مری کے ہوٹلوں کا رویہ: کیا سیاحوں کے ساتھ سلوک میں بہتری آئی ہے یا پرانے شکایات ہی برقرار ہیں؟

ری، جو کہ پاکستان کا ایک مشہور ترین ہل اسٹیشن ہے، ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ لیکن گزشتہ برسوں میں سیاحوں کی جانب سے مری کے ہوٹلوں اور مقامی انتظامیہ کے رویے پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حالات بہتر ہوئے ہیں یا سیاحوں کو اب بھی وہی پرانی مشکلات کا سامنا ہے؟

کچھ مثبت تبدیلیاں نظر آئی ہیں:

سروس کا معیار: کچھ ہوٹلوں نے اپنے عملے کو تربیت دے کر سروس کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

انفراسٹرکچر: سڑکوں کی مرمت، فضلے کے انتظام اور وسائل کے تحفظ جیسے شعبوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔

سیاحوں کی رہنمائی: مقامی حکام نے ٹریفک کے بہتر انتظام اور واضح سائن بورڈز لگانے پر توجہ دی ہے۔

لیکن اب بھی مسائل موجود ہیں:

زیادہ قیمتیں وصول کرنا: کئی سیاحوں کا کہنا ہے کہ ہوٹلز اور ٹرانسپورٹ والے اب بھی زیادہ قیمتیں وصول کرتے ہیں۔

بدتمیزی کا رویہ: کچھ مسافروں کو ہوٹل کے عملے اور مقامی لوگوں کی جانب سے بدتمیزانہ سلوک کا سامنا ہے۔

انفراسٹرکچر کی کمی: سیاحوں کی کم آمدورفت والے علاقوں میں سہولیات کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

سیاحت اور مقامی ضروریات کا توازن: مری کے ثقافتی ورثے اور ماحول کو تحفظ دیتے ہوئے سیاحت کو بڑھانا ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

نتیجہ:
اگرچہ مری کے ہوٹلوں کے معیار اور سروس میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن یہ تبدیلی ہر جگہ یکساں نہیں ہے۔ سیاحوں کا تجربہ ہوٹل، موسم اور حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ کچھ ہوٹلز نے اپنے رویے اور سہولیات کو بہتر بنایا ہے، جبکہ کچھ میں اب بھی وہی پرانی شکایات موجود ہیں۔ لہٰذا، مری میں سیاحت کے دوران احتیاط اور تحقیق کرنا اب بھی ضروری ہے۔

کیا آپ کو مری کے ہوٹلوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نظر آئی ہے؟ اپنے تجربات کمنٹس میں شیئر کریں!