’سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ‘ نے درسی کتاب میں سابق مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کو ’فراری‘ لکھنے کے معاملے پر معذرت کرلی۔

سندھ بھر کے اسکولوں و کالجز کے لیے درسی کتابیں تیار کرنے اور شائع کرنے والے ادارے ’سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ‘ نے اپنی ایک درسی کتاب میں سابق مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کو ’فراری‘ لکھنے کے معاملے پر معذرت کرلی۔

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے سال 2021 اور 2022 کے تعلیمی سال کے لیے تیار کی گئی ساتویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب کے ایک سبق میں مضمون میں مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے سندھ میں آکر بسنے والے افراد کو ’فراری‘ لکھا تھا۔

عرب نشریاتی ادارے ’اردو نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے معاشرتی علوم کی کتاب میں ’ہجرت اور آبادکاری‘ کے عنوان سے شائع ایک مضمون میں سابق مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والے افراد کے لیے تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق معاشرتی علوم کی کتاب میں سابق مشرقی پاکستان کے افراد کو ’بہاریوں‘ یا مہاجرین کے بجائے ’فراری‘ لکھا گیا تھا جس پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اور سندھ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مضمون میں بتایا گیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بہاری پناہ گزینوں کی بستی 1980 میں آباد ہوئی اور 12 لاکھ بہاری بنگلہ دیش سے ’فرار‘ ہو کر سندھ آئے تھے۔

سابق مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آباد ہونے والے افراد کے لیے تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرنے پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو جماعت اسلامی کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بورڈ کے چیئرمین آغا سہیل احمد نے معاملے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی بنادی—فوٹو: سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ویب سائٹ
اردو نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا اور جماعت اسلامی کی جانب سے سخت تنقید کیے جانے کے بعد سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے بہاریوں کے لیے ’فراری‘ کا لفظ استعمال کرنے پر معذرت کرلی۔

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین آغا سہیل احمد نے بہاریوں کے حوالے سے توہین آمیز لفظ استعمال کیے جانے پر معافی مانگتے ہوئے اس بات کی یقین دہائی کرائی کی کتاب کی غلطی کو درست کرلیا جائے گا۔

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا کہنا تھا کہ مذکورہ کتاب آزمائشی بنیادوں پر شائع کی گئی تھی تاہم اس کتاب میں موجود غلطی کو درست کرلیا جائے گا اور معاملے کی مزید تحقیق کے لیے کمیٹی بھی بنادی گئی۔

واضح رہے کہ سابق مشرقی پاکستان 1971 میں پاکستان سے الگ ہوا تھا جس کے بعد اس کا نام بنگلہ دیش رکھا گیا۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد وہاں لاکھوں افراد کے لیے زمین تنگ کردی گئی تھی جس وجہ سے وہاں رہنے والے لوگوں نے پاکستان کی جانب ہجرت کی تھی اور وہاں سے آنے والے زیادہ تر افراد صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آکر بسے تھے۔

مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والے افراد کو بنگالی بھی کہا جاتا ہے تاہم وہاں سے ہجرت کرکے آنے والے زیادہ تر افراد کی تعداد ’بہاریوں‘ پر مشتمل تھی جو متحدہ ہندوستان میں ریاست بہار کے اندر رہتے تھے تاہم تقسیم ہند کے بعد وہ وہاں سے ہجرت کرکے پہلے سابق مشرقی پاکستان گئے اور بعد ازاں یہاں آگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں