوجہد کے خلاف مزاحم قوتوں کے ذکر کا، حاصل کے طور پر وہ پیدائش سے شہادت تک، غربت یعنی انسانی توہین کے ہر چہرے پر حملہ آور رہیں، تاآنکہ شہادت سے سرفراز ہوئیں!
O

https://www.youtube.com/watch?v=qhOwo6g-qe8

یہ اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ کیا اس کا وژنری معیار ہے؟ خود بی بی نے اس کی مثال دیتے ہوئے ایک بار بتایا! ’’دوسری مدت اقتدار کے دوران مجھے سیکورٹی پر بریفنگ دینے کے لئے ایک بار پھر جنرل ہیڈ کوارٹرز میں مدعو کیا گیا۔ ڈائریکٹر ملٹری آپریشن میجر جنرل پرویز مشرف (جو بلا شبہ بعد میں چیف آف آرمی اسٹاف بنے اور اقتدار چھین کر صدر بنے) نے پہلے بریفنگ دی۔ مجھے یہ گھسا پٹا منظر محسوس ہوا کیونکہ ایک مرتبہ پھر میں نے یہ سنا کہ اگر میں احکامات جاری کر دوں تو پاکستان کس طرح سری نگر پر قبضہ کر سکتا ہے۔ مشرف نے اپنی بریفنگ ان الفاظ پر ختم کی، ’’فائر بندی ہو جائے گی اور پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر پر قبضہ ہو جائے گا‘‘۔ میں نے ان سے استفسار کیا اس کے بعد کیا ہو گا؟ وہ میرے سوال پر حیران ہوئے اور کہا کہ اس کے بعد ہم پاکستان کا جھنڈا سری نگر کی پارلیمنٹ پر لہرا دیں گے۔ پھر کیا ہو گا؟ میں نے جنرل سے پوچھا، اس کے بعد آپ اقوام متحدہ جائیں گی اور انہیں بتائیں گی کہ سری نگر اب پاکستان کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟ میں نے اصرار جاری رکھا، میں دیکھ سکتی تھی کہ جنرل مشرف اس قسم کے سخت سوالوں کے لئے تیار نہ تھے اور اس صورتحال سے گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا کہ اور ۔ اور آپ انہیں بتائیں گی کہ نئے جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کا نقشہ بدل دیں گے؟‘‘ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا جیسے وہ شخص کشمیر کو اس موجودہ خطہ ارضی سے علیحدہ کسی خلاکا کوئی جزیرہ سمجھ رہا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہرگز لازم نہیں کسی مسئلہ کا مطلوبہ ادراک بھی رکھتی ہو، اسی اسٹیبلشمنٹ نے بی بی شہید کی پوری زندگی انہیں پاکستان کی خدمت نہ کرنے دی مگر شکست کھائی، بدنام ہوئے، ناکام ٹھہرے کہ بی بی شہید نے پاکستان کی خدمت کر کے دکھائی، (عالم اسلام) کی ممتاز ترین شخصیت تسلیم کی گئیں، وہ بین الاقوامی استعارہ بنیں اور آج اسٹیبلشمنٹ کے ان کے کرداروں کے نام سے بھی کوئی آگاہ نہیں۔
یہ بی بی شہید کے پاسنگ بھی نہیں تھے، آپ پھانسی کی کوٹھڑی سے ذوالفقار علی بھٹو کے ایک سندیسے کی چند سطریں ملاحظہ کریں، یہ بات کرتے ہیں۔ ’’میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ کمزوریوں سے پُر ہے۔ میں بارہ مہینے سے قید تنہائی میں ہوں اور تین مہینے سے موت کی کوٹھڑی میں ہوں اور تمام سہولتوں سے محروم ہوں، میں نے اس خط کا کافی حصہ ناقابل برداشت گرمی میں اپنی رانوں پہ کاغذ رکھ کر لکھا ہے۔ میرے پاس حوالہ دینے کا کوئی مواد یا لائبریری نہیں ہے۔ میں نے نیلا آسمان بھی شاذونادر ہی دیکھا ہے۔ حوالہ جات ان چند کتابوں سے لئے گئے ہیں جن کو پڑھنے کی اجازت تھی اور ان اخبارات و رسائل سے لئے گئے ہیں جو تم یا تمہاری والدہ اس دم گھونٹنے والی کوٹھڑی میں مجھ سے ہفتہ میں ایک بار ملاقات کرنے کے وقت ساتھ لے کر آتی ہو، میں اپنی خامیوں کے لئے بہانے نہیں تراش رہا ہوں لیکن اس قسم کے جسمانی اور ذہنی حالات میں گرتی ہوئی یادداشت پر بھروسہ کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ میں پچاس سال کا ہوں اور تمہاری عمر مجھ سے نصف ہے۔ جس وقت تم میری عمر کو پہنچو گی تمہیں عوام کے لئے اس سے دگنی کامیابی حاصل کرنی چاہئے جس قدر کہ میں نے ان کے لئے حاصل کی ہے، یہ غلام مرتضیٰ جو میرا بیٹا اور وارث بھی ہے وہ میرے ساتھ نہیں ہے اور نہ ہی شاہنواز اور صنم میرے ساتھ ہیں۔ میرے ورثے کے حصے کے طور پر اس پیغام میں ان کو بھی شریک کیا جائے۔ امکانات تو بہت زیادہ ہیں، دائو پر بہت کچھ لگا ہوا ہے، میں آنے والی نسل کے لئے ٹینی سن کا مایوس کن لیکن اسی طرح سے آفاقی پیغام چھوڑتا ہوں کہ ’’50سال کی عمر میں میں کیسا ہو جائوں گا اگر قدرت نے مجھے زندہ رکھا جبکہ اس پچپن سال کی عمر میں دنیا کو اس قدر تلخ پاتا ہوں‘‘۔دونوں خطوط اپنے اپنے وقت کے تناظر میں دیکھیں، کیا اس حیرت زا فطانت و بصیرت کی شخصیت کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے وہ عناصر مرعوب و متاثر کر سکتے تھے جنہیں تاریخ سے کبھی اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی اجازت ہی نہیں دی؟ پاکستان کی ساری تاریخ میں نیکی کے آسیبوں اور سفید پوش طاقتوروں کی مقدس نفس پرستیوں کے ملبے تلے انسانیت روندی گئی، رسوا ہوئی، اس کی تدفین کر دی گئی، معلوم نہیں وہ لوگ کون ہیں جو ان قرضوں کی ادائیگی کی بات کرتے ہیں جو واجب الادا بھی نہیں ہیں۔ یہاں پاکستان میں تو صرف ایک قومی ذریت نے قرضے چکائے، اس کا نام ہے ’’بھٹو خاندان‘‘ بی بی کی یاد، اعتراف اور احترام ہے!

==========================
few videos -memories

https://www.youtube.com/watch?v=yyq6IAHTNBk