ایک کہاوت ایک کہانی – “ڈھور مَرے نہ کوٌا کھائے”

ایک کہاوت ایک کہانی
______

“ڈھور مَرے نہ کوٌا کھائے”
——————————-
ڈھور کا مطلب ہے، مویشی/چوپائے، گائے، بیل، بھینس، بکری وغیرہ
——————————-
معنی : فضول اُمید کی توقع پر کہتے ہیں –

——————————

تحریر : اطہر اقبال
——————————-

بچو! کسی جنگل کے قریب ایک بہت ہی خوب صورت گاؤں تھا، اس گاؤں میں جنگل سے کئی جانور اور پرندے بھی آیا کرتے تھے، کئی پرندوں نے گاؤں میں موجود درختوں پر اپنا گھونسلا بھی بنا لیا تھا جب کہ کئی پرندوں کی آپس میں دوستی بھی تھی –
ان ہی پرندوں میں ایک کوٌے اور کوئل کی بھی دوستی تھی، ہو سکتا ہے کہ آپ کوٌے اور کوئل کی دوستی کا سُن کر چونک بھی جائیں کیوں کہ کوے، کوئل سے دوستی نہیں کرتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئل، کوے کے گھونسلے میں موجود اس کے دیے ہوئے انڈے نیچے گرا کر خود اپنے انڈے دے جاتی ہے کیوں کہ کوئل اپنا گھونسلا نہیں بناتی اسی لیے جب کوے اپنے گھونسلے کے قریب کسی کوئل کو دیکھتے ہیں تو فوراً اس کا پیچھا کرنے لگ جاتے ہیں مگر جس کوئل کا وہ پیچھا کررہے ہوتے ہیں وہ دراصل نَر کوئل ہوتی ہے اور کوؤں کی اس غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مادہ کوئل کوٌے کے گھونسلے میں اپنے انڈے دے دیتی ہے –
اس کے باوجود بھی آپ جو یہ کہانی پڑھ رہے ہیں اس میں کوٌے اور کوئل کی دوستی کا تذکرہ ہے –
آپ جانتے ہی ہیں کہ کوٌا کالے رنگ کا ہوتا ہے مگر بعض برفانی علاقوں میں یہ سفید رنگ کا بھی ہوتا ہے مگر کوٌا چاہے کالا ہو یا گورا سب کی عادتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں-
کوٌے کی اتنی شہرت کے باوجود بھی کوئی اسے پالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے ساتھ ویسا بَرتاؤ کرتا ہے جیسا وہ اپنے پالتو پرندوں کے ساتھ کرتا ہے، کوٌا، لفظ مذکر ہے اور اس کا مؤنث کچھ نہیں –
کوئل سیاہ رنگ کا خوش آواز پرندہ ہے جو کوٌے سے چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کی دُم کوے کی طرح لمبی ہوتی ہے، کوئل اکثر آموں کے موسم اور برسات میں نظر آتی ہے، کوئل، لفظ بھی دل چسپ ہے کیوں کہ یہ ہمیشہ مؤنث بولا جاتا ہے اس کا مذکر کچھ نہیں، لیکن صرف نَر کوئل بولتی ہے جب کہ مادہ کوئل بے آواز ہے پھر بھی ہم یہی کہتے ہیں کہ کوئل بول رہی ہے یا کوئل کوک رہی ہے، نَر کوئل گہرے چمک دار نیلگوں کالے رنگ کی ہوتی ہے جس کی چونچ زَردی مائل سبز جب کہ آنکھیں سرخ ہوتی ہیں، کوٌے کے مقابلے میں کوئل کا جسم پتلا ہوتا ہے، مادہ کوئل کا رنگ بھی کالا ہوتا ہے لیکن اس پر ہلکے سفید رنگ کے دھبے یا لکیریں ہوتی ہیں –
ایک دن کوٌے نے جو ابھی عمر میں چھوٹا تھا کوئل سے کہا “میری خواہش ہے کہ میری آواز بھی تمھاری طرح خوب صورت ہو جائے اور میں بھی کائیں کائیں کی جگہ تمھاری طرح کُوکُو کروں-”
” یہ کیا بات ہوئی!! تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟ قدرت نے سب کو ایک علیحدہ پہچان اور آواز دی ہے -” کوئل نے کوے کی جانب گھورتے ہوئے دیکھ کر کہا –
” اس میں پاگل ہونے کی کی کیا بات ہے،میرے دل میں بس ایک خیال آیا تو میں نے تمھیں اپنا دوست سمجھتے ہوئے کہہ دیا -” اس بارکوٌے نے کوئل سے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا –
