
کیوبا کے قیدیوں نے کرووم ڈیٹینشن سینٹر میں احتجاج کیا، “SOS” کا نشان بنایا

5 جون 2025 کو، کیوبا کے کچھ قیدیوں نے فلوریڈا کے کرووم ڈیٹینشن سینٹر کے احاطے میں احتجاج کیا اور انہوں نے اپنے جسموں سے “SOS” کا نشان بنایا۔ یہ علامت مدد کی ایک عالمی اپیل ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ قیدی اپنی حالتِ زار سے پریشان ہیں اور فوری توجہ چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ قیدی کئی ماہ سے حراست میں ہیں اور انہیں ان کے ویزے یا پناہ گاہ کے حصول کے لیے طویل انتظار کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ انسانی سلوک نہیں کیا جا رہا اور ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہو رہیں۔ احتجاج کے دوران قیدیوں نے امن پسندی کا مظاہرہ کیا، لیکن ان کی یہ کوشش ہے کہ ان کی آواز حکام تک پہنچے۔
امریکی امیگریشن حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، لیکن ابھی تک کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں قیدیوں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے ساتھ بہتر سلوک یقینی بنائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس احتجاج کے بعد قیدیوں کے مسائل پر توجہ دی جاتی ہے یا نہیں۔























