کراچی میں عوامی نقل و حمل: پیپلز پارٹی حکومت کی کوششیں اور نئے منصوبے- “کراچی میں رنگ برنگی بسیں اور نئے ذرائع آمدورفت: عوامی ٹرانسپورٹ میں انقلاب!”


کراچی، جسے پاکستان کا معاشی دل کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے ناقص عوامی نقل و حمل کے مسائل سے دوچار رہا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کی زیرقیادت سندھ حکومت نے حالیہ برسوں میں شہر کی ٹرانسپورٹ سروسز کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں رنگ برنگی بسیں، الیکٹرک گاڑیاں، اسکوٹیز اور نئے ٹیکسی سسٹمز شامل ہیں، جو نہ صرف شہریوں کے سفر کو آسان بنا رہے ہیں بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔

کراچی میں چلنے والی مختلف رنگوں کی بسیں
1. ریڈ بسیں (سرخ بسیں)
یہ کراچی میں عوامی نقل و حمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔

یہ ائیرکنڈیشنڈ اور جدید سہولیات سے لیس ہیں۔

مختلف روٹس پر چلائی جا رہی ہیں، جن میں کورنگی سے صدر تک اور لیاری سے سول ہسپتال تک کے راستے شامل ہیں۔

ان بسیوں کا مقصد عام شہریوں کو سستا اور آرام دہ سفر فراہم کرنا ہے۔

2. پنک بسیں (گلابی بسیں)
خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے مختص۔

خواتین ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

یہ بسیں محفوظ اور ہراسانی سے پاک ماحول فراہم کرتی ہیں۔

فی الحال یہ ناظم آباد، گلشنِ اقبال اور ملیر جیسے علاقوں میں چل رہی ہیں۔

3. وائٹ بسیں (سفید الیکٹرک بسیں – EV Buses)
ماحول دوست الیکٹرک بسیں جو شور اور آلودگی کو کم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔

یہ کراچی کے مختلف علاقوں بشمول کلفٹن، ڈیفنس اور سندھ گورنمنٹ سیکریٹیریٹ کے درمیان چلائی جا رہی ہیں۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ مستقبل میں مزید الیکٹرک بسیں لائی جائیں تاکہ شہر کو صاف توانائی کی طرف منتقل کیا جا سکے۔

4. گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT)
یہ منصوبہ کراچی کا پہلا جدید بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہے۔

اس وقت یہ سورجانی ٹاؤن سے پرانا نمائش تک چل رہا ہے۔

مستقبل میں اسے کورنگی اور دیگر علاقوں تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

اس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس میں الیکٹرانک ٹکٹنگ اور ریئل ٹائم ٹریکنگ شامل ہے۔

نئے اقدامات: اسکوٹیز اور ٹیکسی سروسز
1. خواتین کے لیے اسکوٹیز
سندھ حکومت نے خواتین اور لڑکیوں کی سہولت کے لیے اسکوٹیز متعارف کرائی ہیں۔

یہ اسکیم خاص طور پر طالبات اور کام کرنے والی خواتین کے لیے بنائی گئی ہے۔

اسکیم کے تحت لاگت پر قرضے بھی دیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین فائدہ اٹھا سکیں۔

2. نوجوانوں کے لیے ٹیکسی سروسز
نوجوان ڈرائیورز کو روزگار دینے کے لیے ایک نیا ٹیکسی نیٹ ورک شروع کیا گیا ہے۔

اس میں جدید ایپ بیسڈ سروسز بھی شامل کی گئی ہیں۔

نوجوانوں کو گاڑیاں قرضے پر دی جا رہی ہیں تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

حکومتی دعوے اور عوامی ردعمل
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تمام منصوبے کراچی کو ایک جدید اور منظم شہر بنانے کی طرف اہم قدم ہیں۔ تاہم، کچھ شہریوں کا خیال ہے کہ ان منصوبوں کو مکمل ہونے میں بہت وقت لگ رہا ہے اور کچھ راستوں پر ابھی تک مناسب خدمات دستیاب نہیں۔

آخر میں
اگر یہ تمام اقدامات کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو کراچی کا عوامی نقل و حمل کا نظام پورے پاکستان کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ منصوبے وقت پر مکمل ہوتے ہیں یا پھر کاغذوں تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