” تم بات ہی فضول کر رہے ہو – “کوئل نے کہا –
” میں تو بس اپنے خیال سے تمھیں آگاہ کر رہا تھا، تمھاری آواز بہت خوب صورت ہے اور مجھے بہت پسند ہے اس لیے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں بھی تمھاری ہی طرح بولتا، تم خواہ مخواہ مجھ پر غصہ کر رہی ہو-” کوے نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا –
” میں نے کوئی غلط بات نہیں کی، میں تو بہت سیدھی سادھی سی ہوں، تمھاری طرح ہوشیار اور چالاک نہیں – “کوئل نے درخت پر لگے کیلے کو کھاتے ہوئے کہا –
” کہاں کی سیدھی سادھی ، تم تو بڑی ہوشیار ہو ، اپنا گھونسلا بناتی نہیں اور اپنے انڈے ہم کوؤں کے گھونسلے میں دے دیتی ہو اور میری اتنی سی بات اور خواہش سن کر مجھے پاگل کہہ رہی ہو – ” کوٌے نے اس بار پہلے سے بھی زیادہ بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا –
” تم خواہ مخواہ برا مان رہے ہو، میں تو تمھیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ہماری فطرت یہی ہے اور ہر شے قانونِ فطرت کے تحت پیدا ہوتی ہے، آگے بڑھتی ہے اور پھر ختم ہو جاتی ہے – “کوئل نے کوے کو تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا –
“اور بھی بتاؤ، میں سُن رہا ہوں -” کوٌے نے دل چسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا –
” بَس یہ یاد رکھو کہ قانونِ فطرت میں تبدیلی ممکن نہیں ہے، جیسا کہ تمھاری خصوصیت یہ ہے کہ تم کائیں کائیں کرتے ہو، انسانی آبادی کے قریب آ کر بَس جاتے ہو اور جب کوٌا کہیں آ کر بسیرا کر لیتا ہے اور اپنا گھونسلا بنا دیتا ہے تو ہم کوئلیں بھی وہاں پہنچ جاتی ہیں تاکہ تمھارے گھونسلوں میں اپنے انڈے دے سکیں -” کوئل نے کہا –
” مگر یہ تو غلط ہے، جہاں ہم جاتے ہیں وہاں تم کیوں آتی ہو-؟ “کوٌے نے کہا –
” اس لیے کہ ہم اپنا گھونسلا نہیں بناتے، ہم سے پہلے بھی کوئلیں ایسے ہی کرتی رہی ہیں مگر تم کوے بھی تو ہمارے پیچھے پَڑ جاتے ہو، جب کوئی کوئل تمھارے گھونسلے کے قریب سے گزرتی ہے تو تم سارے کے سارے ہمارے پیچھے لگ جاتے ہو – “اس بار کوئل نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا-
” اور جب ہم تمھارے پیچھے لگتے ہیں تو تم اس وقت ہمارے گھونسلوں میں آکر ہمارے دیے ہوئے انڈے گرا دیتی ہو اور اپنے انڈے رکھ کر چلی جاتی ہو – “کوٌے نے بھی ذرا غصے سے کہا –
قریب ہی درخت پر بیٹھی ایک مینا ان کی باتیں سُن رہی تھی اس نے ان دونوں سے کہا کہ ” تم دونوں کیوں فضول میں لڑ رہے ہو جب کہ تم دونوں اپنی اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزار رہے ہو اور قدرت نے ہم سب کو جو خاص پہچان اور آواز دی ہے ہمارے لیے وہی سب سے بہتر ہے، البتہ کوٌے کی یہ خواہش غلط ہے کہ وہ بھی کوئل کی طرح کیوں کُوکُو نہیں کرتا، جو پہچان اور آواز ہمارے لیے قدرت نے طے کر دی ہے ہمارے لیے وہی سب سے بہتر ہے – ” مینا نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سچائی کے ساتھ دونوں کو سمجھایا-
” میں بھی کوٌے کو یہی سمجھا رہی ہوں مینا جی، مگر یہ بے وقوف مانتا ہی نہیں – ” کوئل نے مینا سے کہا –
” یہ بے وقوف نہیں ہے کیوں کہ کوٌے کی تو ہوشیاری اور چالاکی بہت مشہور ہے،کوٌے کی ذہانت کی تو سائنس نے بھی تصدیق کر دی ہے -” اس بار مینا نے کوٌے کی تعریف کرتے ہوئے کہا اور کوا خوشی سے کائیں کائیں کرنے لگا –
” تو پھر کوٌے نے یہ کیوں کہا کہ یہ ہماری طرح کُوکنا چاہتا ہے-؟ “کوئل نے مینا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا –
” ارے چھوڑو بھی اس بات کو، یہ کوٌا ابھی بچہ ہی تو ہے،کہہ دیا تو کہہ دیا، تم کیا کوٌے کے پیچھے پَڑ گئی ہو اور اس کی باتوں میں مِین میکھ (عیب) نکال رہی ہو ، اب تمھارا دوست کوٌا یہ سمجھ گیا ہے کہ قدرت نے ہم سب کی آوازیں ہماری اپنی پہچان کے لیے ایسے ہی بنائی ہیں لہٰذا جب کوٌا بولتا ہے تو کائیں کائیں کرتا ہے، کوئل بولتی ہے تو کُو کُو کرتی ہے اسی طرح کبوتر غُٹَر غُوں کرتا ہے، چڑیا چہچہاتی ہے اور چُوں چُوں کرتی ہے، مرغی کُڑکُڑاتی ہے، بکری مِمیاتی ہے اور میں میں کرتی ہے، گھوڑا ہِنہِناتا ہے، گدھا رِینکتا ہے اور ڈِھینچوں ڈِھینچوں کرتا ہے، شیر دَھاڑتا ہے، ہاتھی چِنگھاڑتا ہے، بھیڑیا غُراتا ہے،اونٹ بِلبِلاتا ہے اور مَستی میں بَغبَغاتا ہے، اُلٌو ہُوکتا ہے، سانپ اور اَژدھا پُھنکارتا ہے، گلہری چٹ چٹاتی ہے، مینڈک ٹَرٌاتا ہے اور ٹَر ٹَر کرتا ہے ، چیل چِلٌاتی ہے، بندر خوخیاتاہے اور بندر کے بولنے کو گِھگیانا بھی کہتے ہیں، گائے رانبھتی ہے بھینس کی آواز کو ڈَکرانا کہتے ہیں یعنی بھینس ڈَکراتی ہے، بیل بھی ڈَکراتا ہے، بلی میاؤں میاؤں کرتی ہے، بَطخ قیں قیں کرتی ہے، توتا ٹیں ٹیں کرتا ہے، جھینگر اور مُورجھَنکارتا ہے، مکھی بِھنبِھناتی ہے اور بِھن بِھن کرتی ہے -” “مینا نے بہت ہی سمجھ داری کے ساتھ مختلف جانوروں اور پرندوں کی آوازوں کے حوالے سے کوے کو بتاتے ہوئے کہا –
” میں تمھاری بات اب بہت اچھی طرح سے سمجھ گیا ہوں اور اتفاق کرتا ہوں، واقعی یہ قدرت کا ہی کام ہے، ہمیں جو پہچان اور آواز اللہ تعالٰی نے عطا کی ہے وہی ہمارے لیے سب سے بہترین ہے، ہر بات میں اللہ تعالٰی کی حِکمَت پوشیدہ ہے، ہم سب کے بولنے کا انداز اور آواز فطری ہے – “کوٌے نے اس بار سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے اور سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا –
” بہت اچھی بات ہے کہ تم نے سچائی مان لی ورنہ تم تو فضول امید کی توقع پر تھے کہ میں بھی کوئل کی طرح کُوکُو کروں ، یعنی ” ڈھور مَرے نہ کوٌا کھائے” کوئل نے اس بار ہنستے ہوئے کہا –
کوٌا، مینا کی باتوں کو سُن اور سمجھ کر اپنی پہچان اور آواز پر خوشی اور فخر کا احساس کرتے ہوئے وہاں سے اُڑ گیا، اُس کی پَرواز میں یہ خوشی اور فخر قانونِ فطرت کو سمجھ جانے کی وجہ سے تھا –
بچو! اللہ تعالیٰ نے تمام جان داروں کو فطرت (قدرتی طور پر پیدا کی ہوئی کائنات) کے عین مطابق پیدا کیا ہے ،فطری زندگی کی ہی بدولت ہمیں محبت اور ہمدردی کے جذبات سے آگاہ کرایا ہے تاکہ ہم نہ صرف ایک دوسرے کے دکھ درد سمجھ سکیں بلکہ بے زبان مخلوقات کا بھی درد سمجھ سکیں اس لیے ہماری زندگی کی رونق فطرت سے قربت (نزدیکی) اور اس سے آشنائی (آگہی) ہی میں ہے –
فطرت کے حسین مناظر سب ہی کو پسند ہوتے ہیں، پرندوں کا چِہچَہانا، درخت ،پھول، سبزہ، دریا ،سمندر، چاند، سورج، حسین وادیاں، موسم اور بہت کچھ ،ہر کسی کو ہی ان سے عشق ہوتا ہے –
بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے –